کتب حدیثسنن دارميابوابباب: نفلی نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1423
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: "لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ، حَتَّى كَانَ قَبْلَ أَنْ يُتَوَفَّى بِعَامٍ وَاحِدٍ أَوْ عَامَيْنِ، فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَيُرَتِّلُ السُّورَةَ حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا" .
محمد الیاس بن عبدالقادر
ام المومنین سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مبارکہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بیٹھ کر نفلی نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ بس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے صرف ایک یا دو سال پہلے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے دیکھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ترتیل سے سورت کی قرأت کرتے اور وہ طویل سے طویل تر ہو جاتی۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصللاة / حدیث: 1423
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف من أجل عبد الله بن صالح كاتب الليث ولكن الحديث صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف من أجل عبد الله بن صالح كاتب الليث ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1425]» ¤ اس حدیث کی سند میں عبداللہ بن صالح ضعیف ہیں، لیکن یہ دوسری صحیح سند سے بھی موجود ہے۔ دیکھئے: [مسلم 733] ، [ترمذي 372] ، [نسائي 1657] ، [أبويعلی 7055] ، [ابن حبان 2530]
حدیث نمبر: 1424
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَنْبأَنَا مَالِكٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
عثمان بن عمر کے طریق سے بھی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث مروی ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1422 سے 1424)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمر میں بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنا کمزوری کی وجہ سے تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاصیت تھی، جیسا کہ پچھلے باب میں گذر چکا ہے، نیز یہ فعل ہے اور پچھلے باب میں حدیث قولی کا ذکر گزر چکا ہے اور حدیث کے قواعد کی رو سے قول فعل پر مقدم ہوتا ہے، ان تمام دلائل کی روشنی میں بیٹھ کر نفلی نماز پڑھنا کسی طرح سنّت نہیں ہو سکتا اور افضل کھڑے ہو کر ہی نماز پڑھنا ہے۔
واللہ اعلم
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصللاة / حدیث: 1424
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1426]» ¤ اس روایت کا حوالہ پچھلی حدیث میں گذر چکا ہے۔ نیز دیکھئے: [الموطأ: صلاة الجماعة: ۲۲]