حدیث نمبر: 1323
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ الْوَلِيدِ: أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ "يَقُومُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ الظُّهْرِ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ عَلَى قَدْرِ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ، وَفِي الْعَصْرِ عَلَى قَدْرِ الْأُخْرَيَيْنِ مِنْ الظُّهْرِ، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ عَلَى قَدْرِ النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ" .
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں تیس آیات کے برابر قیام فرماتے اور آخری دو رکعتوں میں اس سے آدھا قیام ہوتا، اور عصر کی (پہلی دو رکعت میں) ظہر کی آخری رکعات کے برابر اور عصر کی آخری دو رکعتوں میں اس کے نصف قیام کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1324
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ بِنَحْوِهِ، وَزَادَ: قَدْرَ قِرَاءَةِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
اس طریق سے بھی سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ایسا ہی مروی ہے اور اس میں یہ تحدید ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورة السجدة کے بعد قراءت کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1325
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ "يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ، وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز میں «والسماء والطارق» اور «والسماء ذات البروج» کی قرأت فرماتے تھے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1322 سے 1325)
ان روایات سے ثابت ہوا کہ ظہر کی پہلی دو رکعت میں لمبی قرأت کے ساتھ لمبا قیام کرنا چاہے، اس کی مقدار 30 آیت یا سورہ الم السجدة کے مساوی ہو، اور کبھی کبھی چھوٹی سورتیں بھی پڑھنا جائز ہے جیسا کہ اس آخری روایت سے واضح ہے۔
ان روایات سے ثابت ہوا کہ ظہر کی پہلی دو رکعت میں لمبی قرأت کے ساتھ لمبا قیام کرنا چاہے، اس کی مقدار 30 آیت یا سورہ الم السجدة کے مساوی ہو، اور کبھی کبھی چھوٹی سورتیں بھی پڑھنا جائز ہے جیسا کہ اس آخری روایت سے واضح ہے۔