کتب حدیث ›
سنن دارمي › ابواب
› باب: حائضہ عورت کے خضاب لگانے اور خضاب میں عورت کے نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1126
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: زَعَمَ لَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي حُرَّةَ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "رَأَيْتُ نِسَاءً مِنْ نِسَاءِ الْمَدِينَةِ يُصَلِّينَ فِي الْخِضَابِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے مدینہ کی عورتوں کو خضاب لگائے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 1127
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَمَّنْ سَمِعَ عَائِشَةَ سُئِلَتْ عَنْ الْمَرْأَةِ تَمْسَحُ عَلَى الْخِضَابِ، فَقَالَتْ: "لَأَنْ تُقْطَعَ يَدِي بِالسَّكَاكِينِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ ذَلِكَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس عورت کے بارے میں پوچھا گیا جو خضاب لگے ہاتھ میں مسح کرتی ہے، فرمایا: مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ اس کے بجائے میرے ہاتھ چھریوں سے کاٹ ڈالے جائیں۔
حدیث نمبر: 1128
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَت عَائِشَةَ تُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي الْخِضَابِ ؟، قَالَتْ: "اسْلُتِيهِ وَرَغْمًا"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: أَبُو سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي الْعَنَبْسِ، وَاسْمُ أَبِي الْعَنَبْسِ: سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُبَيْدٍ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوسعید (کثیر بن عبید) سے مروی ہے کہ ایک عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: عورت خضاب لگا کر نماز پڑھ سکتی ہے؟ فرمایا: سوت (کھرچ) کر اسے پھینک دو۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: ابوسعید ابوالعنبس کے بیٹے ہیں اور ابوالعنبس کا نام سعید بن کثیر بن عبید ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1125 سے 1128)
«وَرَغْمًا» بعض روایت میں ہے: «وَارْغَمِيْهِ» اس کے معنی تراب کے ہیں، یعنی: مٹی سے رگڑ دے۔
«وَرَغْمًا» بعض روایت میں ہے: «وَارْغَمِيْهِ» اس کے معنی تراب کے ہیں، یعنی: مٹی سے رگڑ دے۔
حدیث نمبر: 1129
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: "كُنَّ نِسَاءَنَا يَخْتَضِبْنَ بِاللَّيْلِ، فَإِذَا أَصْبَحْنَ، فَتَحْنَهُ فَتَوَضَّأْنَ وَصَلَّيْنَ، ثُمَّ يَخْتَضِبْنَ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الظُّهْرِ، فَتَحْنَهُ فَتَوَضَّأْنَ وَصَلَّيْنَ فَأَحْسَنَّ خِضَابًا، وَلَا يَمْنَعُ مِنْ الصَّلَاةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہماری عورتیں رات میں مہندی لگاتی تھیں، جب صبح ہوتی تو اسے کھول دیتیں، وضو کرتیں اور نماز پڑھ لیتی تھیں۔ اور نماز کے بعد پھر خضاب لگا لیتیں، اور اگر ظہر کا وقت ہو جاتا تو پھر اسے کھول دیتیں، وضو کرتیں اور نماز پڑھتیں، اس طرح بہت اچھا رنگ چڑھ جاتا، اور یہ چیز نماز سے مانع نہ ہوتی۔
حدیث نمبر: 1130
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ نِسَاءَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كُنّ "يَخْتَضِبْنَ وَهُنَّ حُيَّضٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی عورتیں حیض کی حالت میں خضاب (مہندی) لگاتی تھیں۔
حدیث نمبر: 1131
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "كُنَّ نِسَاؤُنَا إِذَا صَلَّيْنَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، اخْتَضَبْنَ، فَإِذَا أَصْبَحْنَ أَطْلَقْنَهُ وَتَوَضَّأْنَ وَصَلَّيْنَ، وَإِذَا صَلَّيْنَ الظُّهْرَ اخْتَضَبْنَ، فَإِذَا أَرَدْنَ أَنْ يُصَلِّينَ الْعَصْرَ، أَطْلَقْنَهُ فَأَحْسَنَّ خِضَابَهُ وَلَا يَحْبِسْنَ عَنْ الصَّلَاةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہماری عورتیں عشاء کے بعد خضاب لگا لیتی تھیں اور جب صبح ہوتی تو اسے کھول دیتیں، وضو کر کے نماز پڑھتی تھیں، اور جب ظہر پڑھ لیتی تھیں تو پھر باندھ لیتیں اور عصر پڑھنی ہوتی تو کھول دیتی تھیں، اس سے اچھا رنگ چڑھ جاتا اور وہ خضاب (یا مہندی) کی وجہ سے نماز کو نہ چھوڑتی تھیں۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1128 سے 1131)
ان تمام آثار سے یہ بات واضح ہوئی کہ حائضہ عورت خضاب لگا سکتی ہے، اور اگر کسی عام عورت نے مہندی یا خضاب لگا لیا اور نماز کا وقت آجائے تو اس کو دھو کر اور وضو کر کے نماز پڑھ سکتی ہے۔
لیکن صحیح یہ لگتا ہے کہ خضاب سے پہلے وضو کر لے اور پھر خضاب لگا کر نماز پڑھ لی جائے تو اچھا ہے۔
واللہ اعلم۔
ان تمام آثار سے یہ بات واضح ہوئی کہ حائضہ عورت خضاب لگا سکتی ہے، اور اگر کسی عام عورت نے مہندی یا خضاب لگا لیا اور نماز کا وقت آجائے تو اس کو دھو کر اور وضو کر کے نماز پڑھ سکتی ہے۔
لیکن صحیح یہ لگتا ہے کہ خضاب سے پہلے وضو کر لے اور پھر خضاب لگا کر نماز پڑھ لی جائے تو اچھا ہے۔
واللہ اعلم۔