حدیث نمبر: 1630
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: "حَمَلَنِي عَلَى عَاتِقِهِ، فَأَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَأَدْخَلْتُهَا فِي فَمِي، فَقَالَ لِي: "أَلْقِهَا، أَمَا شَعَرْتَ أَنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ؟" . قَالَ: وَكَانَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ: "اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ" . .
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوحوراء سعدی نے کہا: میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا چیز یاد ہے؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار مجھے اپنے کندھے پر بٹھا لیا، میں نے صدقہ کی کھجور میں سے ایک کھجور لی اور اپنے منہ میں ڈال لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اگل دو، کیا تم کو معلوم نہیں کہ ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے“، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم (وتر میں) یہ دعا کرتے تھے: «اَللّٰهُمَّ اهْدِنِيْ ...... تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ» ۔ ”اے الله جن لوگوں کو تو ہدایت فرمائے ان کے ساتھ مجھے بھی ہدایت دے، اور جن کو تو عافیت دے ان کے ساتھ مجھے بھی عافیت دے، اور جن کا تو کارساز ہے ان کے ساتھ میرا بھی کارساز بن، اور ان تمام چیزوں میں جو تو نے مجھے دی ہیں برکت دے، اور جو تو نے میرے لئے مقدر کیا ہے مجھے اس کے شر سے بچا، تیرا ہی حکم چلتا ہے اور تیرے اوپر کسی کا حکم نہیں چلتا، جس کا تو دوست ہو گیا وہ ذلیل و خوارنہیں ہوتا، تو بڑی برکت والا بڑی شان والا ہے۔“
حدیث نمبر: 1631
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي الْقُنُوتِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ ..
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کلمات یاد کرائے جو میں قنوت میں کہتا ہوں۔ پھر مذکورہ بالا دعا ذکر کی، یعنی «اَللّٰهُمَّ اهْدِنِيْ فِيْمَنْ هَدَيْتَ ........... الخ» ۔
حدیث نمبر: 1632
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ: "اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ" . قَالَ أَبُو مُحَمَّد: أَبُو الْحَوْرَاءِ اسْمُهُ: رَبِيعَةُ بْنُ شَيْبَانَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوحوراء سعدی سے مروی ہے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ کلمات یاد کرائے جو میں قنوت وتر میں پڑھتا ہوں اور «اَللّٰهُمَّ اهْدِنِيْ فِيْمَنْ هَدَيْتَ آخرتك پڑهي تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ» تک۔ امام دارمی ابومحمد رحمہ اللہ نے کہا: ابوحوراء سعدی کا نام ربیعہ بن شیبان ہے۔ ٭بعض نسخ میں ابوالجوزاء طبع ہو گیا ہے جو غلط ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1629 سے 1632)
ان احادیث سے وتر کے قنوت میں یہ دعا: «اَللّٰهُمَّ اهْدِنِيْ فِيْمَنْ هَدَيْتَ ....... إلخ» پڑھنا ثابت ہوا، امام دارمی رحمہ اللہ نے صرف اسی پر اکتفا کیا، ہو سکتا ہے دوسری دعا «اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِيْنُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ .... إلخ» ان کے نزدیک اس درجہ کی نہ ہو، واللہ اعلم۔
ان احادیث سے وتر کے قنوت میں یہ دعا: «اَللّٰهُمَّ اهْدِنِيْ فِيْمَنْ هَدَيْتَ ....... إلخ» پڑھنا ثابت ہوا، امام دارمی رحمہ اللہ نے صرف اسی پر اکتفا کیا، ہو سکتا ہے دوسری دعا «اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِيْنُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ .... إلخ» ان کے نزدیک اس درجہ کی نہ ہو، واللہ اعلم۔