مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن دارميابوابباب: نفاس کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 984
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ فِي النُّفَسَاءِ "كَطُهْرِ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
قتادۃ نے نفاس والی عورتوں کے بارے میں کہا کہ ان کی پاکی ان جیسی عورتوں کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 984
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 988]» ¤ اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1200]
حدیث نمبر: 985
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ فِي النُّفَسَاءِ "تُمْسِكُ عَنْ الصَّلَاةِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَإِنْ رَأَتْ الطُّهْرَ فَذَاكَ، وَإِنْ لَمْ تَرَ الطُّهْرَ، أَمْسَكَتْ عَنْ الصَّلَاةِ أَيَّامًا خَمْسًا، سِتًّا، فَإِنْ طَهُرَتْ فَذَاكَ، وَإِلَّا أَمْسَكَتْ عَنْ الصَّلَاةِ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْخَمْسِينَ، فَإِنْ طَهُرَتْ فَذَاكَ، وَإِلَّا فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن رحمہ اللہ سے نفاس والی عورتوں کے بارے میں مروی ہے کہ وہ چالیس دن تک نماز سے رکی رہیں گی، چالیس دن میں پا کی ہو جائے تو ٹھیک ہے، ورنہ پانچ یا چھ دن اور نماز سے رکی رہیں گی، (45 دن بعد) پھر اگر طہر ہو جائے تو ٹھیک ورنہ 45 سے 50 تک اور نماز سے رکی رہیں گی، پھر اگر پاکی ہو جائے تو ٹھیک ورنہ پھر مستحاضہ میں شمار ہوں گی۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 985
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 989]» ¤ اس قول کی سند ضعیف ہے، اور (855) میں گزر چکی ہے۔ نیز آنے والی تخریج دیکھئے۔
حدیث نمبر: 986
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّهُ كَانَ "لَا يَقْرَبُ النُّفَسَاءَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا"، وقَالَ الْحَسَنُ: "النُّفَسَاءُ خَمْسَةٌ وَأَرْبَعُونَ إِلَى خَمْسِينَ، فَمَا زَادَ فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عثمان بن ابی العاص نفاس والی عورت کے چالیس دن تک قریب نہیں جاتے تھے، (یعنی جماع سے پرہیز کرتے تھے)۔ اور امام حسن رحمہ اللہ نے کہا: نفاس والی عورتیں پنتالیس سے پچاس دن تک ہیں، اس کے بعد مستحاضہ شمار ہوں گی۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 986
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده منقطع الحسن لم يسمع من عثمان شيئا
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده منقطع الحسن لم يسمع من عثمان شيئا، [مكتبه الشامله نمبر: 990]» ¤ اس روایت کی سند میں انقطاع ہے، کیونکہ حسن نے عثمان سے نہیں سنا۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1201] و [المنتقى لابن الجارود 118]
حدیث نمبر: 987
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: "وَقْتُ النُّفَسَاءِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَإِنْ طَهُرَتْ، وَإِلَّا فَلَا تُجَاوِزْهُ حَتَّى تُصَلِّيَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عثمان بن ابی العاص نے کہا: نفاس کی مدت چالیس دن ہے، اگر پاک ہو جائے تو ٹھیک ورنہ نماز پڑھے گی، اس سے تجاوز نہ کرے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 983 سے 987)
یعنی چالیس دن کے بعد بیٹھ نہ رہے بلکہ نماز پڑھے۔
مطلب یہ کہ وہ مستحاضہ کے حکم میں ہے۔
وہ نماز پڑھے گی اور شوہر اس سے ہم بستری کر سکتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 987
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف إسماعيل بن مسلم والحسن لم يسمع من عثمان شيئا
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف إسماعيل بن مسلم والحسن لم يسمع من عثمان شيئا، [مكتبه الشامله نمبر: 991]» ¤ اس روایت کی سند متعدد طرق سے مروی ہے، لیکن سب ضعیف ہیں، اور «فلا تجاوزه حتى تصلي» کا ذکر کہیں نہیں ہے۔ دیکھئے: [دارقطني 220/1، 67] ، [بيهقي 341/1] ، [مصنف عبدالرزاق 1202] و [التلخيص الحبير 171/1]
حدیث نمبر: 988
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "إِنْ كَانَ لِلنُّفَسَاءِ عَادَةٌ، وَإِلَّا جَلَسَتْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ نے کہا: اگر نفساء کی عادت معروف ہو تو ٹھیک ورنہ چالیس دن بیٹھ رہیں گی۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 988
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 992]» ¤ اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 368/4] و [بيهقي 341/1]
حدیث نمبر: 989
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "النِّفَاسُ حَيْضٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ نے کہا: نفاس حیض ہی ہے۔ (یعنی اس کا حکم حیض کا حکم ہے)۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 989
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف وابن جريج قد عنعن وهو مدلس
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف وابن جريج قد عنعن وهو مدلس، [مكتبه الشامله نمبر: 993]» ¤ اس قول کی سند ابن جریج کی وجہ سے ضعیف ہے، کیونکہ وہ مدلس ہیں، اور انہوں نے عنعنہ سے روایت کی ہے۔
حدیث نمبر: 990
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: "تَنْتَظِرُ النُّفَسَاءُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ نَحْوَهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: نفاس والی عورتیں تقریباً چالیس دن تک انتظار کریں گی۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 987 سے 990)
ان تمام روایات سے واضح ہوا کہ نفاس کی مدت چالیس دن ہے، ان دنوں میں حائضہ کی طرح نماز ترک کر دے گی، یہ مدت چالیس دن سے کم و بیش بھی ہو سکتی ہے، بعض فقہاء کے نزدیک چالیس دن سے زیادہ خون جاری رہے تو پچاس دن تک اور انتظار کرے گی، بعض نے کہا چالیس دن کے بعد وہ مستحاضہ کے حکم میں ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 990
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 994]» ¤ اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 368/4] ، [بيهقي 341/1] ، ورقم (995)۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔