حدیث نمبر: 1170
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: "مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا فَهُوَ مِنْ الْمَرْأَةِ مِثْلُهُ مِنْ الرَّجُلِ، ثُمَّ تَلَا: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ سورة البقرة آية 222، أَنْ تَعْتَزِلُوهُنَّ فِي الْمَحِيضِ: الْفَرْجَ، ثُمَّ تَلَا: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223 قَائِمَةً، وَقَاعِدَةً، وَمُقْبِلَةً، وَمُدْبِرَةً فِي الْفَرْجِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد رحمہ اللہ نے کہا: جو آدمی اپنی بیوی کے دبر میں جماع کرے تو یہ مرد سے جماع کے مترادف (یعنی اغلام) ہے، استشہاد میں آیت پڑھی: ”اور وہ آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجئے کہ وہ گندگی ہے، سو حالتِ حیض میں (اپنی) عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ان کے قریب نہ جاؤ، ہاں جب وہ پاک ہو جائیں تو ان کے پاس جاؤ، یعنی جماع کرو جہاں سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں جماع کرنے کی اجازت دی ہے۔ “ [البقره 222/2] اس میں وضاحت ہے کہ حالت حیض میں عورتوں سے یعنی فرج سے دور رہو، پھر انہوں نے سورہ بقرہ کی یہ آیت پڑھی: ”تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں اور جہاں سے چاہو اپنی کھیتیوں میں آؤ“ مطلب بتایا کہ کھڑے سے بیٹھے سے چت لٹا کر یا اوندھی (پیٹ کے بل لٹا کر)، جس طرح چاہو صرف فرج میں (شرم گاہ جہاں سے حیض آتا ہے صرف وہیں) جماع کرو۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1169)
اس آیتِ شریفہ کی تفسیر میں حافظ صلاح الدین یوسف نے بہت مفید حاشیہ لکھا ہے جو مختصر بھی ہے اور ان مسائل کا مدلل خلاصہ بھی ہے، افادۂ عام کے لئے کچھ تصرف کے ساتھ اور مولانا حفظہ اللہ کے شکریہ کے ساتھ یہاں ذکر کیا جا تا ہے۔
بلوغت کے بعد ہر عورت کو ایامِ ماہواری میں جو خون آتا ہے اسے حیض کہا جاتا ہے، اور بعض دفعہ عادت کے خلاف بیماری کی وجہ سے خون آتا ہے اسے استحاضہ کہا جا تا ہے جس کا حکم حیض سے مختلف ہے۔
حیض کے ایام میں عورت سے نماز معاف ہے اور روزے رکھنے ممنوع ہیں، ہاں ان کی قضاء بعد میں ضروری ہے، مرد کے لئے صرف ہم بستری منع ہے البتہ بوس و کنار جائز ہے، اسی طرح عورت ان دنوں میں کھانا پکانا اور دیگر گھر کا ہر کام کر سکتی ہے، لیکن یہودیوں میں ان دنوں میں عورت کو بالکل نجس سمجھا جاتا تھا، وہ اس کے ساتھ اختلاط اور کھانا پینا بھی جائز نہیں سمجھتے تھے، صحابہ کرام نے اس کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو یہ آیت نازل ہوئی جس میں (حالتِ حیض میں) جماع کرنے سے روکا گیا ہے۔
علیحدہ رہنے اور قریب نہ جانے کا مطلب صرف جماع ہے (ابن کثیر وغیرہ) «﴿فَإِذَا تَطَهَّرْنَ﴾» جب وہ پاک ہو جائیں اس کے دو معنی بیان کئے گئے ہیں، ایک خون بند ہو جائے (یعنی غسل کئے بغیر بھی پاک ہیں) مرد کے لئے ان سے مباشرت کرنا جائز ہے، دوسرے معنی ہے خون بند ہونے کے بعد غسل کر کے پاک ہو جائیں، اس دوسرے معنی کے اعتبار سے عورت جب تک غسل نہ کرے اس سے مباشرت حرام رہے گی۔
امام شوکانی رحمہ اللہ نے اسی کو راجح قرار دیا ہے، ہمارے نزدیک دونوں مسلک قابلِ عمل ہیں۔
«﴿فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللّٰهُ ...﴾» ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ تعالیٰ نے تم کو اجازت دی ہے۔
یعنی خاص شرم گاہ سے جماع کرنے کی کیونکہ حالتِ حیض میں بھی اسی کے استعمال سے روکا گیا تھا، اور اب پاک ہونے کے بعد جو اجازت دی جا رہی ہے تو اس کا مطلب اسی (فرج، شرم گاہ) کی اجازت ہے نہ کہ کسی اور حصے کی، اس سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ عورت کی دبر کا استعمال حرام ہے، جیسا کہ احادیث میں اس کی مزید صراحت کر دی گئی ہے۔
یہودیوں کا خیال تھا کہ اگر عورت کو (مدبرة) پیٹ کے بل لٹا کر مباشرت کی جائے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے، اس کی تردید میں کہا جارہا ہے کہ مباشرت آگے سے کرو (چت لٹا کر) یا پیچھے سے (پیٹ کے بل) یا کروٹ پر، جس طرح چاہو جائز ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ ہر صورت میں عورت کی فرج ہی استعمال ہو (یعنی جہاں سے خون آتا اور بچہ پیدا ہوتا ہے)۔
بعض لوگ اس سے یہ استدلال کرتے ہیں (جس طرح چاہو) میں تو دبر بھی آ جاتی ہے لہٰذا دبر کا استعمال بھی جائز ہے، لیکن یہ بالکل غلط ہے، جب قرآن نے عورت کھیتی قرار دیا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ صرف کھیتی کے استعمال کے لئے کہا جارہا ہے۔
اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ اور یہ کھیتی (موضع ولد) صرف فرج ہے نہ کہ د بر، بہر حال یہ غیر فطری فعل ہے اسے حدیث میں لواطت صغریٰ اور ایسے شخص کو جو اپنی عورت کے دبر کو استعمال کرتا ہے ملعون قرار دیا گیا ہے۔
(بحوالہ ابن کثیر و فتح القدیر)۔
اس آیتِ شریفہ کی تفسیر میں حافظ صلاح الدین یوسف نے بہت مفید حاشیہ لکھا ہے جو مختصر بھی ہے اور ان مسائل کا مدلل خلاصہ بھی ہے، افادۂ عام کے لئے کچھ تصرف کے ساتھ اور مولانا حفظہ اللہ کے شکریہ کے ساتھ یہاں ذکر کیا جا تا ہے۔
بلوغت کے بعد ہر عورت کو ایامِ ماہواری میں جو خون آتا ہے اسے حیض کہا جاتا ہے، اور بعض دفعہ عادت کے خلاف بیماری کی وجہ سے خون آتا ہے اسے استحاضہ کہا جا تا ہے جس کا حکم حیض سے مختلف ہے۔
حیض کے ایام میں عورت سے نماز معاف ہے اور روزے رکھنے ممنوع ہیں، ہاں ان کی قضاء بعد میں ضروری ہے، مرد کے لئے صرف ہم بستری منع ہے البتہ بوس و کنار جائز ہے، اسی طرح عورت ان دنوں میں کھانا پکانا اور دیگر گھر کا ہر کام کر سکتی ہے، لیکن یہودیوں میں ان دنوں میں عورت کو بالکل نجس سمجھا جاتا تھا، وہ اس کے ساتھ اختلاط اور کھانا پینا بھی جائز نہیں سمجھتے تھے، صحابہ کرام نے اس کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو یہ آیت نازل ہوئی جس میں (حالتِ حیض میں) جماع کرنے سے روکا گیا ہے۔
علیحدہ رہنے اور قریب نہ جانے کا مطلب صرف جماع ہے (ابن کثیر وغیرہ) «﴿فَإِذَا تَطَهَّرْنَ﴾» جب وہ پاک ہو جائیں اس کے دو معنی بیان کئے گئے ہیں، ایک خون بند ہو جائے (یعنی غسل کئے بغیر بھی پاک ہیں) مرد کے لئے ان سے مباشرت کرنا جائز ہے، دوسرے معنی ہے خون بند ہونے کے بعد غسل کر کے پاک ہو جائیں، اس دوسرے معنی کے اعتبار سے عورت جب تک غسل نہ کرے اس سے مباشرت حرام رہے گی۔
امام شوکانی رحمہ اللہ نے اسی کو راجح قرار دیا ہے، ہمارے نزدیک دونوں مسلک قابلِ عمل ہیں۔
«﴿فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللّٰهُ ...﴾» ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ تعالیٰ نے تم کو اجازت دی ہے۔
یعنی خاص شرم گاہ سے جماع کرنے کی کیونکہ حالتِ حیض میں بھی اسی کے استعمال سے روکا گیا تھا، اور اب پاک ہونے کے بعد جو اجازت دی جا رہی ہے تو اس کا مطلب اسی (فرج، شرم گاہ) کی اجازت ہے نہ کہ کسی اور حصے کی، اس سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ عورت کی دبر کا استعمال حرام ہے، جیسا کہ احادیث میں اس کی مزید صراحت کر دی گئی ہے۔
یہودیوں کا خیال تھا کہ اگر عورت کو (مدبرة) پیٹ کے بل لٹا کر مباشرت کی جائے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے، اس کی تردید میں کہا جارہا ہے کہ مباشرت آگے سے کرو (چت لٹا کر) یا پیچھے سے (پیٹ کے بل) یا کروٹ پر، جس طرح چاہو جائز ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ ہر صورت میں عورت کی فرج ہی استعمال ہو (یعنی جہاں سے خون آتا اور بچہ پیدا ہوتا ہے)۔
بعض لوگ اس سے یہ استدلال کرتے ہیں (جس طرح چاہو) میں تو دبر بھی آ جاتی ہے لہٰذا دبر کا استعمال بھی جائز ہے، لیکن یہ بالکل غلط ہے، جب قرآن نے عورت کھیتی قرار دیا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ صرف کھیتی کے استعمال کے لئے کہا جارہا ہے۔
اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ اور یہ کھیتی (موضع ولد) صرف فرج ہے نہ کہ د بر، بہر حال یہ غیر فطری فعل ہے اسے حدیث میں لواطت صغریٰ اور ایسے شخص کو جو اپنی عورت کے دبر کو استعمال کرتا ہے ملعون قرار دیا گیا ہے۔
(بحوالہ ابن کثیر و فتح القدیر)۔
حدیث نمبر: 1171
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حَكِيمٍ الْأَثْرَمِ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ أَتَى حَائِضًا، أَوْ امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا، أَوْ كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو حیض والی عورت سے صحبت کرے، یا کسی عورت سے اس کے پیچھے سے آوے، یا کاہن کے پاس جائے، جو وہ کہتا ہے اس کی تصدیق کرے، تو اس نے انکار کیا اس کا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا۔“ (یعنی وہ قرآن کریم کا منکر ہوا)۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1170)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو حالتِ حیض میں جماع کرے، یا جو شخص دبر میں جماع کرے، یا وہ آدمی جو کاہن کے پاس جا کر اس کی بات سنے اور سچی جانے، تو یہ تینوں آدمی اسلام کے دائرے سے خارج ہو جاتے ہیں، یہ اس حدیث کا مفہوم ہے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: ایسا ڈرانے اور ان افعال سے بچنے کے لئے کہا گیا ہے۔
واللہ اعلم
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو حالتِ حیض میں جماع کرے، یا جو شخص دبر میں جماع کرے، یا وہ آدمی جو کاہن کے پاس جا کر اس کی بات سنے اور سچی جانے، تو یہ تینوں آدمی اسلام کے دائرے سے خارج ہو جاتے ہیں، یہ اس حدیث کا مفہوم ہے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: ایسا ڈرانے اور ان افعال سے بچنے کے لئے کہا گیا ہے۔
واللہ اعلم
حدیث نمبر: 1172
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الشَّقَرِيِّ، عَنْ أَبِي الْقَعْقَاعِ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ آتِي امْرَأَتِي حَيْثُ شِئْتُ ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَمِنْ أَيْنَ شِئْتُ ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَكَيْفَ شِئْتُ ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ هَذَا يُرِيدُ السُّوءَ، قَالَ: "لَا، مَحَاشُّ النِّسَاءِ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ"، سُئِلَ عَبْد اللَّهِ تَقُولُ بِهِ ؟، قَالَ: نَعَمْ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوالقعقاع (عبداللہ بن خالد) الجرمی نے کہا: ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، عرض کیا: اے ابوعبدالرحمٰن! میں اپنی بیوی سے جہاں سے چاہوں آ سکتا ہوں؟ فرمایا: ہاں، عرض کیا: جس طرف سے چاہوں آؤں؟ فرمایا: ہاں، اس نے پھر عرض کیا: جس طرح بھی چاہوں جماع کروں؟ فرمایا: ہاں، ایک دوسرے شخص نے عرض کیا: جناب! اس کا مقصد (کچھ اور ہے، یعنی اس کا مقصد دبر میں جماع کرنے کا ہے) برا ہے، فرمایا: نہیں، عورتوں کی پائخانہ کی جگہ (دبر) تم پر حرام ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا: آپ کا بھی یہی قول ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔
حدیث نمبر: 1173
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ "يَكْرَهُ إِتْيَانَ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا، وَيَعِيبُهُ عَيْبًا شَدِيدًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما عورت کی دبر میں جماع کو بہت کریہہ کہتے اور شدید عیب سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1174
حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ: إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْعَالَمِينَ سورة العنكبوت آية 28، قَالَ: "مَا نَزَا ذَكَرٌ عَلَى ذَكَرٍ حَتَّى كَانَ قَوْمُ لُوطٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عمرو بن دینار سے مروی ہے، آیت: (لوط علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا) ”بیشک تم بدکاری پر اتر آئے ہو، جسے تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا .... “ [عنكبوت: 28/29] ، اس کے بارے میں انہوں نے فرمایا: جو آدمی بھی کسی آدمی پر چڑھا وہ قومِ لوط میں سے ہے۔ (یعنی جو لوگ لواطت کرتے تھے ان میں ہو گیا۔)
حدیث نمبر: 1175
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ مُخَلَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنی عورت کے دبر میں جماع کرے گا الله تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔
حدیث نمبر: 1176
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِيسَى بْنِ حِطَّانَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَلَّامٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَلْيَنْصَرِفْ، وَلْيَتَوَضَّأْ، ثُمَّ يُصَلِّي"، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنْ الْحَقِّ"، سُئِلَ عَبْد اللَّهِ: عَلِيُّ بْنُ طَلْقٍ لَهُ صُحْبَةٌ ؟، قَالَ: نَعَمْ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا علی بن مطلق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کا نماز میں وضو ٹوٹ جائے تو وہ نماز توڑ دے، وضو کرے پھر نماز پڑھے۔“ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں کی دبر میں جماع نہ کرو، اللہ تعالیٰ حق بات بیان کرنے سے نہیں شرماتا ہے۔“ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: علی بن طلق صحابی تھے؟ فرمایا: ہاں۔
حدیث نمبر: 1177
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ يَعْقُوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي الْحُبَابِ، قَالَ: قُلْت لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "مَا تَقُولُ فِي الْجَوَارِي حِينَ أُحَمِّضُ لَهُنَّ ؟، قَالَ: وَمَا التَّحْمِيضُ ؟ فَذَكَرْتُ الدُّبُرَ، فَقَالَ: هَلْ يَفْعَلُ ذَاكَ أَحَدٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ ؟".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوالحباب سعید بن یسار نے کہا: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: اگر میں لونڈیوں سے تحمیض کروں تو آپ کی کیا رائے ہے؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ تحمیض کیا ہے؟ میں نے کہا: دبر، تو انہوں نے فرمایا: کیا مسلمانوں میں سے کوئی ایسا (گندا کام) کر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 1178
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُصَيْنٍ الْأَنْصَارِيِّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي وَكَانَ مِنْ أَسْنَانِي، حَدَّثَنِي هَرَمِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: تَذَاكَرْنَا شَأْنَ النِّسَاءِ فِي مَجْلِسِ بَنِي وَاقِفٍ وَمَا يُؤْتَى مِنْهُنَّ، فَقَالَ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنْ الْحَقِّ لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ہرمی بن عبداللہ نے کہا: بنی واقف کی ایک مجلس میں ہم عورتوں کا، اور جو ان سے استمتاع کیا جاتا ہے اس کا تذکرہ کر رہے تھے، تو سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، فرماتے تھے: ”لوگو! اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا ہے۔ تم عورتوں کی دبر میں جماع نہ کیا کرو۔“
حدیث نمبر: 1179
أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: "كَانُوا يَجْتَنِبُونَ النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ، وَيَأْتُونَهُنَّ فِي أَدْبَارِهِنَّ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: "وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ سورة البقرة آية 222، فِي الْفَرْجِ وَلَا تَعْدُوهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: لوگ حیض کی حالت میں عورتوں سے پرہیز کرتے تھے، لیکن ان کے دبر میں آتے تھے (یعنی جماع کرتے)، اس بارے میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو الله تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: ”لوگ آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجئے کہ وہ گندگی ہے، سو حالت حیض میں عورتوں سے دور رہو، اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ان کے قریب نہ جاؤ، ہاں جب وہ پاک ہو جائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے۔“ [بقره: 222/2] فرمایا: «﴿مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ﴾» کا مطلب ہے فرج استعمال کرو اور اس سے تجاوز نہ کرو۔
حدیث نمبر: 1180
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ طَاوُسٍ، وَسَعِيدٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَعَطَاءٍ، أَنَّهُمْ كَانُوا "يُنْكِرُونَ إِتْيَانَ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ، وَيَقُولُونَ: هُوَ الْكُفْرُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
طاؤس، سعید، مجاہد، عطاء رحمہم اللہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ عورتوں کے سرین (پاخانہ کی جگہ) جماع کرنے کا شدت سے انکار کرتے تھے، اور فرماتے تھے کہ یہ کفر ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1171 سے 1180)
اور یہی جمہور علماء کا مسلک ہے، اس فعلِ قبیح کی کسی نے اجازت نہیں دی کیونکہ شریعتِ اسلامیہ کے نصوصِ صریحہ میں اس کی سخت ممانعت ہے، لہٰذا سرین میں جماع کرنا حرام ہے جو کفر تک لے جاتے ہیں۔
اور یہی جمہور علماء کا مسلک ہے، اس فعلِ قبیح کی کسی نے اجازت نہیں دی کیونکہ شریعتِ اسلامیہ کے نصوصِ صریحہ میں اس کی سخت ممانعت ہے، لہٰذا سرین میں جماع کرنا حرام ہے جو کفر تک لے جاتے ہیں۔