حدیث نمبر: 1155
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ ابْنِ سَابِطٍ، قَالَ: سَأَلْتُ حَفْصَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ أَبِي بَكْرٍ، قُلْتُ لَهَا: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ، وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْهُ، قَالَتْ: سَلْ يَا ابْنَ أَخِي عَمَّا بَدَا لَكَ، قَالَ: أَسْأَلُكِ عَنْ إِتْيَانِ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ، فَقَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتْ الْأَنْصَارُ لَا تُجَبِّي، وَكَانَتْ الْمُهَاجِرُونَ تُجَبِّي، فَتَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ، فَجَبَّاهَا، فَأَبَتْ الْأَنْصَارِيَّةُ، فَأَتَتْ أُمَّ سَلَمَةَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهَا، فَلَمَّا أَنْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَحْيَتْ الْأَنْصَارِيَّةُ وَخَرَجَتْ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ أُمُّ سَلَمَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "ادْعُوهَا لِي"، فَدُعِيَتْ لَهُ، فَقَالَ لَهَا: "نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223، صِمَامًا وَاحِدًا"، وَالصِّمَامُ: السَّبِيلُ الْوَاحِدُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابن سابط نے کہا: میں نے حفصہ بنت عبدالرحمٰن سے پوچھا، عبدالرحمٰن جو ابوبکر کے بیٹے تھے۔ میں نے حفصہ سے پوچھا: میں آپ سے ایک چیز کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں، لیکن مجھے شرم آتی ہے۔ انہوں نے کہا : (بیٹے) بھتیجے پوچھو کیا پوچھنا چاہتے ہو، عرض کیا: عورتوں کے دبر میں جماع کرنے کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں، انہوں نے جواب دیا کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا، کہا کہ انصار بیوی کو منہ یا پیٹ کے بل لٹا کر جماع نہیں کرتے تھے (یعنی اوندھی کر کے)، اور مہاجرین ایسا کرتے تھے، مہاجرین میں سے ایک شخص نے ایک انصاری عورت سے شادی کی اور اوندھا کر کے جماع کرنا چاہا تو اس نے انکار کر دیا، اور وہ عورت سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ماجرا بیان کیا، پس جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو وہ عورت شرم کی وجہ سے باہر چلی گئی، لہٰذا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ماجرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے میرے پاس بلاؤ“، اسے بلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت شریفہ کو تلاوت فرمایا: «﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾» [بقره: 223/2] یعنی ”تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہے، سو جس طرح چاہو اپنی کھیتی میں آؤ“، فرمایا: ”ایک ہی سوراخ یا راستے ہیں۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 1154)
مطلب یہ ہے کہ جماع جس طرح بھی چاہیں چٹ لٹا کر کریں یا اوندھی لٹا کر کریں، لیکن دخول فرج میں ہی ہونا ضروری ہے، دوسری جگہ نہیں۔
مطلب یہ ہے کہ جماع جس طرح بھی چاہیں چٹ لٹا کر کریں یا اوندھی لٹا کر کریں، لیکن دخول فرج میں ہی ہونا ضروری ہے، دوسری جگہ نہیں۔
حدیث نمبر: 1156
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: لَقَدْ عَرَضْتُ الْقُرْآنَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ثَلَاثَ عَرَضَاتٍ، أَقِفُ عِنْدَ كُلِّ آيَةٍ أَسْأَلُهُ فِيمَ أُنْزِلَتْ، وَفِيمَ كَانَتْ ؟، فَقُلْتُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى: فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ سورة البقرة آية 222، قَالَ: "مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمْ أَنْ تَعْتَزِلُوهُنَّ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو تین بار قرآن پڑھ کر سنایا اس طرح کہ ہر آیت پر رک کر پوچھتا کہ کس بارے میں وہ آیت نازل ہوئی، اس کا مطلب کیا تھا؟ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ «﴿فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ﴾» [البقرة: 222/2] کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ فرمایا: اس کا مطلب ہے ( «من حيت امركم ان تعتزلوهن» ) آیت کا مطلب ہے کہ جب وہ پاک ہو جائیں تو جیسا الله کا حکم ہے اس طرح ان کے پاس جاؤ، تو انہوں نے کہا: جس طرح کا حکم سے مراد ہے ان سے علاحدگی اختیار کرنا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1155)
یعنی حالتِ حیض میں جس جگہ سے دور رہو جب پاک ہو جائیں غسل کر لیں تو اسی جگہ سے اپنی حاجت ان سے پوری کرو۔
یعنی حالتِ حیض میں جس جگہ سے دور رہو جب پاک ہو جائیں غسل کر لیں تو اسی جگہ سے اپنی حاجت ان سے پوری کرو۔
حدیث نمبر: 1157
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُجَاهِدٍ: فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ سورة البقرة آية 222، قَالَ: "أُمِرُوا أَنْ يَأْتُوا مِنْ حَيْثُ نُهُوا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے: «﴿فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ﴾» [بقره: 222/2] کا مطلب ہے ان کو حکم دیا گیا ہے کہ جس جگہ سے روکا گیا تھا طہارت کے بعد اسی جگہ وہ حاجت پوری کر لو۔ (یعنی جماع کر سکتے ہو اور دبر سے بچو)۔
حدیث نمبر: 1158
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ: فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ سورة البقرة آية 222، قَالَ: "مِنْ قِبَلِ الطُّهْرِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابورزین نے آیت شریفہ «﴿فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ﴾» کا مطلب یہ بتایا کہ طہارت کی جگہ سے جماع کرو، یعنی دبر میں نہیں بلکہ قبل (فرج) میں۔
حدیث نمبر: 1159
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ: وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ سورة الشعراء آية 166، قَالَ: "هُوَ وَاللَّهِ الْقُبُلُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے: «﴿وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ ......﴾» [الشعراء: 166/26] یعنی: ”اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیویوں کی صورت میں جو چیز تمہارے لئے پیدا فرمائی اسے چھوڑ دیتے ہو۔“ مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ کی قسم اس سے مراد عورت کی شرمگاہ فرج ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1156 سے 1159)
اس آیت میں قومِ لوط کی عادتِ قبیحہ کا ذکر ہے کہ وہ اپنی عورتوں سے صحیح جگہ کو چھوڑ کر غلط جگہ میں بدفعلی کرتے تھے۔
اس آیت میں قومِ لوط کی عادتِ قبیحہ کا ذکر ہے کہ وہ اپنی عورتوں سے صحیح جگہ کو چھوڑ کر غلط جگہ میں بدفعلی کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1160
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ رَبَاحٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223، قَالَ: "إِنَّمَا هُوَ الْفَرْجُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عکرمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے: آیت شریفہ «﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾» [البقرة: 223/2] ”تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، جہاں سے چاہو آؤ۔“ فرمایا: اس سے مراد شرم گاہ فرج ہے (یعنی قبل میں جماع کرو، دبر میں نہیں)۔
حدیث نمبر: 1161
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَلِيٍّ الرِّفَاعِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: كَانَتْ الْيَهُودُ لَا تَأْلُو مَا شَدَّدَتْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، كَانُوا يَقُولُونَ: يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ، إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْتُوا نِسَاءَكُمْ إِلَّا مِنْ وَجْهٍ وَاحِدٍ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223 "فَخَلَّى اللَّهُ بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَبَيْنَ حَاجَتِهِمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
علی بن علی رفاعی نے بیان کیا کہ میں نے حسن رحمہ اللہ کو سنا، وہ فرماتے تھے: یہودی مسلمانوں کو ستانے میں کسر نہ چھوڑتے تھے، وہ کہتے تھے: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیو! تمہارے اللہ کی قسم بس یہی حلال ہے کہ اپنی بیویوں سے ایک طرف سے جماع کرو۔ فرمایا: اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾» ”تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں، جس طرف سے چاہو جماع کرو۔ “ [البقره 2: 223] اس طرح اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کی حاجت روائی فرمائی۔
حدیث نمبر: 1162
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223، قَالَ: "ائْتِهَا مِنْ بَيْنِ يَدَيْهَا وَمِنْ خَلْفِهَا بَعْدَ أَنْ يَكُونَ فِي الْمَأْتَى".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت شریفہ: «﴿فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾» کے بارے میں مروی ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ آگے پیچھے کہیں سے بھی آؤ (جماع کرو) جبکہ دخول صرف مخصوص مقام میں ہو۔
حدیث نمبر: 1163
أَخْبَرَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَصْنَعُونَ فِي الْحَائِضِ نَحْوًا مِنْ صَنِيعِ الْمَجُوسِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ "وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ سورة البقرة آية 222، فَلَمْ يَزْدَدْ الْأَمْرُ فِيهِنَّ إِلَّا شِدَّةً".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عکرمہ رحمہ اللہ نے کہا: اہل جاہلیت حیض والی عورت کے ساتھ مجوس جیسا سلوک کرتے تھے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا گیا تو یہ آیت شریفہ نازل ہوئی: «﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ﴾» [البقرة: 222/2] اور حیض والی عورتوں کے بارے میں مزید شدت آ گئی۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1159 سے 1163)
یعنی ان سے طہر سے پہلے جماع نہ کرنے کے بارے میں اور شدت آ گئی، اور مجوس و یہود کا حائضہ کے ساتھ جو سلوک ہوتا تھا اس کا ذکر پچھلے آثار و احادیث میں گذر چکا ہے۔
یعنی ان سے طہر سے پہلے جماع نہ کرنے کے بارے میں اور شدت آ گئی، اور مجوس و یہود کا حائضہ کے ساتھ جو سلوک ہوتا تھا اس کا ذکر پچھلے آثار و احادیث میں گذر چکا ہے۔
حدیث نمبر: 1164
أَخْبَرَنَا خَلِيفَةُ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ "قُلْ هُوَ أَذًى سورة البقرة آية 222، قَالَ: هُوَ الدَّمُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد رحمہ اللہ سے «﴿قُلْ هُوَ أَذًى﴾» کے بارے میں مروی ہے کہ وہ خون ہے۔ (یعنی حیض کا خون گندگی ہے۔) اور قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: وہ گندگی ہے۔
حدیث نمبر: 1165
أَخْبَرَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ لَيْثًا حَدَّثَ، عَنْ عِيسَى بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223، قَالَ: "إِنْ شِئْتَ فَاعْزِلْ، وَإِنْ شِئْتَ فَلَا تَعْزِلْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید بن المسيب رحمہ اللہ سے «﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾» [بقره: 223/2] کے بارے میں مروی ہے، فرمایا: چاہو تو عزل کرو یا چاہو تو عزل نہ کرو۔
حدیث نمبر: 1166
أَخْبَرَنَا خَلِيفَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "كَيْفَ شِئْتَ، يَعْنِي: إِتْيَانَهَا فِي الْفَرْجِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے: جس طرح چاہو کرو، بس جماع مخصوص جگہ میں ہو۔
حدیث نمبر: 1167
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ "أَنَّ الْيَهُودَ قَالُوا لِلْمُسْلِمِينَ: مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ وَهِيَ مُدْبِرَةٌ، جَاءَ وَلَدُهُ أَحْوَلَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر بن عبدالله انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہود نے مسلمانوں سے کہا کہ جو اپنی بیوی سے پیچھے کی طرف سے جماع کرے تو اس کا بچہ بھینگا پیدا ہوگا، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے یہ آیت شریفہ نازل فرمائی: «﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾» [بقره: 223/2] ”عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں جس طرح چاہو انہیں پانی دو۔“
حدیث نمبر: 1168
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ: فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223، قَالَ: "يَأْتِي أَهْلَهُ كَيْفَ شَاءَ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَبَيْنَ يَدَيْهَا وَمِنْ خَلْفِهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عکرمہ رحمہ اللہ سے «﴿فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ ...﴾» [البقرة: 223/2] کے بارے میں مروی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ کھڑے بیٹھے سامنے یا پیچھے جدھر سے چاہے اپنی بیوی سے جماع کرے۔
حدیث نمبر: 1169
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ "فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ سورة البقرة آية 222، قَالَ: فِي الْفَرْجِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: «﴿فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ ...﴾» [بقرة: 222/2] سے مراد ہے کہ (جماع) فرج میں ہو۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1163 سے 1169)
ان تمام روایات سے واضح ہوا کہ شوہر اپنی بیوی سے جس طرح چاہے استمتاع کر سکتا ہے، کھڑے سے، بیٹھے سے، آگے سے یا پیچھے سے، لیکن مقامِ مخصوص سے تجاوز نہ کرے، جماع جماع ہی کی جگہ میں کرے اور دبر سے شدت کے ساتھ اجتناب کرے، کیونکہ یہ فعل حرام ہے، اور جو ایسا کرے اس کو حدیث میں ملعون قرار دیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں مزید تفصیل کے لئے دیکھئے: [زاد المعاد 311/3 ”فصل“ بعد فصل اما الجماع و الباه]۔
ان تمام روایات سے واضح ہوا کہ شوہر اپنی بیوی سے جس طرح چاہے استمتاع کر سکتا ہے، کھڑے سے، بیٹھے سے، آگے سے یا پیچھے سے، لیکن مقامِ مخصوص سے تجاوز نہ کرے، جماع جماع ہی کی جگہ میں کرے اور دبر سے شدت کے ساتھ اجتناب کرے، کیونکہ یہ فعل حرام ہے، اور جو ایسا کرے اس کو حدیث میں ملعون قرار دیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں مزید تفصیل کے لئے دیکھئے: [زاد المعاد 311/3 ”فصل“ بعد فصل اما الجماع و الباه]۔