حدیث نمبر: 1486
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ" .
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کی اقامت کہی جائے تو سوائے فرض نماز کے کوئی نماز نہیں۔“
حدیث نمبر: 1487
أَخْبَرَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسُ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ وَرْقَاءَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی روایت کیا۔
حدیث نمبر: 1488
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ: أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَرَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، لَاثَ بِهِ النَّاسُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا ؟".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نماز کی اقامت ہو چکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایسے شخص پر پڑی جو دو رکعت سنت پڑھ رہا تھا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے اسے گھیر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو (فجر)، صبح کی چار رکعتیں پڑھتا ہے۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 1485 سے 1488)
یعنی اقامت (تکبیر) کے بعد کوئی نماز فرض نماز کے علاوہ پڑھنا حیرت انگیز اور غیر معروف تھا، اسی لئے صحابہ کرام انہیں گھیر کر بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکیر کرتے ہوئے فرمایا: کیا صبح کی نماز چار رکعت پڑھتے ہو؟
یعنی اقامت (تکبیر) کے بعد کوئی نماز فرض نماز کے علاوہ پڑھنا حیرت انگیز اور غیر معروف تھا، اسی لئے صحابہ کرام انہیں گھیر کر بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکیر کرتے ہوئے فرمایا: کیا صبح کی نماز چار رکعت پڑھتے ہو؟
حدیث نمبر: 1489
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ" . قَالَ أَبُو مُحَمَّد: إِذَا كَانَ فِي بَيْتِهِ، فَالْبَيْتُ أَهْوَنُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کی اقامت کہہ دی جائے (یعنی تکبیر)، تو پھر سوائے فرض نماز کے اور کوئی نماز نہیں۔“ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر گھر میں نماز پڑھ رہا ہو اور مسجد میں اقامت کہی جائے تو یہ نسبتاً آسان ہے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1488)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ جب جماعت کھڑی ہو جائے تو پھر سنتیں نہ پڑ ھے بلکہ جماعت میں شریک ہو جائے، یہ حکم عام اور سب سنتوں کو شامل ہے چاہے وہ فجر کی ہی سنیں کیوں نہ ہوں۔
اکثر علماء کا یہی قول ہے، اور بعد نمازِ فجر کے اختیار ہے چاہے تو اس وقت سنتیں پڑھ لے چاہے آفتاب نکلنے کے بعد پڑھے، جو لوگ اقامت کے بعد بھی سنتیں پڑھنے لگ جاتے ہیں وہ حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح مخالفت کرتے ہیں، انہیں یہ مخالفت ترک کر دینی چاہیے ورنہ انجام برا ہے۔
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ جب جماعت کھڑی ہو جائے تو پھر سنتیں نہ پڑ ھے بلکہ جماعت میں شریک ہو جائے، یہ حکم عام اور سب سنتوں کو شامل ہے چاہے وہ فجر کی ہی سنیں کیوں نہ ہوں۔
اکثر علماء کا یہی قول ہے، اور بعد نمازِ فجر کے اختیار ہے چاہے تو اس وقت سنتیں پڑھ لے چاہے آفتاب نکلنے کے بعد پڑھے، جو لوگ اقامت کے بعد بھی سنتیں پڑھنے لگ جاتے ہیں وہ حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح مخالفت کرتے ہیں، انہیں یہ مخالفت ترک کر دینی چاہیے ورنہ انجام برا ہے۔