حدیث نمبر: 1516
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ، فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ، كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنْ اللَّيْلِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص اپنے وظیفے کو یا اس میں سے کسی چیز کو چھوڑ کر سو گیا اور اس کو فجر اور ظہر کے درمیان پڑھ لیا تو اس کے لئے ایسا ہی لکھ دیا جاتا ہے گویا اس نے رات میں ہی پڑھا ہے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 1515)
ابوداؤد کی روایت میں ہے: اس کو ثواب رات میں ہی پڑھنے کا لکھ دیا جاتا ہے اور اس کا سونا (نیند) اس کے اوپر صدقہ ہوتا ہے۔
یہ الله تعالیٰ کی رحمت و مہربانی ہے کہ بندہ اگر رات میں اٹھ کر نماز کی نیّت کر کے سویا تو سونے کے باوجود اس کو رات میں ہی عبادت کرنے کا ثواب اور سونے کا بھی اجر ملتا ہے (سبحان الله العظيم)، نیز یہ کہ جو شخص تہجد پڑھتا ہو اور کبھی کبھار نہ اٹھ سکے، سوتا رہ جائے تو ظہر سے پہلے اس کو تہجد کی نماز پڑھ لینی چاہیئے، البتہ گیارہ رکعت کے بجائے بارہ رکعت نماز پڑھے کیونکہ وتر رات کی نماز ہے اور جیسا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے جس کا ذکر ابھی گذر چکا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد چھوٹ جانے پر دن میں ظہر سے پہلے 12 رکعت پڑھ لیتے تھے۔
ابوداؤد کی روایت میں ہے: اس کو ثواب رات میں ہی پڑھنے کا لکھ دیا جاتا ہے اور اس کا سونا (نیند) اس کے اوپر صدقہ ہوتا ہے۔
یہ الله تعالیٰ کی رحمت و مہربانی ہے کہ بندہ اگر رات میں اٹھ کر نماز کی نیّت کر کے سویا تو سونے کے باوجود اس کو رات میں ہی عبادت کرنے کا ثواب اور سونے کا بھی اجر ملتا ہے (سبحان الله العظيم)، نیز یہ کہ جو شخص تہجد پڑھتا ہو اور کبھی کبھار نہ اٹھ سکے، سوتا رہ جائے تو ظہر سے پہلے اس کو تہجد کی نماز پڑھ لینی چاہیئے، البتہ گیارہ رکعت کے بجائے بارہ رکعت نماز پڑھے کیونکہ وتر رات کی نماز ہے اور جیسا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے جس کا ذکر ابھی گذر چکا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد چھوٹ جانے پر دن میں ظہر سے پہلے 12 رکعت پڑھ لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 1517
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَنْزِلُ اللَّهُ تَعَالَى إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا كُلَّ لَيْلَةٍ لِنِصْفِ اللَّيْلِ الْآخِرِ، أَوْ لِثُلُثِ اللَّيْلِ الْآخِرِ، فَيَقُولُ: مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي، فَأُعْطِيَهُ ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ؟ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ أَوْ يَنْصَرِفَ الْقَارِئُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہر رات اس وقت آسمان دنیا پر اترتا ہے جب رات کا آخری نصف حصہ باقی رہ جاتا ہے، یا جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اور فرماتا ہے: کون ہے مجھ سے دعا کرنے والا کہ میں اس کی دعا قبول کر لوں؟ کون ہے مجھ سے مانگنے والا کہ میں اسے عطا کردوں؟ کون ہے مجھ سے بخشش طلب کرنے والا کہ میں اس کو بخش دوں؟ یہاں تک کہ فجر ہو جائے، یا پڑھنے والا نماز فجر سے فارغ ہو جائے (یعنی اس وقت تک یہ پکار ہوتی رہتی ہے)۔“
حدیث نمبر: 1518
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرُّ صَاحِبَا أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ اسْمُهُ كُلَّ لَيْلَةٍ حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ؟ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ؟ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ؟ حَتَّى الْفَجْرِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا پروردگار جس کا نام بابرکت ہے، ہر رات اس وقت آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے جب کہ رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، وہ فرماتا ہے: جو کوئی مجھ سے دعا کرے گا میں اس کی دعا قبول کر لوں گا، جو کوئی مجھ سے مغفرت طلب کرے گا میں اسے معاف کر دوں گا، اور جو مجھ سے مانگے گا میں اس کی جھولی بھر دوں گا، (صبح) فجر تک یہ منادی ہوتی رہتی ہے۔“
حدیث نمبر: 1519
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "يَنْزِلُ اللَّهُ تَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ ؟".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے: ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اسے مالا مال کر دوں؟ ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا کہ میں اس کو بخش دوں؟“
حدیث نمبر: 1520
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا مَضَى مِنْ اللَّيْلِ نِصْفُهُ أَوْ ثُلُثَاهُ، هَبَطَ اللَّهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، ثُمَّ يَقُولُ: لَا أَسْأَلُ عَنْ عِبَادِي غَيْرِي، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ؟ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ" .
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا رفاعہ بن عرابہ جہنی رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رات کا نصف یا دو تہائی حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر آتا ہے اور طلوع فجر تک اعلان فرماتا ہے: میں اپنے بندوں کے بارے میں کسی سے نہ پوچھوں گا، کون ہے جو مجھ سے مانگے میں اسے عطا کر دوں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے اور میں اسے بخش دوں؟ کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کر لوں۔“
حدیث نمبر: 1521
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رِفَاعَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء بن یسار کی حدیث بھی اسی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 1522
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُخْتَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفُ اللَّيْلِ"فَذَكَرَ النُّزُولَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رات کا تہائی یا نصف حصہ ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ “ اور نزول کی مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 1523
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أُمِّ صُبَيَّةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، فَإِنَّهُ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ، هَبَطَ اللَّهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَلَمْ يَزَلْ هُنَالِكَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، يَقُولُ قَائِلٌ: أَلَا سَائِلٌ يُعْطَى؟ أَلَا دَاعٍ يُجَابُ؟ أَلَا سَقِيمٌ يَسْتَشْفِي فَيُشْفَى؟ أَلَا مُذْنِبٌ مُسْتَغْفِرٌ فَيُغْفَرَ لَهُ؟" .
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: ”اگر میں اپنی امت پر مشقت محسوس نہ کرتا تو ان کو ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا اور عشاء کی نماز میں تہائی رات تک تاخیر کرتا، کیونکہ جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر آتا ہے اور طلوع فجر تک وہاں رہتا ہے، اور فرشتہ منادی کرتا ہے: کیا کوئی مانگنے والا نہیں جسے دیا جائے، کیا کوئی دعا کرنے والا نہیں کہ دعا قبول کی جائے، کیا کوئی بیمار نہیں جس کو شفا دی جائے، کیا کوئی ایسا گناہ کرنے والا نہیں جو مغفرت طلب کرے اور اسے بخش دیا جائے؟“
حدیث نمبر: 1524
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي عَمِّي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے مثل مروی ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1516 سے 1524)
ان تمام احادیثِ صحیحہ سے الله تعالیٰ کا آسمانِ دنیا پر آنا اور منادی کرنا ثابت ہوا جو بلا تکییف و تمثیل صحیح اور ثابت ہے، عقل کا اس میں کوئی دخل نہیں اور نہ اس کی مخلوق سے تشبیہ جائز ہے۔
اہلِ حدیث اور سلف صالحین کا یہی عقیدہ ہے جس طرح ان کا عقیدہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ مستوی عرش ہے اور اس کی رحمت و علم ساری کائنات کو محیط ہے۔
اللہ تعالیٰ کے آسمانِ دنیا پر آنے کا ذکر 7 آیاتِ شریفہ اور 15 احادیثِ مبارکہ صحیحہ سے ثابت ہے اس لئے یہ تاویل کرنا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اترتی ہے یا یہ کہ فرشتہ اترتا ہے بالکل لغو اور باطل ہے جس کی تفصیل علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب «نزول الرّب إلى السماء الدنيا» میں دیکھی جا سکتی ہے، بعض میں اوّل اللیل میں، اور بعض میں بیچ رات میں، اور کچھ احادیث میں آخری تہائی رات میں اللہ تعالیٰ کا آسمانِ دنیا پر آنا ذکر ہے، تو ہو سکتا ہے کبھی رات کے پہلے تہائی حصہ میں اور کبھی بیچ رات میں اور کبھی آخری تہائی حصے میں نزول جلّ شانہ ہو، اسی لئے کبھی کبھی حبیبِ الٰہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اوّل حصے میں اور کبھی بیچ میں اور کبھی آخری تہائی میں وتر پڑھتے تھے اور آخری تہائی حصے ہی سے فجر سے پہلے تہجد پڑھنے کی فضیلت معلوم ہوئی کہ رب ذو الجلال کا نزولِ مبارک اس ساعت میں آسمانِ دنیا پر ہوتا ہے۔
(اللہ تعالیٰ اس کی تو فیق بخشے، آمین)۔
ان تمام احادیثِ صحیحہ سے الله تعالیٰ کا آسمانِ دنیا پر آنا اور منادی کرنا ثابت ہوا جو بلا تکییف و تمثیل صحیح اور ثابت ہے، عقل کا اس میں کوئی دخل نہیں اور نہ اس کی مخلوق سے تشبیہ جائز ہے۔
اہلِ حدیث اور سلف صالحین کا یہی عقیدہ ہے جس طرح ان کا عقیدہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ مستوی عرش ہے اور اس کی رحمت و علم ساری کائنات کو محیط ہے۔
اللہ تعالیٰ کے آسمانِ دنیا پر آنے کا ذکر 7 آیاتِ شریفہ اور 15 احادیثِ مبارکہ صحیحہ سے ثابت ہے اس لئے یہ تاویل کرنا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اترتی ہے یا یہ کہ فرشتہ اترتا ہے بالکل لغو اور باطل ہے جس کی تفصیل علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب «نزول الرّب إلى السماء الدنيا» میں دیکھی جا سکتی ہے، بعض میں اوّل اللیل میں، اور بعض میں بیچ رات میں، اور کچھ احادیث میں آخری تہائی رات میں اللہ تعالیٰ کا آسمانِ دنیا پر آنا ذکر ہے، تو ہو سکتا ہے کبھی رات کے پہلے تہائی حصہ میں اور کبھی بیچ رات میں اور کبھی آخری تہائی حصے میں نزول جلّ شانہ ہو، اسی لئے کبھی کبھی حبیبِ الٰہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اوّل حصے میں اور کبھی بیچ میں اور کبھی آخری تہائی میں وتر پڑھتے تھے اور آخری تہائی حصے ہی سے فجر سے پہلے تہجد پڑھنے کی فضیلت معلوم ہوئی کہ رب ذو الجلال کا نزولِ مبارک اس ساعت میں آسمانِ دنیا پر ہوتا ہے۔
(اللہ تعالیٰ اس کی تو فیق بخشے، آمین)۔