حدیث نمبر: 984
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ فِي النُّفَسَاءِ "كَطُهْرِ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
قتادۃ نے نفاس والی عورتوں کے بارے میں کہا کہ ان کی پاکی ان جیسی عورتوں کی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 985
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ فِي النُّفَسَاءِ "تُمْسِكُ عَنْ الصَّلَاةِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَإِنْ رَأَتْ الطُّهْرَ فَذَاكَ، وَإِنْ لَمْ تَرَ الطُّهْرَ، أَمْسَكَتْ عَنْ الصَّلَاةِ أَيَّامًا خَمْسًا، سِتًّا، فَإِنْ طَهُرَتْ فَذَاكَ، وَإِلَّا أَمْسَكَتْ عَنْ الصَّلَاةِ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْخَمْسِينَ، فَإِنْ طَهُرَتْ فَذَاكَ، وَإِلَّا فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن رحمہ اللہ سے نفاس والی عورتوں کے بارے میں مروی ہے کہ وہ چالیس دن تک نماز سے رکی رہیں گی، چالیس دن میں پا کی ہو جائے تو ٹھیک ہے، ورنہ پانچ یا چھ دن اور نماز سے رکی رہیں گی، (45 دن بعد) پھر اگر طہر ہو جائے تو ٹھیک ورنہ 45 سے 50 تک اور نماز سے رکی رہیں گی، پھر اگر پاکی ہو جائے تو ٹھیک ورنہ پھر مستحاضہ میں شمار ہوں گی۔
حدیث نمبر: 986
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ أَنَّهُ كَانَ "لَا يَقْرَبُ النُّفَسَاءَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا"، وقَالَ الْحَسَنُ: "النُّفَسَاءُ خَمْسَةٌ وَأَرْبَعُونَ إِلَى خَمْسِينَ، فَمَا زَادَ فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عثمان بن ابی العاص نفاس والی عورت کے چالیس دن تک قریب نہیں جاتے تھے، (یعنی جماع سے پرہیز کرتے تھے)۔ اور امام حسن رحمہ اللہ نے کہا: نفاس والی عورتیں پنتالیس سے پچاس دن تک ہیں، اس کے بعد مستحاضہ شمار ہوں گی۔
حدیث نمبر: 987
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: "وَقْتُ النُّفَسَاءِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَإِنْ طَهُرَتْ، وَإِلَّا فَلَا تُجَاوِزْهُ حَتَّى تُصَلِّيَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عثمان بن ابی العاص نے کہا: نفاس کی مدت چالیس دن ہے، اگر پاک ہو جائے تو ٹھیک ورنہ نماز پڑھے گی، اس سے تجاوز نہ کرے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 983 سے 987)
یعنی چالیس دن کے بعد بیٹھ نہ رہے بلکہ نماز پڑھے۔
مطلب یہ کہ وہ مستحاضہ کے حکم میں ہے۔
وہ نماز پڑھے گی اور شوہر اس سے ہم بستری کر سکتا ہے۔
یعنی چالیس دن کے بعد بیٹھ نہ رہے بلکہ نماز پڑھے۔
مطلب یہ کہ وہ مستحاضہ کے حکم میں ہے۔
وہ نماز پڑھے گی اور شوہر اس سے ہم بستری کر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 988
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "إِنْ كَانَ لِلنُّفَسَاءِ عَادَةٌ، وَإِلَّا جَلَسَتْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ نے کہا: اگر نفساء کی عادت معروف ہو تو ٹھیک ورنہ چالیس دن بیٹھ رہیں گی۔
حدیث نمبر: 989
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "النِّفَاسُ حَيْضٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ نے کہا: نفاس حیض ہی ہے۔ (یعنی اس کا حکم حیض کا حکم ہے)۔
حدیث نمبر: 990
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: "تَنْتَظِرُ النُّفَسَاءُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ نَحْوَهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: نفاس والی عورتیں تقریباً چالیس دن تک انتظار کریں گی۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 987 سے 990)
ان تمام روایات سے واضح ہوا کہ نفاس کی مدت چالیس دن ہے، ان دنوں میں حائضہ کی طرح نماز ترک کر دے گی، یہ مدت چالیس دن سے کم و بیش بھی ہو سکتی ہے، بعض فقہاء کے نزدیک چالیس دن سے زیادہ خون جاری رہے تو پچاس دن تک اور انتظار کرے گی، بعض نے کہا چالیس دن کے بعد وہ مستحاضہ کے حکم میں ہے۔
ان تمام روایات سے واضح ہوا کہ نفاس کی مدت چالیس دن ہے، ان دنوں میں حائضہ کی طرح نماز ترک کر دے گی، یہ مدت چالیس دن سے کم و بیش بھی ہو سکتی ہے، بعض فقہاء کے نزدیک چالیس دن سے زیادہ خون جاری رہے تو پچاس دن تک اور انتظار کرے گی، بعض نے کہا چالیس دن کے بعد وہ مستحاضہ کے حکم میں ہے۔