حدیث نمبر: 1209
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ، حَدَّثَنَا عَنْ مَطَرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ، وَعَطَاءً عَنْ الرَّجُلِ تَكُونُ مَعَهُ امْرَأَتُهُ فِي سَفَرٍ فَتَحِيضُ، ثُمَّ تَطْهُرُ، وَلَا تَجِدُ الْمَاءَ، قَالَا: "تَتَيَمَّمُ وَتُصَلِّي"، قَالَ: قُلْتُ لَهُمَا: يَطَؤُهَا زَوْجُهَا ؟، قَالَا: "نَعَمْ، الصَّلَاةُ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مَطَر (الوراق) نے بیان کیا کہ حسن اور عطاء رحمہم اللہ سے میں نے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جس کے ساتھ سفر میں اس کی بیوی ہو اور اسے حیض آ جائے، پھر پاک بھی ہو جائے لیکن پانی نہ ملے؟ ان دونوں نے فرمایا: تیمّم کرے گی اور نماز پڑھے گی، مطر نے کہا: کیا اس کا شوہر اس حالت میں اس سے وطی کر سکتا ہے؟ فرمایا: نماز اس سے عظیم تر ہے۔ یعنی جب نماز پڑھ سکتی ہے تو شوہر سے مل بھی سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 1210
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، فِي الْمَرْأَةِ تَطْهُرُ وَلَا تَجِدُ الْمَاء، قَالَ: "يُصِيبُهَا زَوْجُهَا إِذَا تَيَمَّمَتْ"، سُئِلَ عَبْد اللَّهِ: تَقُولُ بِهَذَا ؟، قَالَ: إِي وَاللَّهِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ سے مروی ہے، جو عورت حیض سے پاک ہو کر پانی نہ پائے، فرمایا: جب تیمّم کر لے تو شوہر مل سکتا ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: آپ کی بھی یہی رائے ہے؟ فرمایا: اي والله۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1208 سے 1210)
حیض سے پاک ہونے کے بعد پانی نہ ملنے پر یہ مسئلہ درست ہے، مجبوری میں ایسا کیا جا سکتا ہے، یعنی تیمّم کر کے نماز پڑھ لے اور اس کا شوہر اس سے مل سکتا ہے۔
والله اعلم۔
حیض سے پاک ہونے کے بعد پانی نہ ملنے پر یہ مسئلہ درست ہے، مجبوری میں ایسا کیا جا سکتا ہے، یعنی تیمّم کر کے نماز پڑھ لے اور اس کا شوہر اس سے مل سکتا ہے۔
والله اعلم۔