حدیث نمبر: 890
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْحَسَنِ، فِي الْمَرْأَةِ تَرَى الدَّمَ فِي أَيَّامِ طُهْرِهَا، قَالَ: "أَرَى أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُصَلِّيَ" . .
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن رحمہ اللہ نے اس عورت کے بارے میں کہا جو طہر کے ایام میں خون دیکھے، فرمایا: میری رائے میں غسل کر کے نماز پڑھے گی۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 889)
یعنی یہ استحاضہ کا خون شمار ہوگا۔
یعنی یہ استحاضہ کا خون شمار ہوگا۔
حدیث نمبر: 891
وقَالَ ابْنُ سِيرِينَ: "لَمْ يَكُونُوا يَرَوْنَ بِالْكُدْرَةِ وَالصُّفْرَةِ بَأْسًا" ..
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابن سیرین رحمہ اللہ نے کہا: صفرۃ و کدرۃ میں لوگ کوئی برائی سمجھتے نہ تھے۔
حدیث نمبر: 892
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ، فِي الْمَرْأَةِ تَرَى الصُّفْرَةَ بَعْدَ الطُّهْرِ، قَالَ: "تِلْكَ التَّرِيَّةُ تَغْسِلُهُ وَتَوَضَّأُ وَتُصَلِّي".
محمد الیاس بن عبدالقادر
محمد بن الحنفيۃ نے اس عورت کے بارے میں کہا جس کو طہر (پاکی) کے بعد زردی دکھائی دے کہ یہ تریہ (یعنی تری، رطوبت) ہے، اس کو وہ دھو لے وضو کرے اور نماز پڑھ لے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 890 سے 892)
«ترية» غالباً اردو کی تری سے ہے یعنی رطوبت۔
«ترية» غالباً اردو کی تری سے ہے یعنی رطوبت۔
حدیث نمبر: 893
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ وَحَجَّاجٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ يُونُسَ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "لَيْسَ فِي التَّرِيَّةِ شَيْءٌ بَعْدَ الْغُسْلِ إِلَّا الطُّهُورُ"، قَالَ عَبْد اللَّهِ: التَّرِيَّةُ الصُّفْرَةُ وَالْكُدْرَةُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: غسل کے بعد تریہ میں طہور کے سوا کچھ نہیں۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: تریہ سے مراد: صفرۃ و کدرة ہے۔
حدیث نمبر: 894
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، وَعَفَّانُ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: "إِذَا رَأَتْ الْمَرْأَةُ التَّرِيَّةَ بَعْدَ الْغُسْلِ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، فَإِنَّهَا تَطَهَّرُ وَتُصَلِّي".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہانے کے ایک یا دو دن کے بعد عورت تری محسوس کرے تو وہ صفائی کر کے نماز پڑھے گی۔
حدیث نمبر: 895
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "لَيْسَ فِي التَّرِيَّةِ بَعْدَ الْغُسْلِ إِلَّا الطُّهُورُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء نے فرمایا: غسل کے بعد تری میں سوائے صفائی کے اور کچھ نہیں۔
حدیث نمبر: 896
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أُمِّ الْهُذَيْلِ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، وَكَانَتْ قَدْ بَايَعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: "كُنَّا لَا نَعْتَدُّ بِالْكُدْرَةِ وَالصُّفْرَةِ بَعْدَ الْغُسْلِ شَيْئًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت بھی کی تھی، انہوں نے کہا: غسل کے بعد ہم صفرۃ و کدرۃ کی کچھ پرواہ نہیں کرتی تھیں۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 892 سے 896)
صحابی یا صحابیہ جب یہ کہیں کہ ہم ایسا کیا کرتے تھے تو یہ قواعدِ حدیث کے مطابق مرفوع مانا جاتا ہے۔
اس کا مطلب ہوا حیض رک جانے اور غسل کر لینے کے بعد جو رطوبت خارج ہو وہ مانع صلاۃ نہ ہوگی، عورت وضو کر کے نماز پڑھے گی۔
صحابی یا صحابیہ جب یہ کہیں کہ ہم ایسا کیا کرتے تھے تو یہ قواعدِ حدیث کے مطابق مرفوع مانا جاتا ہے۔
اس کا مطلب ہوا حیض رک جانے اور غسل کر لینے کے بعد جو رطوبت خارج ہو وہ مانع صلاۃ نہ ہوگی، عورت وضو کر کے نماز پڑھے گی۔
حدیث نمبر: 897
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِذَا رَأَتْ الْحَائِضُ دَمًا عَبِيطًا بَعْدَ الْغُسْلِ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ، فَإِنَّهَا تُمْسِكُ عَنْ الصَّلَاةِ يَوْمًا، ثُمَّ هِيَ بَعْدَ ذَلِكَ مُسْتَحَاضَةٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: حیض والی عورت نہانے کے ایک یا دو دن بعد اگر جما ہوا تازہ خون دیکھے تو ایک دن اور نماز نہ پڑھے، اس کے بعد وہ مستحاضہ مانی جائے گی۔
حدیث نمبر: 898
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "إِذَا تَطَهَّرَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ الْمَحِيضِ، ثُمَّ رَأَتْ بَعْدَ الطُّهْرِ مَا يَرِيبُهَا، فَإِنَّمَا هِيَ رَكْضَةٌ مِنْ الشَّيْطَانِ فِي الرَّحِمِ، فَإِذَا رَأَتْ مِثْلَ الرُّعَافِ، أَوْ قَطْرَةِ الدَّمِ، أَوْ غُسَالَةِ اللَّحْمِ، تَوَضَّأَتْ وُضُوءَهَا لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ تُصَلِّي فَإِنْ كَانَ دَمًا عَبِيطًا الَّذِي لَا خَفَاءَ بِهِ، فَلْتَدَعْ الصَّلَاةَ" , قَالَ أَبُو مُحَمَّد: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ، يَقُولُ: "إِذَا كَانَ أَيَّامُ الْمَرْأَةِ سَبْعَةً، فَرَأَتْ الطُّهْرَ بَيَاضًا، فَتَزَوَّجَتْ ثُمَّ رَأَتْ الدَّمَ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعَشْرِ، فَالنِّكَاحُ جَائِزٌ صَحِيحٌ، فَإِنْ رَأَتْ الطُّهْرَ دُونَ السَّبْعِ، فَتَزَوَّجَتْ ثُمَّ رَأَتْ الدَّمَ، فَلَا يَجُوزُ، وَهُوَ حَيْضٌ"، وسُئِلَ عَبْد اللَّهِ: تَقُولُ بِهِ ؟، قَالَ: نَعَمْ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عورت جب حیض سے پاک ہو جائے، پھر پاکی کے بعد ایسی چیز دیکھے جو اسے شک میں ڈال دے، تو یہ رحم میں شیطان کی حرکت ہے، پس جب نکسیر کی طرح کا یا خون کا دھبہ یا گوشت کی دھوون جیسی کوئی چیز دیکھے تو نماز کا وضو کر لے اور نماز پڑھ لے، اور اگر تازہ خون دیکھے جس میں شک و شبہ نہ ہو تو نماز ترک کر دے (یعنی اسے حیض کا خون شمار کرے)۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے یزید بن ہارون کو کہتے سنا: اگر عورت کی مدت حیض سات دن ہو اور وہ طہر کی سفیدی دیکھ لے پھر شادی کر لے، اور پھر اس 7 یوم کی مدت سے دس دن کے اندر خون دیکھے تو اس کا نکاح جائز و صحیح ہے۔ اور اگر سات دن سے کم میں پاک ہو گئی اور شادی کر لی، پھر خون آ گیا تو اس کا نکاح صحیح و جائز نہیں، وہ حیض کا خون ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: آپ بھی یہی کہتے ہیں؟ فرمایا: ہاں۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 896 سے 898)
یعنی آخری حیض کے سات دن پورے ہونے پر اس کی عدت پوری ہوگئی، لہٰذا نکاح جائز ہے اور خونِ استحاضہ مانا جائے گا، اور سات دن سے کم مدت میں خون رک کر پھر آ گیا تو وہ حیض کا خون ہے، لہٰذا عدت پوری نہیں ہوئی اس لئے نکاح جائز نہیں۔
یعنی آخری حیض کے سات دن پورے ہونے پر اس کی عدت پوری ہوگئی، لہٰذا نکاح جائز ہے اور خونِ استحاضہ مانا جائے گا، اور سات دن سے کم مدت میں خون رک کر پھر آ گیا تو وہ حیض کا خون ہے، لہٰذا عدت پوری نہیں ہوئی اس لئے نکاح جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 899
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْمَرْأَةِ "يَكُونُ حَيْضُهَا سِتَّةَ أَيَّامٍ، أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ، ثُمَّ تَرَى كُدْرَةً أَوْ صُفْرَةً، أَوْ تَرَى الْقَطْرَةَ أَوْ الْقَطْرَتَيْنِ مِنْ الدَّمِ، أَنَّ ذَلِكَ بَاطِلٌ وَلَا يَضُرُّهَا شَيْءٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایسی عورت کے بارے میں مروی ہے جس کی مدت حیض چھ یا سات دن ہو، پھر وہ صفرہ یا کدرہ یا ایک قطره یا دو قطرے خون کے دیکھے تو یہ بے کار ہے اور اس میں کوئی مضرت نہیں۔
حدیث نمبر: 900
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، قَالَ: "سَأَلْتُ عَطَاءً عَنْ الْمَرْأَةِ تَغْتَسِلُ مِنْ الْحَيْضِ، فَتَرَى الصُّفْرَةَ، قَالَ: تَوَضَّأُ وَتَنْضَحُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالکریم نے کہا: میں نے عطاء سے اس عورت کے بارے میں پوچھا جو حیض سے فارغ ہو کر غسل کر لے، پھر زردی آ جائے، انہوں نے کہا: وہ وضو کر کے چھینٹے مار لے۔
حدیث نمبر: 901
أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ، قَالَ: "تَدَعُ الصَّلَاةَ فِي قُرُوئِهَا ذَلِكَ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ، ثُمَّ تَغْتَسِلُ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْأُولَى نَظَرَتْ، فَإِنْ كَانَتْ تَرِيَّةً، تَوَضَّأَتْ وَصَلَّتْ، وَإِنْ كَانَ دَمًا، أَخَّرَتْ الظُّهْرَ وَعَجَّلَتْ الْعَصْرَ، ثُمَّ صَلَّتْهُمَا بِغُسْلٍ وَاحِدٍ، فَإِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ نَظَرَتْ، فَإِنْ كَانَتْ تَرِيَّةً، تَوَضَّأَتْ وَصَلَّتْ، وَإِنْ كَانَ دَمًا، أَخَّرَتْ الْمَغْرِبَ وَعَجَّلَتْ الْعِشَاءَ، ثُمَّ صَلَّتْهُمَا بِغُسْلٍ وَاحِدٍ، فَإِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، نَظَرَتْ، فَإِنْ كَانَتْ تَرِيَّةً، تَوَضَّأَتْ وَصَلَّتْ، وَإِنْ كَانَ دَمًا، اغْتَسَلَتْ وَصَلَّتْ الْغَدَاةَ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: "الْأَقْرَاءُ عِنْدِي: الْحَيْضُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء نے مستحاضہ کے بارے میں فرمایا: وہ ایام حیض کے بعد ایک دو دن اور نماز نہ پڑھے گی، بعدہ غسل کرے گی، پھر اگر تری دیکھے تو وضو کر کے نماز پڑھے گی، اور اگر خون دیکھے تو ظہر میں دیر کر کے عصر جلدی پڑھے اور دونوں نمازوں کے لئے ایک مرتبہ غسل کرے گی۔ جب سورج غروب ہو جائے اور تری دیکھے تو وضو کر کے نماز پڑھے گی، اور اگر وہ خون ہو تو مغرب مؤخر کر کے عشاء جلدی پڑھے گی اور دونوں نمازوں کو ایک غسل سے پڑھے گی، اور طلوع فجر کے وقت اگر تری دیکھے تو وضو کر کے نماز پڑھ لے اور اگر اس وقت بھی خون نظر آئے تو ایک دن رات میں تین مرتبہ غسل کر کے نماز پڑھے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: اقراء سے مراد میرے نزدیک حیض ہے۔
حدیث نمبر: 902
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "اعْتَكَفَ، وَاعْتَكَفَ مَعَهُ بَعْضُ نِسَائِهِ وَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ تَرَى الدَّمَ، فَرُبَّمَا وَضَعَتْ الطَّسْتَ تَحْتَهَا مِنْ الدَّمِ"، وَزَعَمَ أَنَّ عَائِشَةَ رَأَتْ مَاءَ الْعُصْفُرِ، فَقَالَتْ: "كَأَنَّ هَذَا شَيْءٌ كَانَتْ فُلَانَةُ تَجِدُهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کیا، آپ کے ساتھ آپ کی بعض ازواج نے بھی اعتکاف کیا، حالانکہ وہ مستحاضہ تھیں اور خون آ رہا تھا، اور خون کی وجہ سے وہ نیچے طست رکھ لیتی تھیں۔ عکرمہ نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے زرد رنگ کا پانی دیکھا تو فرمایا: اس طرح کا پانی فلاں صاحبہ کو آتا تھا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 898 سے 902)
اس سے معلوم ہوا کہ مستحاضہ اعتکاف بھی کر سکتی ہے اور زردی نماز، روزے اور اعتکاف میں حائل نہیں ہوگی۔
اس سے معلوم ہوا کہ مستحاضہ اعتکاف بھی کر سکتی ہے اور زردی نماز، روزے اور اعتکاف میں حائل نہیں ہوگی۔
حدیث نمبر: 903
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ الْحَجَّاجِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَطَاءً عَنْ الْمَرْأَةِ تَطْهُرُ مِنْ الْمَحِيضِ، ثُمَّ تَرَى الصُّفْرَةَ، قَالَ: "تَوَضَّأُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حجاج بن ارطاۃ نے کہا: میں نے عطا ء سے اس عورت کے بارے میں پوچھا جو حیض سے پاک ہو گئی پھر زردی دیکھے، تو انہوں نے کہا: وضو کر لے۔
حدیث نمبر: 904
قَالَ أَبُو مُحَمَّد: قَرَأْتُ عَلَى زَيْدِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ هُوَ ابْنُ أَنَسٍ، قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنْ الْمَرْأَةِ كَانَ حَيْضُهَا سَبْعَةَ أَيَّامٍ، فَزَادَتْ حَيْضَتُهَا، قَالَ: "تَسْتَظْهِرُ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: میں نے زید بن یحییٰ پر مالک بن انس کی روایت پڑھی اور ان سے اس عورت کے بارے میں پوچھا جس کی مدت حیض سات دن ہو اور خون جاری رہے، تو انہوں نے فرمایا: تین دن مزید انتظار کرے گی۔ (یعنی دس دن تک حائضہ شمار ہو گی، پھر مستحاضہ کے حکم میں داخل ہو گی۔)