مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن دارميابوابباب: حیض کی حالت میں جماع کرنے پر جن حضرات نے کفارے کا کہا ان کا بیان
حدیث نمبر: 1140
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ فِي الَّذِي يُفْطِرُ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ، قَالَ: "عَلَيْهِ عِتْقُ رَقَبَةٍ، أَوْ بَدَنَةٌ، أَوْ عِشْرِينَ صَاعًا لِأَرْبَعِينَ مِسْكِينًا، وَفِي الَّذِي يَغْشَى امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، مِثْلُ ذَلِكَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
یزید بن ابراہیم نے بیان کیا کہ میں نے امام حسن بصری رحمہ اللہ کو اس شخص کے بارے میں کہتے ہوئے سنا جو رمضان کے دنوں میں روزہ نہ رکھے، فرمایا: اس کے اوپر ایک غلام آزاد کرنے یا ایک اونٹ ذبح کرنے کا کفارہ ہے یا بیس صاع (تقریباً 45 کیلو) غلہ چالیس مسکینوں کے لئے واجب ہے۔ اور اسی طرح کا کفارہ اس شخص کے اوپر واجب ہے جو بحالت حیض بیوی سے جماع کرے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1139)
یعنی ایسے آدمی پر بھی ایک غلام آزاد کرنے یا ایک اونٹ ذبح کرنے یا بیس صاع صدقہ کرنے کا کفارہ ہے۔
یہ ان کا قول ہے حدیث نہیں۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1140
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1144]» ¤ سند اس اثر کی صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 12378]
حدیث نمبر: 1141
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: "يَتَصَدَّقُ بِنِصْفِ دِينَارٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے اس شخص کے بارے میں جو بحالت حیض اپنی بیوی سے ہم بستری کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نصف دینار صدقہ کرے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 1140)
اس حدیث کی سند حسن ہے اور صحیح سند سے بھی مروی ہے کما سیأتی، اور ایک دینار کی قیمت موجودہ دور میں تقریباً بیس ریال سعودی بنتی ہے، تفصیل اس باب کے آخر میں دیکھئے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1141
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1145]» ¤ اس حدیث کے حوالہ کے لئے دیکھئے: [مسند أحمد 325/1، 272] ، [أبوداؤد 266] ، [ترمذي 136] ، [ابن أبى شيبه 12369] و [مصنف عبدالرزاق 1261، 1264]
حدیث نمبر: 1142
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فِي الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: "يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ، أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ شَكَّ الْحَكَمُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مقسم سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو آدمی اپنی بیوی سے بحالت حیض ہم بستری کرے وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرے، یہ شک کہ ایک دینار کہا یا نصف دینار حکم سے واقع ہوا ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1142
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1146]» ¤ اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند أحمد 230/1، 286] ، [أبوداؤد 264] ، [نسائي 153/1] ، [ابن ماجه 640] ، [ابن أبى شيبه 12370] ، [بيهقي 314/1] ، [مستدرك الحاكم 171/1]
حدیث نمبر: 1143
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فِي الَّذِي يَغْشَى امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ "يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ، أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ"، قَالَ شُعْبَةُ: أَمَّا حِفْظِي فَهُوَ مَرْفُوعٌ، وَأَمَّا فُلَانٌ وَفُلَانٌ، فَقَالَا: غَيْرُ مَرْفُوعٍ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: حَدِّثْنَا بِحِفْظِكَ، وَدَعْ مَا قَالَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ، فَقَالَ: "وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنِّي عُمِّرْتُ فِي الدُّنْيَا عُمُرَ نُوحٍ وَأَنِّي حَدَّثْتُ بِهَذَا، أَوْ سَكَتُّ عَنْ هَذَا"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: عَبْدُ الحَمِيدِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحمَنِ بْنِ زَيدِ بْنِ الخَطَّابِ وَكَانَ وَالِيَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَلَى الْكُوفَةِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو آدمی اپنی بیوی سے بحالت حیض ہم بستری کرے اسے ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرنا چاہئے۔ شعبہ نے کہا: میرے حفظ میں یہ حکم مرفوع ہے، اور فلاں فلاں نے غیر مرفوع سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ذکر کیا ہے۔ کسی نے عرض کیا: اپنے حفظ سے ہم سے بیان کیجئے اور فلاں فلاں کے قول کو پرے چھوڑیئے، فرمایا: اللہ کی قسم مجھے عمر نوح علیہ السلام بھی ملے تو بھی مجھے یہ پسند نہیں کہ میں اسے بیان کروں یا خاموشی اختیار کروں۔ ابومحمد دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: عبدالحميد: ابن زید بن عبدالرحمٰن بن زید بن الخطاب ہیں جو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی طرف سے کوفہ کے گورنر تھے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1143
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1147]» ¤ اس روایت کی سند بھی حسبِ سابق ہے۔ نیز دیکھئے: [المنتقی 109] و [مسند أبى يعلی 2432]
حدیث نمبر: 1144
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: "إِذَا أَتَاهَا فِي دَمٍ فَدِينَارٌ، وَإِذَا أَتَاهَا وَقَدْ انْقَطَعَ الدَّمُ فَنِصْفُ دِينَارٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جاری خون میں جماع کیا تو ایک دینار، اور خون رکنے کے بعد جماع کیا تو نصف دینار ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1144
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: في إسناده جهالة
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناده جهالة، [مكتبه الشامله نمبر: 1148]» ¤ اس اثر کی سند میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرنے والے راوی مجہول ہیں، اور اثر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف ہے۔ ديكهئے: [أبوداؤد 265]
حدیث نمبر: 1145
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَقَعُ عَلَى امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ: "يَتَصَدَّقُ بِنِصْفِ دِينَارٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی حائضہ عورت سے جماع کرتا ہے وہ نصف دینار صدقہ کرے۔“
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1145
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1149]» ¤ اس اثر کی سند صحیح ہے، اور (1142) میں گذر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 1146
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ امْرَأَةٌ تَكْرَهُ الْجِمَاعَ، فَكَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَهَا اعْتَلَّتْ عَلَيْهِ بِالْحَيْضِ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا، فَإِذَا هِيَ صَادِقَةٌ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ: "أَنْ يَتَصَدَّقَ بِخُمُسَيْ دِينَارٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالحمید بن زید بن الخطاب نے کہا: سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی ایک بیوی تھی جو جماع سے کراہت کرتی تھی، وہ جب اس سے ارادہ فرماتے تو حیض کا بہانہ لگاتی (ایک مرتبہ) انہوں نے اس سے جماع کر لیا، لیکن دیکھا تو سچ کہہ رہی تھی، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو خمس دینار صدقہ کرنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1146
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده معضل
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده معضل، [مكتبه الشامله نمبر: 1150]» ¤ اس روایت کی سند میں دو راوی ساقط ہونے کے سبب معضل ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 266] و [بيهقي 316/1] اور اس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 1147
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا أَتَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَإِنْ كَانَ الدَّمُ عَبِيطًا، فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ، وَإِنْ كَانَتْ صُفْرَةً، فَلْيَتَصَدَّقْ بِنِصْفِ دِينَارٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ جو آدمی اپنی بیوی سے حالت حیض میں جماع کر لے تو؟ فرمایا: ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرے۔ امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اور استغفار بھی کرے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1147
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: لم يحكم عليه المحقق
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «لم يحكم عليه المحقق، [مكتبه الشامله نمبر: 1151]» ¤ اس اثر کی سند میں عبدالکریم کے نام کے بارے میں اختلاف ہے، اگر ابوامیہ ہیں تو ضعیف اور ابن مالک جزری ہیں تو ثقہ ہیں۔ دیکھئے: [المعجم الكبير 12135] و [مسند أبى يعلی 2432]
حدیث نمبر: 1148
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: "يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ، أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ"، وقَالَ إِبْرَاهِيمُ: "يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اپنی بیوی سے بحالت حیض جماع کرے تو اگر خون نیا تازہ ہو تو ایک دینار کا صدقہ (بطور کفارہ) کرے، اور زردی مائل خوں ہو تو آدھا دینار صدقہ کرے۔“ امام ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: اور استغفار کرے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1148
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1152]» ¤ اس روایت کی سند صحیح اور موقوف علی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہے۔
حدیث نمبر: 1149
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «إِذَا وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِدِينَارٍ»
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنی بیوی سے ایسی حالت میں جماع کر لے جب کہ وہ حالت حیض میں ہو تو اس پر ایک دینار صدقہ کرنا ہو گا۔ امام ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: اور استغفار بھی کرنا ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1149
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف محمد بن أبي ليلى
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن أبي ليلى، [مكتبه الشامله نمبر: 1153]» ¤ یہ اثر ضعیف اور موقوف بھی ہے۔ دیکھئے: اثر رقم (1147)۔
حدیث نمبر: 1150
أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، فِي رَجُلٍ جَامَعَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: «يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ»
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے مرد کے بارے میں مروی ہے جو اپنی بیوی سے بحالت حیض جماع کرے، فرمایا: اسے ایک دینار صدقہ کرنا واجب ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1150
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1154]» ¤ اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 12381]
حدیث نمبر: 1151
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: "يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ، أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مقسم سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایسا آدمی ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ دے گا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1151
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 1155]» ¤ اس اثر کی سند محمد بن ابی یعلی کی وجہ سے ضعیف اور موقوف ہے، لیکن صحیح سند سے بھی ایسا ہی ذکر آیا ہے۔ دیکھئے: (1147)۔
حدیث نمبر: 1152
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ فِي رَجُلٍ يَغْشَى امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، أَوْ رَأَتْ الطُّهْرَ وَلَمْ تَغْتَسِلْ، قَالَ: "يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، وَيَتَصَدَّقُ بِخُمُسَيْ دِينَارٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام اوزاعی رحمہ اللہ سے بھی ایسے آدمی کے بارے میں مروی ہے جو اپنی بیوی سے حالت حیض میں یا پاک ہو جانے کے بعد غسل سے پہلے ہم بستری کر لے، فرمایا: وہ آدمی اللہ سے مغفرت طلب کرے اور دینار کا پانچواں حصہ صدقہ دے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1152
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1156]» ¤ اس قول کی سند تو صحیح ہے لیکن اکثر روایات دینار یا نصف دینار کی وارد ہیں۔
حدیث نمبر: 1153
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "إِذَا وَقَعَ الرَّجُلُ عَلَى امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ يَتَصَدَّقُ بِنِصْفِ دِينَارٍ"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ: فَإِنَّ الْحَسَنَ، يَقُولُ: يُعْتِقُ رَقَبَةً، فَقَالَ: "مَا أَنْهَاكُمْ أَنْ تَقَرَّبُوا إِلَى اللَّهِ مَا اسْتَطَعْتُمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی سے حیض کے دوران ہم بستری کر لے تو آدھا دینار صدقہ کرے۔ حاضرین میں سے کسی نے عرض کیا کہ حسن (بصری رحمہ اللہ) تو کہتے ہیں کہ ایک غلام آزاد کرے؟ فرمایا: میں تمہیں اس سے نہیں روکتا، جتنا ہو سکے الله تعالیٰ کی قربت اختیار کرو۔ یعنی توبہ و استغفار کے ساتھ جتنا صدقہ کر دو بہتر ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1153
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 1157]» ¤ اس روایت کی سند جید ہے۔ یہ روایت کہیں اور نہیں مل سکی۔
حدیث نمبر: 1154
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فِي الَّذِي يَقَعُ عَلَى امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: "يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو آدمی بحالت حیض اپنی بیوی سے جماع کرے وہ ایک دینار صدقہ کرے گا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1141 سے 1154)
خلاصہ ان تمام آثار کا یہ ہے کہ حیض کی حالت میں جماع کرنا گناہ ہے اور استغفار و توبہ کرنی چاہیے۔
ایک یا آدھا دینار صدقہ کر دیں تو بہتر ہے واجب نہیں۔
ایک دینار کی قیمت اس دور میں 20 سعودی ریال کے قریب بنتی ہے اور ایک ریال کے اس وقت تقریباً ہندوستانی 18 روپئے اور پاکستانی ایک ریال کے 40 روپے بنتے ہیں، اس طرح بیس ریال کی قیمت 360 روپئے ہندوستانی اور پاکستانی روپے اس وقت دینار کی قیمت 800 روپئے بنے گی۔
واللہ علم۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: [المجموع 259/2]، [المحلى و التلخيص 161/1] و [نيل الأوطار 351/1]۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1154
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 1158]» ¤ اس اثر کی سند ضعیف ہے، اور موقوف بھی ہے۔ پیچھے تخریج گذر چکی ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔