کتب حدیثسنن دارميابوابباب: نماز میں آسمان کی طرف نظر اٹھانے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 1337
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَنْبأَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ رَفَعُوا أَبْصَارَهُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: "لَتَنْتَهُنَّ أَوْ لَا تَرْجِعُ إِلَيْكُمْ أَبْصَارُكُمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے، لوگوں کو نماز میں آسمان کی طرف نظریں اٹھائے دیکھا تو فرمایا: ”تم اس سے باز آ جاؤ ورنہ تمہاری آنکھوں سے بنائی جاتی رہے گی۔“
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصللاة / حدیث: 1337
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1339]» ¤ یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 428] ، [أبوداؤد 912] ، [نسائي 1183] ، [ابن ماجه 1045]
حدیث نمبر: 1338
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ، قَالَ: "مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلَاتِهِمْ ؟"فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ: "لَتَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَيَخْطَفَنَّ اللَّهُ أَبْصَارَكُمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بات ہے جو لوگ نماز میں اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہایت سختی سے روکا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس حرکت سے باز آ جاؤ گے ورنہ اللہ تعالیٰ تمہاری بینائی اچک لے گا۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 1336 سے 1338)
اس حدیث میں نماز کے دوران آسمان کی طرف نظر اٹھانے پر سخت ترین وعید ہے اور وہ یہ کہ ہو سکتا ہے کہ الله تعالیٰ ان کی بینائی ختم کر دے، اس لئے نماز میں اس سے بچنا چاہئے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصللاة / حدیث: 1338
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح محمد بن بشر سمع من سعيد قبل اختلاطه
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح محمد بن بشر سمع من سعيد قبل اختلاطه، [مكتبه الشامله نمبر: 1340]» ¤ یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 750] ، [أبوداؤد 905] ، [نسائي 1192] ، [ابن ماجه 1044] ، [أبويعلی 2918] ، [ابن حبان 2284]