کتب حدیث ›
سنن دارمي › ابواب
› باب: سجدے میں کہنیاں بچھانے اور کوے کی طرح ٹھونگ مارنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1359
أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، وَسَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اعْتَدِلُوا فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ بِسَاطَ الْكَلْبِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ کہتے تھے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سجدے میں اعتدال کو ملحوظ رکھو اور اپنے ہاتھوں کو کتے کی طرح نہ پھیلایا کرو۔“
حدیث نمبر: 1360
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ مَحْمُودٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ الْأَنْصَارِيِّ , قَالَ: "نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ افْتِرَاشِ السَّبُعِ، وَنَقْرَةِ الْغُرَابِ، وَأَنْ يُوطِنَ الرَّجُلُ الْمَكَانَ كَمَا يُوطِنُ الْبَعِيرُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالرحمٰن بن شبل انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا (سجدے میں) درندوں کی طرح بازو بچھانے سے، اور کوے کی طرح ٹھونگ مارنے (یعنی جلدی جلدی سجدہ کرنے) سے، اور مسجد میں ایک جگہ مقرر کر لینے سے جس طرح اونٹ (اپنی جگہ) مقرر کر لیتا ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1358 سے 1360)
ان دونوں حدیثوں میں سجدے کی حالت میں ہاتھ و بازوؤں کو زمین پر بچھانے سے منع کیا گیا ہے اور اسے کتوں اور درندوں کی صفت بتایا گیا ہے، اور یہ سستی و کاہلی کی علامت ہے۔
اسی طرح جلدی جلدی سجدہ کرنا جانوروں کی طرح چونچ مارنے سے تشبیہ دے کر سجدے میں اعتدال کا حکم دیا گیا، نیز ہر دن ایک ہی جگہ نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے اور علمائے کرام نے ان چیزوں کو مکروہ گردانا ہے۔
آدمی کو الله تعالیٰ نے معزز و مکرم بنایا ہے اس لئے اس کو حیوانات کی خصلتیں اختیار کرنے اور ان کی طرح بیٹھنے اُٹھنے سے منع فرمایا ہے۔
ان دونوں حدیثوں میں سجدے کی حالت میں ہاتھ و بازوؤں کو زمین پر بچھانے سے منع کیا گیا ہے اور اسے کتوں اور درندوں کی صفت بتایا گیا ہے، اور یہ سستی و کاہلی کی علامت ہے۔
اسی طرح جلدی جلدی سجدہ کرنا جانوروں کی طرح چونچ مارنے سے تشبیہ دے کر سجدے میں اعتدال کا حکم دیا گیا، نیز ہر دن ایک ہی جگہ نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے اور علمائے کرام نے ان چیزوں کو مکروہ گردانا ہے۔
آدمی کو الله تعالیٰ نے معزز و مکرم بنایا ہے اس لئے اس کو حیوانات کی خصلتیں اختیار کرنے اور ان کی طرح بیٹھنے اُٹھنے سے منع فرمایا ہے۔