حدیث نمبر: 1301
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ وَيَقُولُ: "لَا تَخْتَلِفُوا، فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، لِيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ" . قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: فَأَنْتُمْ الْيَوْمَ أَشَدُّ اخْتِلَافًا.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے کندھوں پر ہاتھ پھیرتے اور فرماتے تھے: آگے پیچھے نہ کھڑے ہو کہ تمہارے دلوں میں اختلاف پڑ جائے (یعنی پھوٹ پڑ جائے گی)، میرے پاس تم میں سے عقلمند و ہوشیار لوگ کھڑے ہوں، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں، اس کے بعد سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: آج تم لوگوں میں بے انتہا اختلاف پیدا ہو گئے ہیں۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1300)
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے ایسا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ صفوں میں برابر کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے نہ ہونے کی وجہ سے پھوٹ پڑ گئی ہے اور اختلافات رونما ہو گئے ہیں۔
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے ایسا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ صفوں میں برابر کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے نہ ہونے کی وجہ سے پھوٹ پڑ گئی ہے اور اختلافات رونما ہو گئے ہیں۔
حدیث نمبر: 1302
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لِيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ . وَلَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ . وَإِيَّاكُمْ وَهَوْشَاتِ الْأَسْوَاقِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے قریب عقلمند اور سمجھدار لوگ کھڑے ہوں، پھر جو ان سے کم درجہ ہیں، اور پھر وہ جو ان سے بھی کم درجہ ہیں، اور آگے پیچھے کھڑے نہ ہو اس سے تمہارے دلوں میں پھوٹ پڑ جائے گی، نیز بازاری حرکات سے پرہیز کرو۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 1301)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ امام کے پاس صاحبِ عقل و شعور اور پڑھے لکھے لوگ کھڑے ہوں تاکہ بوقتِ ضرورت وہ امام کی نیابت کر سکیں اور بھول چوک ہو تو تدارک کر سکیں، پھر وہ لوگ کھڑے ہوں جو اوسط درجہ رکھتے ہوں، پھر دوسرے لوگ کھڑے ہوں۔
واضح رہے کہ یہ حکم صرف نماز کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر مجلس میں صاحبانِ علم و فضل کی عزت افزائی کی جائے۔
«(ملخص از شرح مسلم، علامه وحيد الزمان)» ۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ امام کے پاس صاحبِ عقل و شعور اور پڑھے لکھے لوگ کھڑے ہوں تاکہ بوقتِ ضرورت وہ امام کی نیابت کر سکیں اور بھول چوک ہو تو تدارک کر سکیں، پھر وہ لوگ کھڑے ہوں جو اوسط درجہ رکھتے ہوں، پھر دوسرے لوگ کھڑے ہوں۔
واضح رہے کہ یہ حکم صرف نماز کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر مجلس میں صاحبانِ علم و فضل کی عزت افزائی کی جائے۔
«(ملخص از شرح مسلم، علامه وحيد الزمان)» ۔