کتب حدیثسنن دارميابوابباب: شیطان جب اذان سنتا ہے تو بھاگ جاتا ہے
حدیث نمبر: 1238
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: "إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ الْأَذَانَ، فَإِذَا قُضِيَ الْأَذَانُ، أَقْبَلَ، وَإِذَا ثُوِّبَ، أَدْبَرَ، فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ، أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ، فَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا وَكَذَا، لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ قَبْلَ ذَلِكَ" . قَالَ أَبُو مُحَمَّد: ثُوِّبَ: يَعْنِي: أُقِيمَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے، جب اذان پوری ہو جاتی ہے تو پھر آ جاتا ہے، جب اقامت (تکبیر) ہوتی ہے تو بھاگ جاتا ہے اور جب اقامت ختم ہوتی ہے لوٹ آتا ہے تاکہ نمازی کے دل میں وسوسہ ڈالے، کہتا ہے فلاں بات یاد کرو، فلاں بات یاد کرو جو بات کہ اس کو اس سے قبل یاد نہ آئی تھی۔“ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: اس حدیث میں «ثوُبَ» سے مراد: «أقيم» ، یعنی اقامت ہے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1237)
اس حدیث سے اذان کی فضیلت معلوم ہوئی، نیز یہ کہ اذان و اقامت سے شیطان بھاگ جاتا ہے اور اس کا کام نماز میں وسوسے ڈالنا ہے، اور اذان و اقامت سننے والے کو جو مؤذن کہے ویسے ہی کہنا چاہئے اور «حي على الصلاة» اور «حي على الفلاح» کے جواب میں «لا حول ولا قوة إلا باللّٰه» کہنا سنّت ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصللاة / حدیث: 1238
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1240]» ¤ یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 608] ، [مسلم 389] ، [أبويعلی 5958] ، [ابن حبان 16، 1662]