کتب حدیثسنن دارميابوابباب: جو شخص اللہ کے لئے مسجد بنائے اس کا بیان
حدیث نمبر: 1430
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، أَنَّ عُثْمَانَ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَبْنِيَ الْمَسْجِدَ كَرِهَ النَّاسُ ذَلِكَ، فَقَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا، بَنَى اللَّهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ مِثْلَهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
محمود بن لبید سے مروی ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مسجد بنانے کا ارادہ فرمایا تو لوگوں نے اسے ناپسند کیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص اللہ کے لئے ایک مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لئے ویسا ہی ایک گھر جنت میں بنا دے گا۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 1429)
اس حدیث سے مسجد بنانے والے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
دوسری روایت میں ہے کہ جو شخص اللہ کی رضا کے لئے مسجد بنائے اللہ تعالیٰ اس کے لئے ویسا ہی ایک گھر جنّت میں بنائے گا۔
امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے 30ھ میں مسجدِ نبوی کی تعمیر و توسیع کا کام شروع کیا تو کچھ لوگوں نے اسے پسند نہیں کیا، اس پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ مرفوع حدیث پیش کی اور علی وجہ البصیرۃ مسجدِ نبوی میں توسیع کی، اور ویسے ہی گھر سے مراد یہ ہے کہ جیسے مسجد کو دنیا کے گھروں پر فضیلت ہوتی ہے ویسے ہی اس گھر کو جنّت کے اور گھروں پر فضیلت ہوگی، مقصود یہ نہیں ہے کہ مسجد کے برابر ہی جنّت میں گھر بنے۔
(علامہ وحیدالزماں رحمہ اللہ)۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصللاة / حدیث: 1430
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1432]» ¤ یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 450] ، [مسلم 533] ، [ترمذي 318] ، [ابن ماجه 736] ، [ابن حبان 1609]