حدیث نمبر: 1181
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ، وَالزُّهْرِيِّ، قَالَا: "الْغُسْلُ مِنْ الْجَنَابَةِ، وَالْحَيْضِ وَاحِدٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ اور زہری رحمہ اللہ دونوں نے فرمایا: جنابت اور حیض کا ایک ہی جیسا غسل ہے۔
حدیث نمبر: 1182
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "لِامْرَأَتِهِ خَلِّلِي شَعْرَكِ بِالْمَاءِ قَبْلَ أَنْ تَخَلَّلَهُ نَارٌ قَلِيلَةُ الْبُقْيَا عَلَيْهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے کہا: بالوں میں پانی کا خلال کرو، اس سے پہلے کہ اس میں آگ داخل ہو۔ «(البقيا والبقايا من الابقاء عليه)»
حدیث نمبر: 1183
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْحَنَفِيِّ، حَدَّثَنِي جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ أَحَدُ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أُمِّي وَخَالَتِي عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَسَأَلَتْهَا إِحْدَاهُمَا: كَيْفَ تَصْنَعِينَ عِنْدَ الْغُسْلِ ؟، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَتَطَهَّرُ طُهُورَهُ لِلصَّلَاةِ، وَيُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَنَحْنُ نُفِيضُ عَلَى رُءُوسِنَا خَمْسًا مِنْ أَجْلِ الضَّفْرِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
بنی تیم الله بن ثعلبہ کے ایک فرد جمیع بن عمیر نے کہا کہ میں اپنی ماں اور خالہ کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، ان میں سے ایک نے ان سے پوچھا: آپ غسل کس طرح کرتی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے وقت نماز کا سا وضو کرتے تھے، پھر اپنے سر پرتین بار پانی بہاتے، اور ہم چٹیوں کی وجہ سے پانچ بار سر پر پانی ڈالتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1184
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زَاذِي، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ الْمَرْأَةِ تَغْتَسِلُ، تَنْقُضُ شَعْرَهَا ؟، فَقَالَتْ: "بَخٍ، وَإِنْ أَنْفَقَتْ فِيهِ أُوقِيَّةً ؟ إِنَّمَا يَكْفِيهَا أَنْ تُفْرِغَ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: جو عورت غسل کرتی ہے تو وہ اپنے بال کھول دے گی ؟ جواب دیا: «بخ» (ہٹ تیری) کیا وہ ایک اوقیہ خرچ کرے گی؟ ارے اس کے لئے کافی ہے کہ وہ اپنے سر پر تین بار پانی بہائے۔
حدیث نمبر: 1185
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "تُخَلِّلُهُ بِأَصَابِعِهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ اپنی انگلیوں سے بالوں میں خلال کرے گی۔
حدیث نمبر: 1186
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فِي الْحَائِضِ وَالْجُنُبِ "يَصُبَّانِ الْمَاءَ صَبًّا"، وَلَا يَنْقُضَانِ شُعُورَهُمَا" .
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے حائضہ اور جنبیہ عورت کے (غسل کے) بارے میں مروی ہے کہ وہ دونوں سر پر پانی ڈالیں گی، اور بال نہیں کھولیں گی۔
حدیث نمبر: 1187
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، مِثْلَهُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1188
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ: "إِذَا بَلَّتْ أُصُولَهُ وَأَطْرَافَهُ، لَمْ تَنْقُضْهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
منصور سے مروی ہے امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: جب زلفوں کے کنارے اور جڑ بھیگ جائیں تو انہیں نہیں کھولے گی۔
حدیث نمبر: 1189
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ نِسَاءَ ابْنِ عُمَرَ، وَأُمَّهَاتِ أَوْلَادِهِ كُنَّ إِذَا اغْتَسَلْنَ لَمْ يَنْقُضْنَ عِقَصَهُنَّ مِنْ حَيْضٍ، وَلَا جَنَابَةٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
نافع (مولى ابن عمر) سے مروی ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بیویاں اور لونڈیاں جب غسل حیض و جنابت کرتیں تو چوٹیاں نہیں کھولتی تھیں۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1180 سے 1189)
«عقص» جمع «عقيصة» گوندھی ہوئی چوٹی۔
«عقص» جمع «عقيصة» گوندھی ہوئی چوٹی۔
حدیث نمبر: 1190
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: "لَا يَنْقُضْنَ عِقَصَهُنَّ مِنْ حَيْضٍ، وَلَا مِنْ جَنَابَةٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: حیض یا جنابت (کے غسل میں) عورتیں اپنی چوٹی نہیں کھولیں گی۔
حدیث نمبر: 1191
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي أَوْ عُقَدَهُ، قَالَ: "احْفِنِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ، ثُمَّ اغْمِزِي عَلَى إِثْرِ كُلِّ حَفْنَةٍ غَمْزَةً".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا زوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میں سر پر چوٹی کس کر باندھتی ہوں ؟ فرمایا: ”اپنے سر پر تین چلو پانی ڈال لو، اور ہر چلو پانی کا ڈالنے کے بعد گوندھو۔ “ (یعنی بالوں کو ملو تاکہ پانی جڑوں تک پہنچ جائے)۔
حدیث نمبر: 1192
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: "اسْتَأْصِلِي الشَّعْرَ لَا تَخَلَّلُهُ نَارٌ قَلِيلٌ بُقْيَاهَا عَلَيْهِ"، قَالَ مَنْصُورٌ: يَعْنِي: الْجَنَابَةَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے فرمایا: بالوں کو جڑوں تک سیراب کرو، اس میں آگ داخل نہ کرو۔ منصور نے کہا: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی اس سے مراد جنابت ہے (یعنی غسل جنابت کے وقت بال اچھی طرح دھو لو)۔
حدیث نمبر: 1193
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: "اسْتَأْصِلِي الشَّعْرَ بِالْمَاءِ لَا تَخَلَّلُهُ نَارٌ قَلِيلٌ بُقْيَاهَا عَلَيْهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے دوسری سند سے مذکورہ بالا روایت مروی ہے (اوپر اس کا ترجمہ گزر چکا ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ تھوڑی سی جگہ بھی پانی نہ پہنچا تو اس کو عذاب ہو گا)۔
حدیث نمبر: 1194
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "إِذَا اغْتَسَلَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ الْجَنَابَةِ، فَلَا تَنْقُضْ شَعْرَهَا وَلَكِنْ تَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى أُصُولِهِ وَتَبُلُّهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب عورت غسل جنابت کرے گی تو اپنے بال نہیں کھولے گی، البتہ بالوں کی جڑوں میں پانی ڈال کر دھو دے گی۔
حدیث نمبر: 1195
أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الْمَرْأَةِ تُصِيبُهَا الْجَنَابَةُ، وَرَأْسُهَا مَعْقُوصٌ تَحُلُّهُ ؟، قَالَ: "لَا، وَلَكِنْ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا الْمَاءَ صَبًّا حَتَّى تُرَوِّيَ أُصُولَ الشَّعْرِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ سے مروی ہے، عورت جنبی ہو جائے اور اس کے بال گوندھے ہوئے ہوں تو کیا انہیں کھولے گی ؟ فرمایا: نہیں، البتہ اپنے سر پر اچھی طرح پانی ڈالے تاکہ جڑیں تک سیراب ہو جائیں۔
حدیث نمبر: 1196
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَتْنِي حَبِيبَةُ بِنْتُ حَمَّادٍ، حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ حَيَّانَ السَّهْمِيَّةُ، قَالَتْ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: "أَمَا تَسْتَطِيعُ إِحْدَاكُنَّ إِذَا تطَهُرَتْ مِنْ حَيْضِهَا أَنْ تَتَدَخِّنَ شَيْئًا مِنْ قُسْطٍ، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَشَيْئًا مِنْ آسٍ، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَشَيْئًا مِنْ نَوًى، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَشَيْئًا مِنْ مِلْحٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عمرۃ بنت حیان سہميۃ نے کہا: مجھ سے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی حیض سے پاک ہونے کے بعد قسط کی دھونی لینے کی استطاعت نہیں رکھتی؟ اس کی استطاعت نہ ہو تو ”آس“، اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو کچھ گٹھلیوں سے یا پھر نمک ہی سے دھونی لے لے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1189 سے 1196)
«قسط» ایک قسم کی لکڑی ہے اور «آس» : ایک قسم کا درخت جس کے پتے تر و تازہ ہوتے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ طہارت کے بعد عورت بدبو کو زایل کرنے کے لئے کچھ کرے۔
«قسط» ایک قسم کی لکڑی ہے اور «آس» : ایک قسم کا درخت جس کے پتے تر و تازہ ہوتے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ طہارت کے بعد عورت بدبو کو زایل کرنے کے لئے کچھ کرے۔
حدیث نمبر: 1197
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: "إِذَا اغْتَسَلَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ الْحَيْضِ، فَلْتُمِسَّ أَثَرَ الدَّمِ بِطِيبٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب عورت غسل حیض کر لے تو خون کی جگہ پر طیب رکھ لے۔ (یعنی خوشبو کی کوئی چیز وہاں رکھ لے)۔
حدیث نمبر: 1198
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ "نِسَاءَهُ وَأُمَّهَاتِ أَوْلَادِهِ كُنَّ يَغْتَسِلْنَ مِنْ الْحِيضَةِ وَالْجَنَابَةِ، وَلَا يَنْقُضْنَ شُعُورَهُنَّ، وَلَكِنْ يُبَالِغْنَ فِي بَلِّهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
نافع نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ ان کی بیویاں اور لونڈیاں جب حیض و جنابت کا غسل کرتی تھیں تو اپنے بال نہیں کھولتی تھیں، لیکن پانی بہانے میں مبالغہ کرتی تھیں۔ (تاکہ جڑیں اچھی طرح سیراب ہو جائیں اور ان تک پانی پہنچ جائے)۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1196 سے 1198)
ان تمام آثار و احادیث سے پتہ چلا کہ عورت کو غسلِ جنابت اور حیض کے غسل میں چوٹیاں کھولنے کی ضرورت نہیں، ہاں پانی جڑوں تک اچھی طرح داخل کریں تاکہ جڑیں سوکھی نہ رہ جائیں۔
واللہ علم۔
ان تمام آثار و احادیث سے پتہ چلا کہ عورت کو غسلِ جنابت اور حیض کے غسل میں چوٹیاں کھولنے کی ضرورت نہیں، ہاں پانی جڑوں تک اچھی طرح داخل کریں تاکہ جڑیں سوکھی نہ رہ جائیں۔
واللہ علم۔