حدیث نمبر: 1329
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَنْبأَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِ: وَالْمُرْسَلَاتِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۂ مرسلات پڑھتے ہوئے سنا۔
حدیث نمبر: 1330
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِوَالطُّورِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حمد بن جبیر بن مطعم نے اپنے والد سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۂ والطّور پڑھتے ہوئے سنا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1328 سے 1330)
مغرب کی نماز کا وقت تھوڑا ہوتا ہے اس لئے چھوٹی سورتیں جنہیں قصار کہا جاتا ہے پڑھنا چاہئے، کبھی کوئی سورت طوال مفصل سے یعنی بڑی سورتوں میں سے بھی قرأت کی جائے تو مسنون ہے خصوصاً سورهٔ مرسلات یا سورۂ طور پڑھنا، جیسا کہ مذکورہ بالا احادیث میں ہے، تو یہ سنّت طریقہ ہے۔
مغرب کی نماز کا وقت تھوڑا ہوتا ہے اس لئے چھوٹی سورتیں جنہیں قصار کہا جاتا ہے پڑھنا چاہئے، کبھی کوئی سورت طوال مفصل سے یعنی بڑی سورتوں میں سے بھی قرأت کی جائے تو مسنون ہے خصوصاً سورهٔ مرسلات یا سورۂ طور پڑھنا، جیسا کہ مذکورہ بالا احادیث میں ہے، تو یہ سنّت طریقہ ہے۔