حدیث نمبر: 1417
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عِسْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ "كَرِهَ السَّدْلَ"، وَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ناپسند کیا سدل کو اور ناپسندیدگی کو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1416)
امام خطابی رحمہ اللہ نے کہا: سدل یہ ہے کہ غرور و تکبر سے کپڑے کو چھوڑ دے، وہ زمین تک لٹکتا رہے۔
نہایہ میں ہے: سدل یہ ہے کہ کپڑا اوپر سے اوڑھ کر لٹکا لے جس طرح یہودی کرتے ہیں۔
بعض علماء نے کہا: سر پر چادر اوڑھ کر اس کو لٹکنے دے بکل نہ مارے۔
بعض نے کہا: جبہ میں سدل یہ ہے کہ اسے اوڑھ لے اور ہاتھ آستینوں کے اندر نہ کرے (علامہ وحید الزماں)۔
بعض احادیث میں سدل کی صریح ممانعت ہے جیسا کہ تخریج سے معلوم ہو سکتا ہے۔
امام خطابی رحمہ اللہ نے کہا: سدل یہ ہے کہ غرور و تکبر سے کپڑے کو چھوڑ دے، وہ زمین تک لٹکتا رہے۔
نہایہ میں ہے: سدل یہ ہے کہ کپڑا اوپر سے اوڑھ کر لٹکا لے جس طرح یہودی کرتے ہیں۔
بعض علماء نے کہا: سر پر چادر اوڑھ کر اس کو لٹکنے دے بکل نہ مارے۔
بعض نے کہا: جبہ میں سدل یہ ہے کہ اسے اوڑھ لے اور ہاتھ آستینوں کے اندر نہ کرے (علامہ وحید الزماں)۔
بعض احادیث میں سدل کی صریح ممانعت ہے جیسا کہ تخریج سے معلوم ہو سکتا ہے۔