حدیث نمبر: 1244
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ الْعَبَّاسِ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَنْتَظِرُوا بِالْمَغْرِبِ اشْتِبَاكَ النُّجُومِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت اس وقت تک بہتری میں رہے گی جب تک مغرب میں ستاروں کے گھنے ہو جانے کا انتظار نہ کرے گی۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 1243)
یعنی مغرب کی نماز میں عدم تاخیر بہتری کا سبب ہے اور مغرب میں اتنی دیر نہ کی جائے کہ ستارے چمکنے لگیں اور گھنے ہو جائیں۔
یعنی مغرب کی نماز میں عدم تاخیر بہتری کا سبب ہے اور مغرب میں اتنی دیر نہ کی جائے کہ ستارے چمکنے لگیں اور گھنے ہو جائیں۔