حدیث نمبر: 1211
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، فِي اسْتِبْرَاءِ الْأَمَةِ إِنْ لَمْ تَكُنْ تَحِيضُ، قَالَ: "خَمْسَةً وَأَرْبَعِينَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
طاؤوس رحمہ اللہ سے مروی ہے، اگر لونڈی کو حیض نہ آتا ہو تو اس کی استبراء کی مدت پینتالیس (45) دن ہے۔
حدیث نمبر: 1212
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: "ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوقلابہ رحمہ اللہ نے کہا: تین مہینے اس کی مدت ہے۔
حدیث نمبر: 1213
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: سَأَلْت الزُّهْرِيَّ عَنْ الرَّجُلِ يَبْتَاعُ الْجَارِيَةَ لَا تَبْلُغْ الْمَحِيضَ وَلَا تَحْمِلُ مِثْلُهَا، كَمْ يَسْتَبْرِئُهَا ؟، قَالَ: "ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام اوزاعی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ آدمی نابالغ لونڈی خریدے جس کو نہ حیض آیا ہو اور نہ اس جیسی حاملہ ہو سکے، اس کی مدت استبراء کتنی ہو گی؟ فرمایا: تین ماہ۔
حدیث نمبر: 1214
وقَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ: "بِخَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ يَوْمًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
یحییٰ بن ابی کثیر نے لونڈی کے استبراء رحم کی مدت 45 دن بتائی ہے۔
حدیث نمبر: 1215
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بِشْرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: "بِشَهْرٍ"، سُئِلَ عَبْد اللَّهِ: بِأَيِّهِمَا تَقُولُ ؟، قَالَ: "ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ أَوْثَقُ، وَشَهْرٌ يَكْفِي".
محمد الیاس بن عبدالقادر
یحییٰ بن بشر سے مروی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ نے کہا: (اس کی مدت) ایک مہینہ ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: آپ کی کیا رائے ہے؟ فرمایا: تین مہینے احتیاطی مضبوط مدت ہے اور ایک مہینہ بھی کافی ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1210 سے 1215)
لونڈی کی مدتِ استبراء میں یہ دو قول مروی ہیں، کچھ علماء نے کہا آزاد عورت کی طرح تین ماہ کی مدت ہے، کچھ علماء نے کہا لونڈی ہونے کے ناتے اس پر حرہ کی آدھی مدت یعنی 45 دن کی مدت استبراء ہے۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: تین مہینے بہتر ہے اور ایک مہینہ کافی ہے، اور یہ اس لئے ہے کہ معلوم ہو جائے کہ حاملہ تو نہیں ہے، ایسی صورت میں اس سے ہمبستری جائز نہیں۔
نیز یہ کہ اتنی مدت میں اس لونڈی کے رحم کی صفائی ہو جائے گی اور دوسرے انسان کے جراثیم لگنے کا خطرہ بإذن اللہ نہیں رہے گا۔
واللہ اعلم
لونڈی کی مدتِ استبراء میں یہ دو قول مروی ہیں، کچھ علماء نے کہا آزاد عورت کی طرح تین ماہ کی مدت ہے، کچھ علماء نے کہا لونڈی ہونے کے ناتے اس پر حرہ کی آدھی مدت یعنی 45 دن کی مدت استبراء ہے۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: تین مہینے بہتر ہے اور ایک مہینہ کافی ہے، اور یہ اس لئے ہے کہ معلوم ہو جائے کہ حاملہ تو نہیں ہے، ایسی صورت میں اس سے ہمبستری جائز نہیں۔
نیز یہ کہ اتنی مدت میں اس لونڈی کے رحم کی صفائی ہو جائے گی اور دوسرے انسان کے جراثیم لگنے کا خطرہ بإذن اللہ نہیں رہے گا۔
واللہ اعلم