مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن دارميابوابباب: حائضہ کے غسل کرنے سے پہلے جماع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَيُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ، وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي الْحَائِضِ "إِذَا طَهُرَتْ مِنْ الدَّمِ لَا يَقْرَبُهَا زَوْجُهَا حَتَّى تَغْتَسِلَ" .
محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے: حائضہ عورت جب پاک ہو جائے (یعنی حیض کا خون رک جائے) تو جب تک غسل نہ کرے، اس کا شوہر اس کے قریب نہ ہو۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1113
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1117]» ¤ اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 96/1]
حدیث نمبر: 1114
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَن مُجَاهِدٍ، مِثْلَهُ سَوَاءً.
محمد الیاس بن عبدالقادر
دوسری سند سے بھی مجاہد رحمہ اللہ سے ایسے ہی مروی ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1114
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1118]» ¤ یہ سند صحیح ہے کما سبق۔ نیز دیکھئے: اثر رقم (1118)۔
حدیث نمبر: 1115
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: سُئِلَ سُفْيَانُ: "أَيُجَامِعُ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِذَا انْقَطَعَ عَنْهَا الدَّمُ قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ ؟، فَقَالَ: لَا، فَقِيلَ: أَرَأَيْتَ إِنْ تَرَكَتْ الْغُسْلَ يَوْمَيْنِ أَوْ أَيَّامًا ؟، قَالَ: تُسْتَتَابُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سفیان رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ حائضہ عورت کا خون رک جائے تو غسل سے پہلے شوہر اس سے جماع کر سکتا ہے؟ فرمایا: نہیں، دریافت کیا گیا: اگر ایک یا دو دن تک وہ غسل نہ کرے تو؟ فرمایا: توبہ کرائی جائے گی۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1115
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1119]» ¤ اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن کہیں اور یہ روایت نہیں ملی۔ توبہ شاید اس لئے کرائی جائے گی کہ اس نے بلا جواز دو دن تک غسل کر کے نماز نہیں پڑھی۔ واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 1116
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ مُجَاهِدٍ "وَلا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ سورة البقرة آية 222، قَالَ: حَتَّى يَنْقَطِعَ الدَّمُ، فَإِذَا تَطَهَّرْنَ سورة البقرة آية 222، قَالَ: إِذَا اغْتَسَلْنَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد رحمہ اللہ نے آیت «﴿وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ﴾» [بقرة: 222/2] کے بارے میں کہا: «يَطْهُرْنَ» یعنی جب خون رک جائے اور «فَإِذَا تَطَهَّرْنَ» سے مراد ہے جب وہ غسل کر لیں۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1116
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 1120]» ¤ اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ تفصیل آگے آرہی ہے۔
حدیث نمبر: 1117
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ "حَتَّى يَطْهُرْنَ سورة البقرة آية 222، قَالَ: إِذَا انْقَطَعَ الدَّمُ، فَإِذَا تَطَهَّرْنَ سورة البقرة آية 222، قَالَ: اغْتَسَلْنَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے « ﴿حَتَّى يَطْهُرْنَ﴾ » سے مراد ہے جب خون کا آنا منقطع ہو جائے، اور «﴿فَإِذَا تَطَهَّرْنَ﴾» فرمایا: یعنی جب غسل کر لیں۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1117
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1121]» ¤ اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تفسير طبري 385/2] ، [مصنف عبدالرزاق 1272] و [الدر المنثور 260/2]
حدیث نمبر: 1118
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، قَالَ: سَأَلْتُ مُجَاهِدًا، عَنْ امْرَأَةٍ رَأَتْ الطُّهْرَ: أَيَحِلُّ لِزَوْجِهَا أَنْ يَأْتِيَهَا قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ ؟، قَالَ: "لَا حَتَّى تَحِلَّ لَهَا الصَّلَاةُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عثمان بن الاسود نے کہا: میں نے مجاہد رحمہ اللہ سے اس عورت کے بارے میں پوچھا جس کو حیض آیا: کیا غسل کرنے سے پہلے اس کے شوہر کے لئے جائز ہے کہ اس سے جماع کرے؟ فرمایا: نہیں، جب تک کہ نماز جائز نہیں (جماع بھی جائز نہیں)۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1118
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1122]» ¤ اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 96/1]
حدیث نمبر: 1119
أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ هُوَ ابْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَطَاءً، وَمَيْمُونَ بْنَ مِهْرَانَ، وَحَدَّثَنِي حَمَّادٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالُوا: "لَا يَغْشَاهَا حَتَّى تَغْتَسِلَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حماد سے مروی ہے امام ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: جب تک غسل نہ کر لے جماع نہ کرے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1119
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: أثر صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «أثر صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1123]» ¤ یہ اثر صحیح ہے، اور (1113) میں گذر چکا ہے، اور آگے (1123) میں اس کا ذکر آ رہا ہے۔
حدیث نمبر: 1120
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ فِي الرَّجُلِ يَطَأُ امْرَأَتَهُ وَقَدْ رَأَتْ الطُّهْرَ قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ، قَالَ: "هِيَ حَائِضٌ مَا لَمْ تَغْتَسِلْ، وَعَلَيْهِ الْكَفَّارَةُ، وَلَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا مَا لَمْ تَغْتَسِلْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن رحمہ اللہ سے اس آدمی کے بارے میں مروی ہے جو اپنی بیوی سے پاکی کے بعد غسل کرنے سے پہلے وطی کرے، فرمایا: جب تک غسل نہ کر لے وہ حائضہ کے حکم میں ہے، اور اس کے اوپر کفارہ ہے، اس کو چاہیے کہ غسل کے بارے میں پوچھ لے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1120
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1124]» ¤ اس قول کی سند صحیح ہے، اور (1118) میں گذر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 1121
أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "لَا يَغْشَاهَا زَوْجُهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے: ایسی عورت سے اس کا مرد جماع نہیں کرے گا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1121
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1125]» ¤ اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تفسير طبري 386/2]
حدیث نمبر: 1122
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْخَيْرِ مَرْثَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: "وَاللَّهِ إِنِّي لَا أُجَامِعُ امْرَأَتِي فِي الْيَوْمِ الَّذِي تَطْهُرُ فِيهِ حَتَّى يَمُرَّ يَوْمٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوالخیر مرثد الیزنی نے کہا: میں نے سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: قسم الله کی میں اپنی بیوی سے جس دن وہ پاک ہوتی ہے جماع نہیں کرتا حتی کہ ایک اور دن گزر جائے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1122
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1126]» ¤ اس روایت کی سند صحیح ہے، اور یہ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کا فعل ہے حدیث نہیں۔
حدیث نمبر: 1123
أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى الطُّهْرَ: أَيَأْتِيهَا زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ ؟، قَالَ: "لَا، حَتَّى تَغْتَسِلَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ سے مروی ہے، عورت جب پاکی دیکھے تو اس کا شوہر اس سے ہم بستری کر سکتا ہے یا نہیں؟ فرمایا: جب تک غسل نہ کر لے ہم بستری جائز نہیں۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1123
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1127]» ¤ اس قول کی سند صحیح ہے۔ (1113) میں گذر چکی ہے۔ نیز دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1245]
حدیث نمبر: 1124
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الْمَرْأَةِ يَنْقَطِعُ عَنْهَا الدَّمُ، قَالَ: "إِنْ أَدْرَكَهُ الشَّبَقُ، غَسَلَتْ فَرْجَهَا ثُمَّ يَأْتِيَها".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ سے ایسی عورت کے بارے میں مروی ہے جس کا خون (حیض) رک جائے، فرمایا: مرد کی شہوت بڑھ جائے تو عورت اپنی شرم گاہ دھو لے، پھر ہم بستری کر لے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1124
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 1128]» ¤ لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 96/1]
حدیث نمبر: 1125
أَخْبَرَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ شَرِيكًا وَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: الْمَرْأَةُ يَنْقَطِعُ عَنْهَا الدَّمُ: أَيَأْتِيهَا زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ ؟، فَقَالَ: قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ "رَخَّصَ فِي ذَلِكَ لِلشَّبِقِ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: أَخَافُ أَنْ يَكُونَ أَخَطَأً، وأَخَافُ أَنْ يَكُونَ مِنْ حَدِيثِ لَيْثٍ، لَا أَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: الشَّبِقُ الَّذِي يَشْتَهِي.
محمد الیاس بن عبدالقادر
فروة بن ابی المغراء نے خبر دی، میں نے شریک کو کہتے سنا، ان سے ایک آدمی نے سوال کیا: عورت کا خون رک جائے تو غسل کرنے سے پہلے شوہر اس سے ہمبستری کر سکتا ہے؟ فروة نے عبدالملک سے عطاء رحمہ اللہ کے حوالے سے جواب دیا کہ انہوں نے شدت شہوت کے وقت غسل سے پہلے جماع کرنے کی اجازت دی ہے۔ ابومحمد امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے خوف ہے کہ ان سے غلطی ہوئی ہو، اور یہ بجائے عطاء رحمہ اللہ کے لیث بن ابی سلیم سے مروی ہو، کیونکہ عبدالملک سے ایسی کوئی بات مجھے معلوم نہیں۔ ابومحمد رحمہ اللہ نے فرمایا: «الشبق» اس مرد کو کہتے ہیں جسے بہت شہوت ہوتی ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1112 سے 1125)
ان تمام روایات سے ثابت ہوا کہ حیض رک جانے کے بعد غسل کرنے سے پہلے جماع کرنا درست نہیں، ہاں اگر شہوت بہت ہی غالب آجائے تو صفائی ستھرائی کے بعد شوہر جماع کر سکتا ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ غسل کرنے کے بعد جماع کرے۔
کیوں کہ گندگی اور جراثیم سے بچنا حفظانِ صحت کے اصول میں سے ہے جس کی ہمارے دین نے ہمیں تعلیم دی ہے۔
والله اعلم۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1125
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1129]» ¤ اس روایت کی سند حسن ہے۔ «وانفرد به الدارمي»۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔