کتب حدیثسنن دارميابوابباب: ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1408
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُصَلِّي الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ؟ قَالَ: "أَوَ كُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ، أَوْ لِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ ؟".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آدمی ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ فرمایا: ”کیا تم میں سے ہر ایک دو کپڑے پاتا ہے یا ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہیں۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 1407)
اس حدیث میں استفہام انکاری ہے، یعنی تم میں سے ہر ایک کے پاس دو کپڑے نہیں ہیں، ایک ہی کپڑا ہے تو وہ ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصللاة / حدیث: 1408
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1410]» ¤ یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 358] ، [مسلم 515] ، [أبوداؤد 625] ، [نسائي 762] ، [أبويعلی 5883] ، [ابن حبان 2295] ، [الحميدي 966]
حدیث نمبر: 1409
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى عَاتِقِهِ مِنْهُ شَيْءٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص بھی ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر اس میں سے کچھ نہ ہو۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 1408)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ ایک کپڑا ہو لیکن لمبا چوڑا ہو تو کندھے پر ڈال لے تاکہ کندھے ڈھک جائیں اور ستر پوشی بھی ہو جائے اور نماز پڑھ لے، اس کی نماز صحیح ہوگی۔
اور اگر کپڑا چھوٹا ہو، ستر پوشی نہ ہو سکے تو ازار باندھ لے لنگی کی طرح اور نماز پڑھ لے، اس کی نماز بھی درست ہو گی، یہ اس صورت میں ہے جب ایک کپڑا ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں تنگ حالی تھی، سب کے پاس دو کپڑے بھی نہ ہوتے تھے۔
آج الله تعالیٰ نے سب کو وسعت دی ہے اس لئے نماز کپڑے پہن کر پڑھنی چاہیے۔
«﴿يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ﴾ [الأعراف: 31]» اے بنی آدم! سجده گاه آتے ہوئے زینت اختیار کرو۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصللاة / حدیث: 1409
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1411]» ¤ یہ حدیث بھی صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 359] ، [مسلم 516] ، [أبوداؤد 626] ، [نسائي 768] ، [أبويعلی 2662] ، [ابن حبان 2303] ، [الحميدي 994 وغيرهم]