حدیث نمبر: 1411
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، وَأَبُو الْوَلِيدِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ "يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خمرة پر نماز پڑھتے تھے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1410)
«خمرة» اس چھوٹے سے ٹکڑے کو کہتے ہیں جس پر فقط سجدے کے لئے سر رکھا جا سکے، چاہے وہ ٹکڑا چٹائی کا ہو، کپڑ ے کا ہو یا چھال گھاس وغیرہ کا بنا ہو۔
«خمرة» اس چھوٹے سے ٹکڑے کو کہتے ہیں جس پر فقط سجدے کے لئے سر رکھا جا سکے، چاہے وہ ٹکڑا چٹائی کا ہو، کپڑ ے کا ہو یا چھال گھاس وغیرہ کا بنا ہو۔
حدیث نمبر: 1412
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "صَلَّى عَلَى حَصِيرٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹائی پر نماز پڑھی۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1411)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ سجدہ زمین پر یا مٹی پر کرنا شرطِ واجب نہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نے خمره پر، چٹائی یا بوریے پر، بلکہ اپنے بستر پر بھی نماز پڑھی اور سجدہ کیا ہے، اس لئے سجاد، چٹائی، جائے نماز، مصلیٰ اور قالین پر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن نقش و نگار مصلے وغیرہ پر نہ ہو تو زیادہ بہتر ہے، والله اعلم۔
اللہ تعالیٰ سب کو اتباعِ سنّت کی توفیق بخشے۔
آمین
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ سجدہ زمین پر یا مٹی پر کرنا شرطِ واجب نہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نے خمره پر، چٹائی یا بوریے پر، بلکہ اپنے بستر پر بھی نماز پڑھی اور سجدہ کیا ہے، اس لئے سجاد، چٹائی، جائے نماز، مصلیٰ اور قالین پر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن نقش و نگار مصلے وغیرہ پر نہ ہو تو زیادہ بہتر ہے، والله اعلم۔
اللہ تعالیٰ سب کو اتباعِ سنّت کی توفیق بخشے۔
آمین