حدیث نمبر: 1012
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "إِذَا سَمِعَ الْحَائِضُ وَالْجُنُبُ السَّجْدَةَ، يَغْتَسِلُ الْجُنُبُ وَيَسْجُدُ، وَلَا تَقْضِي الْحَائِضُ، لِأَنَّهَا لَا تُصَلِّي".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: حیض والی عورت اور جنابت والے مرد و عورت سجده والی آیت سنیں تو جنبی تو غسل کرے اور سجدہ (تلاوت) کرے، لیکن حائضہ ایسا نہیں کرے گی، کیونکہ وہ نماز نہیں پڑھ سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 1013
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الْحَائِضِ تَسْمَعُ السَّجْدَةَ، قَالَ: "لَا تَقْضِي".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابراہیم رحمہ اللہ نے ایسی حائضہ کے بارے میں کہا جو آیت سجدہ سنے، فرمایا: وہ اس کی قضاء نہیں کرے گی۔
حدیث نمبر: 1014
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "لَيْسَ عَلَيْهَا شَيْءٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے کہا: ایسی عورت پر کچھ ضروری نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1015
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ مُعَتِّبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: "كُنَّا نَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا يَأْمُرُ امْرَأَةً مِنَّا بِرَدِّ الصَّلَاةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حیض آتا تھا، لیکن آپ ہم میں سے کسی عورت کو نماز لوٹانے کا حکم نہ د یتے تھے۔
حدیث نمبر: 1016
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ: أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَتَقْضِي إِحْدَانَا صَلَاةَ أَيَّامِ حَيْضِهَا؟، فَقَالَتْ: "أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟ قَدْ كَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تُؤْمَرُ بِقَضَاءٍ" .
محمد الیاس بن عبدالقادر
معاذه (بنت عبداللہ) سے مروی ہے ایک عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ہم میں سے کوئی اپنے ایام حیض کی نماز قضا کرے گی؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم حروریہ ہو؟ ہم رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں حائضہ ہوتی تھیں اور ہم کو قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1011 سے 1016)
حرور ایک گاؤں کا نام ہے جس کی طرف خوارج منسوب ہوتے ہیں جو صرف قرآن کو دلیل مانتے ہیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف جنہوں نے بغاوت کی، قرآن پاک میں یہ مسئلہ مذکور نہیں اس لئے اس عورت سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم حروریہ تو نہیں ہو؟ جسے حدیث کے ماننے سے انکار ہو۔
حرور ایک گاؤں کا نام ہے جس کی طرف خوارج منسوب ہوتے ہیں جو صرف قرآن کو دلیل مانتے ہیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف جنہوں نے بغاوت کی، قرآن پاک میں یہ مسئلہ مذکور نہیں اس لئے اس عورت سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم حروریہ تو نہیں ہو؟ جسے حدیث کے ماننے سے انکار ہو۔
حدیث نمبر: 1017
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُعَاذَةَ، قَالَ أَبُو النُّعْمَانِ: "كَأَنَّ حَمَّادًا فَرِقَ حَدِيثَ أَيُّوبَ، فَجَاءَ بِهَذَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوالنعمان (محمد بن الفضل) نے کہا: گویا کہ حماد نے حدیث ایوب میں تفریق کی ہے اور یہ روایت لے آئے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1016)
یعنی حماد نے دو طریق سے یہ روایت بیان کی ہے، حماد عن ایوب و حماد عن یزید الرشک عن معاذہ۔
یعنی حماد نے دو طریق سے یہ روایت بیان کی ہے، حماد عن ایوب و حماد عن یزید الرشک عن معاذہ۔
حدیث نمبر: 1018
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: "إِذَا سَمِعَتْ الْحَائِضُ السَّجْدَةَ، فَلَا تَسْجُدْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عامر (شعبی) نے کہا: حائضہ اگر آیت سجدہ سنے تو سجدہ نہ کرے۔
حدیث نمبر: 1019
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: "لَا تَسْجُدُ الْمَرْأَةُ الْحَائِضُ إِذَا سَمِعَتْ السَّجْدَةَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوقلابہ نے فرمایا: حیض والی عورت جب آیت سجدہ سنے تو سجدہ نہ کرے۔
حدیث نمبر: 1020
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ "يَكْرَهُ لِلْحَائِضِ أَنْ تَسْجُدَ إِذَا سَمِعَتْ السَّجْدَةَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابرا ہیم رحمہ اللہ حائضہ عورت کے آیت سجدہ سن کر سجدہ کرنے کو مکروہ گردانتے تھے۔
حدیث نمبر: 1021
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ عَجْلَانَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْ النُّفَسَاءِ وَالْحَائِضِ: هَلْ تَقْضِيَانِ الصَّلَاةَ إِذَا تَطَهَّرْنَ، قَالَ: "هُوَ ذَا، أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَوْ فَعَلْنَ ذَلِكَ أَمَرْنَا نِسَاءَنَا بِذَلِكَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوغالب (عجلان) نے کہا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حیض و نفاس والی عورت کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ طہارت کے بعد نماز قضاء کرے گی؟ فرمایا: یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہیں، اگر وہ ایسا کرتیں تو ہم بھی اپنی عورتوں کو ایسا کرنے کا حکم دیتے۔
حدیث نمبر: 1022
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَتْ امْرَأَةٌ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: أَقْضِي مَا تَرَكْتُ مِنْ صَلاتِي فِي الْحَيْضِ عِنْدَ الطُّهْرِ ؟، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: "أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ ؟ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ وَتَطْهُرُ، فَلَا يَأْمُرُنَا بِالْقَضَاءِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالرحمٰن بن قاسم نے اپنے والد سے روایت کیا کہ ایک عورت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور عرض کیا کہ طہارت کے بعد میں نمازوں کی قضا کروں جو ایام حیض میں میں نے چھوڑ دی تھیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم حروریہ ہو؟ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اور ہم میں سے کسی کو حیض آتا، پھر طہارت ہوتی لیکن آپ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیں نماز کی قضا پڑھنے کا حکم نہ دیتے تھے۔ (یعنی اگر حکم ہوتا تو ہم ضرور ان نمازوں کی قضا کرتے۔ حروریہ کا مطلب گزر چکا ہے۔)
حدیث نمبر: 1023
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ كَثِيرٍ أَبِي إِسْمَاعِيل، قَالَ: قُلْت لِفَاطِمَةَ يَعْنِي بِنْتَ عَلِيٍّ: "أَتَقْضِينَ الصَلَاةَ أَيَّامِ حَيْضِكِ ؟، قَالَتْ: لَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
کثیر بن اسماعیل نے کہا: میں نے فاطمہ بنت علی سے دریافت کیا: کیا آپ ایام حیض کی نماز قضا پڑھتی ہیں؟ جواب دیا: نہیں۔
حدیث نمبر: 1024
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا سَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ: أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ ؟، قَالَتْ: "أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ ؟ قَدْ حِضْنَ نِسَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُنَّ يَجْزِينَ"، قَالَ عَبْد اللَّهِ: مَعْنَاهُ أَنَّهُنَّ لَا يَقْضِينَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک عورت نے پوچھا: کیا حائضہ نماز کی قضا کرے گی؟ جواب دیا: کیا تم حروریہ ہو؟ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کو حیض آتا، کیا آپ نے انہیں قضاء کا حکم دیا؟ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: اس کا مطلب ہے ازواج مطہرات قضا نہیں کرتی تھیں۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1017 سے 1024)
کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قضا کا حکم دیا ہے؟ یہ استفہام انکاری ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی حکم کسی کو نہیں دیا۔
خلاصہ یہ کہ حائضہ پر نماز کی قضا نہیں ہے، البتہ روزہ قضاء کرے گی۔
کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قضا کا حکم دیا ہے؟ یہ استفہام انکاری ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی حکم کسی کو نہیں دیا۔
خلاصہ یہ کہ حائضہ پر نماز کی قضا نہیں ہے، البتہ روزہ قضاء کرے گی۔