مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: یوں کہنا منع ہے کہ جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں (وہ ہو گا) اور کیا کوئی شخص یوں کہہ سکتا ہے کہ مجھ کو اللہ کا آسرا ہے پھر آپ کا؟
حدیث نمبر: 6653
وَقَالَ عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ ثَلَاثَةً فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَبْتَلِيَهُمْ ، فَبَعَثَ مَلَكًا فَأَتَى الْأَبْرَصَ فَقَالَ : تَقَطَّعَتْ بِيَ الْحِبَالُ ، فَلَا بَلَاغَ لِي إِلَّا بِاللَّهِ ، ثُمَّ بِكَ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ " .
مولانا داود راز
´اور عمرو بن عاصم نے کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسحاق بن عبداللہ نے ، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے ، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ،` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل میں تین شخص تھے اللہ نے ان کو آزمانا چاہا ( پھر سارا قصہ بیان کیا ) فرشتے کو کوڑھی کے پاس بھیجا وہ اس سے کہنے لگا میری روزی کے سارے ذریعے کٹ گئے ہیں اب اللہ ہی کا آسرا ہے پھر تیرا ( یا اب اللہ ہی کی مدد درکار ہے پھر تیری ) پھر پوری حدیث کو ذکر کیا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6653
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔