حدیث نمبر: 927
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَتَبَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ: إِنِّي قَدْ اسْتُحِضْتُ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، فَبَلَغَنِي أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ"، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: "مَا نَجِدُ لَهَا غَيْرَ مَا قَالَ عَلِيٌّ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، ان کے پاس ایک عورت نے لکھا کہ میں اتنے اتنے دن سے استحاضہ میں مبتلا ہوں اور مجھے یہ خبر لگی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ ایسی عورت ہر نماز کے وقت غسل کرے گی؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فر مایا: قول علی کے علاوہ ہم تمہارے لئے کوئی رخصت نہیں پاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 928
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَوْ عِكْرِمَةُ، قَالَ: كَانَتْ زَيْنَبُ تَعْتَكِفُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تُرِيقُ الدَّمَ، فَأَمَرَهَا أَنْ "تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا: ابوسلمہ یا عکرمہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ام المومنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کرتی تھیں، اور ان کو (استحاضہ کا) خون جاری رہتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ہر نماز کے لئے غسل کریں۔
حدیث نمبر: 929
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ عَلِيًّا، وَابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا، يَقُولَانِ: "الْمُسْتَحَاضَةُ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
یحییٰ بن ابی کثیر سے مروی ہے کہ سیدنا علی اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ مستحاضہ ہر نماز کے وقت غسل کرے گی۔
حدیث نمبر: 930
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، يَقُولُ: "تَغْتَسِلُ بَيْنَ كُلِّ صَلَاتَيْنِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَتَغْتَسِلُ لِلْفَجْرِ غُسْلًا وَاحِدًا"، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: وَكَانَ الزُّهْرِيُّ، وَمَكْحُولٌ، يَقُولَانِ: "تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: میں نے عطاء بن ابی رباح سے سنا کہ (مستحاضہ) ہر دو نمازوں کے لئے ایک غسل اور فجر کے لئے الگ غسل کرے گی۔ امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: زہری و مکحول رحمہما اللہ کہتے تھے کہ ہر نماز کے لئے غسل کرے گی۔
حدیث نمبر: 931
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، قَالَ وَهْبٌ: أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ، وَإِنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَاكَ، فَأَمَرَهَا "أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّيَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوسلمہ سے مروی ہے ام حبیبہ نے کہا: وہب نے ذکر کیا کہ ام حبیبہ بنت جحش کو خون آتا رہتا تھا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا، تو آپ نے حکم فرمایا: ”ہر نماز کے وقت غسل کر کے نماز پڑھیں۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 914 سے 931)
امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اس روایت کے تحت لکھا ہے: اگر طاقت ہو تو ہر نماز کے لئے غسل کرے گی، اور اگر مشقت کی وجہ سے پریشان ہو تو وضو کر کے نماز پڑھ لے گی۔
ان مختلف روایات کا یہی حل ہے۔
والله اعلم۔
امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اس روایت کے تحت لکھا ہے: اگر طاقت ہو تو ہر نماز کے لئے غسل کرے گی، اور اگر مشقت کی وجہ سے پریشان ہو تو وضو کر کے نماز پڑھ لے گی۔
ان مختلف روایات کا یہی حل ہے۔
والله اعلم۔
حدیث نمبر: 932
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: كَتَبَتْ امْرَأَةٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ، وَإِنِّي أُذَكِّرُكُمَا اللَّهَ إِلَّا أَفْتَيْتُمَانِي، وَإِنِّي سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالُوا: كَانَ عَلِيٌّ، يَقُولُ: "تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ"، فَقَرَأْتُ، وَكَتَبْتُ الْجَوَابَ بِيَدِي مَا أَجِدُ لَهَا إِلَّا مَا قَالَ عَلِيٌّ، فَقِيلَ: إِنَّ الْكُوفَةَ أَرْضٌ بَارِدَةٌ، فَقَالَ: "لَوْ شَاءَ اللَّهُ لَابْتَلَاهَا بِأَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوبشر (جعفر بن ابي وحشيہ) نے کہا: میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ کو کہتے سنا: ایک عورت نے سیدنا ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم کے پاس لکھا کہ میں مستحاضہ ہوں، پاک نہیں ہوتی ہوں، اور میں تم دونوں کو اللہ کی یاد دلا کر درخواست کرتی ہوں کہ مجھے فتویٰ دیجئے، میں نے اس بارے میں پوچھا تو لوگوں نے مجھے یہ بتایا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ایسی عورت ہر نماز کے لیے غسل کرے گی۔ ابوبشر نے کہا: میں نے یہ خط پڑھ کر سنایا اور اپنے ہاتھ سے جواب لکھا کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قول کے علاوہ کچھ نہیں پاتا ہوں (یعنی انہوں نے جو کہا وہ صحیح ہے)۔ عرض کیا گیا کہ کوفہ ٹھنڈا مقام ہے، فرمایا: اگر اللہ چاہتا تو اس سے بڑی مصیبت میں انہیں مبتلا کر دیتا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 931)
عرض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ سردی میں ہر نماز کے لئے غسل کرنا بہت تکلیف دہ ہوگا، فرمایا: یہ تو کچھ نہیں، اللہ چاہے تو اس سے بڑی مصیبت میں مبتلا کر دے۔
عرض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ سردی میں ہر نماز کے لئے غسل کرنا بہت تکلیف دہ ہوگا، فرمایا: یہ تو کچھ نہیں، اللہ چاہے تو اس سے بڑی مصیبت میں مبتلا کر دے۔
حدیث نمبر: 933
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: إِنَّ أَرْضَهَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ، فَقَالَ: "تُؤَخِّرُ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلُ الْعَصْرَ، وَتَغْتَسِلُ غُسْلًا، وَتُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ، وَتُعَجِّلُ الْعِشَاءَ، وَتَغْتَسِلُ غُسْلًا، وَتَغْتَسِلُ لِلْفَجْرِ غُسْلًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا گیا کہ ان کا علاقہ ٹھنڈا علاقہ ہے تو انہوں نے فرمایا: (تب پھر) ظہر کو تاخیر اور عصر کو جلدی پڑھ لے، اور ایک بار غسل کر لے، مغرب دیر سے اور عشاء جلدی ایک غسل سے پڑھ لے، اور فجر کے لئے ایک بار غسل کر لے۔
حدیث نمبر: 934
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَنَّ ابْنَةَ جَحْشٍ كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ "وَكَانَتْ تُسْتَحَاضُ، فَكَانَتْ تَخْرُجُ مِنْ مِرْكَنِهَا وَإِنَّهُ لَعَالِيهِ الدَّمُ فَتُصَلِّي".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جحش کی بیٹی عبدالرحمٰن بن عوف کے نکاح میں تھیں اور انہیں خون جاری رہتا تھا، اور جب وہ تسلے یا ٹب سے نکلتیں تو خون پانی کے اوپر آ جاتا تھا، پھر وہ نماز پڑھتی تھیں۔
حدیث نمبر: 935
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ سَعِيدٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، وَيَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ، يَقُولَانِ: "تُفْرِدُ لِكُلِّ صَلَاةٍ اغْتِسَالَةً"، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: وَبَلَغَنِي عَنْ مَكْحُولٍ، مِثْلُ ذَلِكَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: میں نے امام زہری اور یحییٰ بن ابی کثیر رحمہما اللہ سے سنا: وہ کہتے تھے کہ وہ (مستحاضہ) ہر نماز کے لئے علاحدہ غسل کرے گی۔ امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: اور مکحول سے بھی مجھے یہی روایت پہنچی ہے۔
حدیث نمبر: 936
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ، يَقُولُ: "لِكُلِّ صَلَاتَيْنِ اغْتِسَالَةٌ، وَتُفْرِدُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ اغْتِسَالَةً".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام اوزاعی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ مجھے عطاء رحمہ اللہ نے خبر دی کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: ہر دو نماز کے لئے غسل ہے، صرف نماز فجر ایک غسل سے پڑھے گی۔
حدیث نمبر: 937
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حَمَّادٍ الْكُوفِيِّ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ، فَقَالَ: "عَلَيْكِ بِالْمَاءِ فَانْضَحِيهِ، فَإِنَّهُ يَقْطَعُ الدَّمَ عَنْكِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ایک عورت نے امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ مجھے خون جاری رہتا ہے۔ تو انہوں نے کہا: پانی چھڑک لیا کرو، وہ تم سے خون کو روک دے گا۔
حدیث نمبر: 938
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ فِي الْمُطَلَّقَةِ الَّتِي ارْتِيبَ بِهَا "تَرَبَّصُ سَنَةً، فَإِنْ حَاضَتْ وَإِلَّا تَرَبَّصَتْ بَعْدَ انْقِضَاءِ السَّنَةِ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ، فَإِنْ حَاضَتْ وَإِلَّا فَقَدْ انْقَضَتْ عِدَّتُهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن رحمہ اللہ سے اس مطلقہ کے بارے میں مروی ہے جس کے حیض کا پتہ نہ چل سکے (یعنی آتا ہے یا رک گیا ہے)، انہوں نے کہا: پورے سال وہ انتظار کرے گی، حیض آیا تو ٹھیک ورنہ ایک سال کے بعد تین مہینے عدت گزارے گی، پھر حیض آیا تو ٹھیک ہے، نہیں آیا تو اس کی عدت پوری ہو گئی۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 932 سے 938)
مطلب یہ ہے کہ حیض رک گیا ہے اور طلاق ہوگئی تو ایک سال تک حیض کا انتظار کرے گی، اور پھر تین مہینے عدت کے گذارے گی، ان تین مہینوں کے اندر حیض آجائے تو حیض کے حساب سے عدت گذارے گی، اور تین ماہ کے دوران پھر حیض رک جائے تو تین مہینے گزار لے تو اس کی عدت پوری مانی جائے گی۔
جیسا کہ مصنف عبدالرزاق میں تفصیلاً ذکر ہے۔
مطلب یہ ہے کہ حیض رک گیا ہے اور طلاق ہوگئی تو ایک سال تک حیض کا انتظار کرے گی، اور پھر تین مہینے عدت کے گذارے گی، ان تین مہینوں کے اندر حیض آجائے تو حیض کے حساب سے عدت گذارے گی، اور تین ماہ کے دوران پھر حیض رک جائے تو تین مہینے گزار لے تو اس کی عدت پوری مانی جائے گی۔
جیسا کہ مصنف عبدالرزاق میں تفصیلاً ذکر ہے۔
حدیث نمبر: 939
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ: سُئِلَ مَالِكٌ عَنْ عِدَّةِ الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا طُلِّقَتْ، فَحَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: "عِدَّتُهَا سَنَةٌ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: هُوَ قَوْلُ مَالِكٍ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام مالک رحمہ اللہ سے مستحاضہ کی طلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے ابن شہاب (زہری) عن سعید بن المسیب رحمہما اللہ سے نقل کیا کہ اس کی عدت ایک سال ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ امام مالک رحمہ اللہ کا قول ہے۔
حدیث نمبر: 940
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سُئِلَ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ الْمَرْأَةِ تُطَلَّقُ وَهِيَ الشَّابَّةٌ فترتفع حيضتها من غير كبر، قَالَ: "مِنْ غَيْرِ حَيْضٍ تَحَيَّضُ ؟ !"، وَقَالَ طَاوُسٌ: "ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عمرو بن دینار نے کہا: جابر بن زید سے ایسی نوجوان لڑکی کی طلاق کے بارے میں دریافت کیا گیا، بنا کبر سنی کے جس کا حیض رک گیا ہو، (اس کی عدت کیا ہو گی؟) تو انہوں نے فرمایا: بنا حیض کے حیض کی طرح کی مدت گزارے گی۔ امام طاؤوس رحمہ اللہ نے (وضاحت کی) فرمایا: تین مہینے عدت گزارے گی۔
حدیث نمبر: 941
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: "إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَحَاضَتْ حَيْضَةً أَوْ حَيْضَتَيْنِ، ثُمَّ ارْتَفَعَتْ حَيْضَتُهَا إِنْ كَانَ ذَلِكَ مِنْ كِبَرٍ، اعْتَدَّتْ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ، وَإِنْ كَانَتْ شَابَّةً وَارْتَابَتْ، اعْتَدَّتْ سَنَةً بَعْدَ الرِّيبَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
معمر سے مروی ہے امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے اور ایک یا دو مرتبہ حیض آنے کے بعد رک جائے، اور یہ رکاوٹ زیادہ عمر کی وجہ سے ہو تو تین مہینے عدت کے پورے کرے گی، اور کم عمر ہے اور شبہ میں پڑ گئی تو شک پڑنے کے بعد ایک سال تک عدت گزارے گی۔
حدیث نمبر: 942
أَخْبَرَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: "الْمُسْتَحَاضَةُ وَالَّتِي لَا يَسْتَقِيمُ لَهَا حَيْضٌ فَتَحِيضُ فِي شَهْرٍ مَرَّةً وَفِي الشَّهْرِ مَرَّتَيْنِ، عِدَّتُهَا ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
قتادہ سے مروی ہے: عکرمہ (مولى سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے کہا: مستحاضہ اور وہ عورت جس کا حیض برقرار نہ رہے، کبھی مہینے میں ایک بار کبھی دو بار حیض آئے، اس کی عدت تین مہینے ہو گی (یعنی طلاق کی عدت)۔
حدیث نمبر: 943
أَخْبَرَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ: "تَعْتَدُّ بِالْأَقْرَاءِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ہشام سے مروی ہے حماد نے کہا: وہ تین قروء (یعنی تین حیض) عدت گزارے گی۔
حدیث نمبر: 944
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: "عِدَّةُ الْمُسْتَحَاضَةِ سَنَةٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید بن المسيب رحمہ اللہ نے فرمایا: مستحاضہ کی عدت ایک سال ہے۔
حدیث نمبر: 945
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "الْمُسْتَحَاضَةُ تَعْتَدُّ بِالْأَقْرَاءِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: مستحاضہ حیض کے حساب سے عدت گزارے گی، یعنی اگر اسے طلاق دے دی جائے تو تین قروء عدت ہے۔
حدیث نمبر: 946
أَخْبَرَنَا خَلِيفَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: "بِالْأَقْرَاءِ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: أَهْلُ الْحِجَازِ، يَقُولُونَ: "الْأَقْرَاءُ: الْأَطْهَارُ"، وَقَالَ أَهْلُ الْعِرَاقِ: هُوَ الْحَيْضُ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَأَنَا أَقُولُ: "هُوَ الْحَيْضُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام زہری رحمہ اللہ نے کہا: اقراء (یعنی حیض یا طہر کے حساب) سے عدت گزارے گی۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: اہل حجاز ”اقراء“ سے مراد طہر پاکی کی حالت کو لیتے ہیں، اور اہل عراق نے اس سے مراد حیض (کی حالت و مدت) کو لیا ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: اور میرے نزدیک وہ حیض ہے۔
حدیث نمبر: 947
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "الْمُسْتَحَاضَةُ تَعْتَدُّ بِالْأَقْرَاءِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: مستحاضہ اقراء کے حساب سے عدت گزارے گی۔
حدیث نمبر: 948
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ، عَنْ الْهِقْلِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ شَابَّةٌ تَحِيضُ، فَانْقَطَعَ عَنْهَا الْمَحِيضُ حِينَ طَلَّقَهَا، فَلَمْ تَرَ دَمًا، كَمْ تَعْتَدُّ؟، قَالَ: "ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ". .
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام اوزاعی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے (ابن شہاب) زہری رحمہ اللہ سے دریافت کیا ایسے آدمی کے بارے میں جس نے اپنی جوان بیوی کو طلاق دی، اسے حیض آتا تھا لیکن طلاق کے وقت حیض کا آنا بند ہو گیا، اور اس نے خون دیکھا ہی نہیں، تو اس کی عدت کتنی ہو گی ؟ فرمایا: تین مہینے۔
حدیث نمبر: 949
قَالَ: وَسَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَحَاضَتْ حَيْضَتَيْنِ ثُمَّ ارْتَفَعَتْ حَيْضَتُهَا، كَمْ تَرَبَّصُ؟، قَالَ: "عِدَّتُهَا سَنَةٌ". .
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: اور میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے یہ بھی پوچھا کہ ایک آدمی نے اپنی عورت کو طلاق دی، اسے دوبار حیض آیا پھر رک گیا تو کتنے دن عدت گزارے گی؟ فرمایا: اس کی عدت ایک سال ہو گی۔
حدیث نمبر: 950
قَالَ: وَسَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تَحِيضُ، تَمْكُثُ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ، ثُمَّ تَحِيضُ حَيْضَةً، ثُمَّ يَتَأَخَّرُ عَنْهَا الْحَيْضُ، ثُمَّ تَمْكُثُ السَّبْعَةَ الْأَشْهُرَ وَالثَّمَانِيَةَ، ثُمَّ تَحِيضُ أُخْرَى تَسْتَعْجِلُ إِلَيْهَا مَرَّةً وَتَسْتَأْخِرُ أُخْرَى، كَيْفَ تَعْتَدُّ؟، قَالَ: "إِذَا اخْتَلَفَتْ حِيضَتُهَا عَنْ أَقْرَائِهَا فَعِدَّتُهَا سَنَةٌ". .
محمد الیاس بن عبدالقادر
نیز فرمایا: میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے یہ بھی پوچھا: ایک آدمی نے اپنی عورت کو طلاق دے دی جسے حیض آتا تھا، وہ تین مہینے تک رکی رہی (یعنی حیض نہ آیا) پر ایک بار حیض آ گیا، پھر (ایک بار آ کر) حیض رک گیا اور سات آٹھ مہینے تک وہ بیٹھی رہی (حیض نہ آیا)، پھر دوسری بار حیض آ گیا، پہلی بار جلدی آ گیا، دوسری بار بہت دیر سے حیض آیا، تو وہ عدت کیسے گزارے گی؟ فرمایا: اس کا حیض وقت مقررہ میں الٹ پلٹ کر آیا تو اس کی ایک سال کی عدت ہو گی۔
حدیث نمبر: 951
قُلْتُ: وَكَيْفَ إِنْ كَانَ طَلَّقَ وَهِيَ تَحِيضُ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً كَمْ تَعْتَدُّ؟، قَالَ: "إِنْ كَانَتْ تَحِيضُ أَقْرَاؤُهَا مَعْلُومَةٌ هِيَ أَقْرَاؤُهَا، فَإِنَّا نُرَى أَنْ تَعْتَدَّ أَقْرَاءَهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: اگر طلاق ہو جائے اور ہر سال میں ایک بار حیض آئے، تب عدت کتنی ہو گی ؟ فرمایا: اگر اس کو وقت مقررہ پر حیض اور طہر ہوتا تھا، تو ہماری رائے میں وہ مدت حیض کی عدت گزارے گی۔
حدیث نمبر: 952
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ الرَّجُلِ يَبْتَاعُ الْجَارِيَةَ لَمْ تَبْلُغْ الْمَحِيضَ وَلَا تَحْمِلُ مِثْلُهَا، بِكَمْ يَسْتَبْرِئُهَا ؟، قَالَ: "بِثَلَاثَةِ أَشْهُرٍ". .
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام اوزاعی رحمہ اللہ سے مروی ہے: میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے دریافت کیا: آدمی نابالغ لونڈی خریدے، جس کے مثل حاملہ نہ ہو سکے تو اس کے استبراء رحم کی مدت کیا ہو گی؟ فرمایا: تین مہینے۔
حدیث نمبر: 953
وَقَالَ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ: "بِخَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ يَوْمًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا: پینتالیس دن کی مدت ہو گی۔
حدیث نمبر: 954
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: "تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مستحاضہ کے بارے میں فرماتے تھے کہ وہ ہر نماز کے لئے غسل کرے گی، پھر نماز پڑھے گی۔
حدیث نمبر: 955
وَقَالَ حَمَّادٌ: "لَوْ أَنَّ مُسْتَحَاضَةً جَهِلَتْ فَتَرَكَتْ الصَّلَاةَ أَشْهُرًا، فَإِنَّهَا تَقْضِي تِلْكَ الصَّلَوَاتِ، قِيلَ لَهُ: وَكَيْفَ تَقْضِيهَا ؟، قَالَ: تَقْضِيهَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ إِنْ اسْتَطَاعَتْ"، قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ: تَقُولُ بِهِ ؟، قَالَ: إِي وَاللَّهِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
حماد نے کہا: مستحاضہ عورت جہل کی وجہ سے کئی مہینے نماز نہ پڑھے، تو وہ ان تمام نمازوں کی قضا کرے گی، عرض کیا گیا: کیسے قضاء کرے گی؟ کہا کہ طاقت ہو تو ایک ہی دن میں ساری نمازیں قضا کی ادا کر لے۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے کہا گیا: آپ بھی یہی کہتے ہیں؟ فرمایا: «أي والله» (ہاں والله میں بھی یہی کہتا ہوں)۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 938 سے 955)
اس باب میں امام دارمی رحمہ اللہ نے اس عورت کے بارے میں جس کے حیض اور استحاضہ کے ایام خلط ملط ہو جائیں اس کے احکام اور مسائل احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اقوالِ ائمہ سے بیان کئے ہیں۔
931 سے 940 نمبر تک اس کا بیان ہے کہ مستحاضہ عورت ہر نماز کے لیے غسل کرے گی یا نہیں؟ اس مسئلہ میں صحیح یہ ہے کہ مشقت نہ ہو تو ہر نماز کے لئے غسل کر لے، ورنہ ظہر، عصر کے لئے ایک بار، اور مغرب و عشاء کے لئے ایک بار، اور فجر کے لئے ایک بار غسل کرے گی۔
دوسرا مسئلہ ایسی عورت کی عدت کا ہے، مستحاضہ عورت کو اگر طلاق ہو جائے تو اس کی عدت تین حیض ہے، اور اس کا خون رکتا نہ ہو تو عدت کتنی گزارے گی؟ اس بارے میں صحیح یہ ہے کہ ایسی عورت تین مہینے عدت گذارے گی، اور اگر مطلقہ عورت کا حیض رک گیا ہے تو وہ ایک سال کی مدت گذارے گی، نو مہینے استبراء کے اور تین مہینے عدت کے۔
واللہ اعلم۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: [فقه السنة: 331/2]۔
اس باب میں امام دارمی رحمہ اللہ نے اس عورت کے بارے میں جس کے حیض اور استحاضہ کے ایام خلط ملط ہو جائیں اس کے احکام اور مسائل احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اقوالِ ائمہ سے بیان کئے ہیں۔
931 سے 940 نمبر تک اس کا بیان ہے کہ مستحاضہ عورت ہر نماز کے لیے غسل کرے گی یا نہیں؟ اس مسئلہ میں صحیح یہ ہے کہ مشقت نہ ہو تو ہر نماز کے لئے غسل کر لے، ورنہ ظہر، عصر کے لئے ایک بار، اور مغرب و عشاء کے لئے ایک بار، اور فجر کے لئے ایک بار غسل کرے گی۔
دوسرا مسئلہ ایسی عورت کی عدت کا ہے، مستحاضہ عورت کو اگر طلاق ہو جائے تو اس کی عدت تین حیض ہے، اور اس کا خون رکتا نہ ہو تو عدت کتنی گزارے گی؟ اس بارے میں صحیح یہ ہے کہ ایسی عورت تین مہینے عدت گذارے گی، اور اگر مطلقہ عورت کا حیض رک گیا ہے تو وہ ایک سال کی مدت گذارے گی، نو مہینے استبراء کے اور تین مہینے عدت کے۔
واللہ اعلم۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: [فقه السنة: 331/2]۔