کتب حدیث ›
صحيح البخاري › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ کا سورۃ آل عمران میں فرمانا ”جو لوگ اللہ کا نام لے کر عہد کر کے قسمیں کھا کر اپنی قسموں کے بدلہ میں تھوڑی پونجی (دنیا کی مول لیتے ہیں) یہی وہ لوگ ہیں، جن کا آخرت میں کوئی حصہ نیک نہیں ہو گا“۔
حدیث نمبر: Q6676
وَقَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ: {وَلاَ تَجْعَلُوا اللَّهَ عُرْضَةً لأَيْمَانِكُمْ أَنْ تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا وَتُصْلِحُوا بَيْنَ النَّاسِ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ}. وَقَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ: {وَلاَ تَشْتَرُوا بِعَهْدِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلاً إِنَّ مَا عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ}، {وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ وَلاَ تَنْقُضُوا الأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلاً}.
مولانا داود راز
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان «ولا تجعلوا الله عرضة لأيمانكم أن تبروا وتتقوا وتصلحوا بين الناس والله سميع عليم» ” اور اللہ ان سے بات بھی نہیں کرے گا اور نہ قیامت کے دن ان کی طرف رحمت کی نظر ہی کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور انہیں درد ناک عذاب ہو گا “ اور اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ البقرہ میں ) ارشاد «ولا تشتروا بعهد الله ثمنا قليلا إن ما عند الله هو خير لكم إن كنتم تعلمون» ” اور اللہ کو قسمیں کھا کر نیکی اور پرہیزگاری اور لوگوں میں میل کرا دینے کی روک نہ بناؤ اور اللہ سنتا جانتا ہے “ اور ( سورۃ النحل میں ) فرمایا «وأوفوا بعهد الله إذا عاهدتم ولا تنقضوا الأيمان بعد توكيدها وقد جعلتم الله عليكم كفيلا» ” اللہ کا عہد کر کے دنیا کا تھوڑا سا مول مت لو ۔ اللہ کے پاس جو کچھ ثواب اور اجر ہے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھو اور اسی صورت میں فرمایا اور اللہ کا نام لے کر جو عہد کرو اس کو پورا کرو اور قسموں کو پکا کرنے کے بعد پھر نہ توڑو ( کیسے توڑو گے ) تم اللہ کی ضمانت اپنی بات پر دے چکے ہو ۔“
حدیث نمبر: 6676
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَ ذَلِكَ : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
مولانا داود راز
´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس نے جھوٹی قسم اس طور سے کھائی کہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ناجائز طریقہ سے حاصل کرے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر نہایت ہی غصہ ہو گا ۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق وحی کے ذریعہ نازل کی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» کہ ” بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے معمولی دنیا کی پونجی خریدتے ہیں “ آخر آیت تک ۔
حدیث نمبر: 6677
فَدَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ ، فَقَالَ : مَا حَدَّثَكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقَالُوا : كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فِيَّ أُنْزِلَتْ ، كَانَتْ لِي بِئْرٌ فِي أَرْضِ ابْنِ عَمٍّ لِي ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " بَيِّنَتُكَ أَوْ يَمِينُهُ " ، قُلْتُ : إِذًا يَحْلِفُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ، لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " .
مولانا داود راز
عبداللہ یہ حدیث بیان کر چکے تھے ، اتنے میں اشعث بن قیس آئے اور پوچھا کہ ابوعبدالرحمٰن نے تم لوگوں سے کیا حدیث بیان کی ہے ؟ لوگوں نے کہا اس اس مضمون کی ۔ انہوں نے کہا اجی یہ آیت تو میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی میرے ایک چچازاد بھائی کی زمین میں میرا ایک کنواں تھا اس کے جھگڑے کے سلسلہ میں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے گواہ لاؤ ورنہ مدعاعلیہ سے قسم لی جائے گی ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! پھر وہ تو جھوٹی قسم کھا لے گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جھوٹی قسم بدنیتی کے ساتھ اس لیے کھائی کہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر جائے تو قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اللہ اس پر انتہائی غضب ناک ہو گا ۔