حدیث نمبر: 1388
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ: يَرَى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا "يَنْصَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنی نماز میں سے کچھ بھی شیطان کا حصہ نہ لگائے اس طرح کہ داہنی طرف سے ہی پلٹنا اپنے لئے ضروری قرار دے لے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (نماز کے بعد) کثرت سے بائیں طرف سے پلٹتے دیکھا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1387)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مستحب عمل کو واجب کر لینا شیطانی عمل ہے، اور جب مستحب کام شیطانی ہو جائے تو مکروہ و منکر اور بدعت کو لازم پکڑنے اور سنّت سے اعراض کرنے کی کیا حیثیت ہوگی۔
اللہ تعالیٰ اس سے سب کو محفوظ رکھے۔
آمین
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مستحب عمل کو واجب کر لینا شیطانی عمل ہے، اور جب مستحب کام شیطانی ہو جائے تو مکروہ و منکر اور بدعت کو لازم پکڑنے اور سنّت سے اعراض کرنے کی کیا حیثیت ہوگی۔
اللہ تعالیٰ اس سے سب کو محفوظ رکھے۔
آمین
حدیث نمبر: 1389
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ السُّدِّيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دائیں طرف سے مڑتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 1390
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ السُّدِّيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: "انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ يَعْنِي: فِي الصَّلَاةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد اپنے دائیں طرف سے پھرے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1388 سے 1390)
یعنی دائیں طرف سے نمازیوں کی طرف رخ کیا۔
ان احادیث سے دائیں بائیں دونوں طرف سے مقتدی حضرات کی طرف رخ کرنے کا ثبوت ملتا ہے، احادیث سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور یمین کی فضیلت کی وجہ سے علماء نے دائیں طرف سے نمازیوں کی طرف رخ کرنے کو ترجیح دی ہے عمل دونوں پر ہو تو بہتر ہے۔
یعنی دائیں طرف سے نمازیوں کی طرف رخ کیا۔
ان احادیث سے دائیں بائیں دونوں طرف سے مقتدی حضرات کی طرف رخ کرنے کا ثبوت ملتا ہے، احادیث سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور یمین کی فضیلت کی وجہ سے علماء نے دائیں طرف سے نمازیوں کی طرف رخ کرنے کو ترجیح دی ہے عمل دونوں پر ہو تو بہتر ہے۔