مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن دارميابوابباب: لونڈی کے استبراء کا بیان
حدیث نمبر: 1211
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، فِي اسْتِبْرَاءِ الْأَمَةِ إِنْ لَمْ تَكُنْ تَحِيضُ، قَالَ: "خَمْسَةً وَأَرْبَعِينَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
طاؤوس رحمہ اللہ سے مروی ہے، اگر لونڈی کو حیض نہ آتا ہو تو اس کی استبراء کی مدت پینتالیس (45) دن ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1211
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني:
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 1215]» ¤ لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 226/4] و [مصنف 166/5] میں ہی اس کا شاہد موجود ہے۔
حدیث نمبر: 1212
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: "ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوقلابہ رحمہ اللہ نے کہا: تین مہینے اس کی مدت ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1212
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1216]» ¤ اس قول کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [بيهقي 450/7] و [مصنف ابن أبى شيبه 225/4]
حدیث نمبر: 1213
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: سَأَلْت الزُّهْرِيَّ عَنْ الرَّجُلِ يَبْتَاعُ الْجَارِيَةَ لَا تَبْلُغْ الْمَحِيضَ وَلَا تَحْمِلُ مِثْلُهَا، كَمْ يَسْتَبْرِئُهَا ؟، قَالَ: "ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام اوزاعی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ آدمی نابالغ لونڈی خریدے جس کو نہ حیض آیا ہو اور نہ اس جیسی حاملہ ہو سکے، اس کی مدت استبراء کتنی ہو گی؟ فرمایا: تین ماہ۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1213
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسنادهما صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسنادهما صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1217]» ¤ اس قول کی سند صحیح ہے، اور رقم (952) میں گذر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 1214
وقَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ: "بِخَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ يَوْمًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
یحییٰ بن ابی کثیر نے لونڈی کے استبراء رحم کی مدت 45 دن بتائی ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1214
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني:
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 1218]» ¤ اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: اثر رقم (953)۔
حدیث نمبر: 1215
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بِشْرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: "بِشَهْرٍ"، سُئِلَ عَبْد اللَّهِ: بِأَيِّهِمَا تَقُولُ ؟، قَالَ: "ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ أَوْثَقُ، وَشَهْرٌ يَكْفِي".
محمد الیاس بن عبدالقادر
یحییٰ بن بشر سے مروی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ نے کہا: (اس کی مدت) ایک مہینہ ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: آپ کی کیا رائے ہے؟ فرمایا: تین مہینے احتیاطی مضبوط مدت ہے اور ایک مہینہ بھی کافی ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1210 سے 1215)
لونڈی کی مدتِ استبراء میں یہ دو قول مروی ہیں، کچھ علماء نے کہا آزاد عورت کی طرح تین ماہ کی مدت ہے، کچھ علماء نے کہا لونڈی ہونے کے ناتے اس پر حرہ کی آدھی مدت یعنی 45 دن کی مدت استبراء ہے۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: تین مہینے بہتر ہے اور ایک مہینہ کافی ہے، اور یہ اس لئے ہے کہ معلوم ہو جائے کہ حاملہ تو نہیں ہے، ایسی صورت میں اس سے ہمبستری جائز نہیں۔
نیز یہ کہ اتنی مدت میں اس لونڈی کے رحم کی صفائی ہو جائے گی اور دوسرے انسان کے جراثیم لگنے کا خطرہ بإذن اللہ نہیں رہے گا۔
واللہ اعلم
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1215
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: رجاله ثقات
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات، [مكتبه الشامله نمبر: 1219]» ¤ اس روایت کے رواۃ ثقہ ہیں۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔