حدیث نمبر: 881
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، قَالَتْ: "كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَنْهَى النِّسَاءَ أَنْ يَنْظُرْنَ لَيْلًا فِي الْمَحِيضِ، وَتَقُولُ: إِنَّهُ قَدْ يَكُونُ الصُّفْرَةَ وَالْكُدْرَةَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عمرہ سے مروی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عورتوں کو رات میں حیض کا خون دیکھنے سے روکتی تھیں، اور فرمائی تھیں: ہو سکتا ہے وہ زرد یا گدلا پانی ہو۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 880)
یعنی رات کے دیکھے پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے، دن کی روشنی میں ہی صحیح اعتبار ہوگا، یہ اس وقت کی بات ہے جب چراغ جلتے تھے اور تمیز مشکل تھی۔
یعنی رات کے دیکھے پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے، دن کی روشنی میں ہی صحیح اعتبار ہوگا، یہ اس وقت کی بات ہے جب چراغ جلتے تھے اور تمیز مشکل تھی۔
حدیث نمبر: 882
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مَوْلَاةِ عَمْرَةَ، قَالَتْ: "كَانَتْ عَمْرَةُ تَأْمُرُ النِّسَاءَ أَنْ لَا يَغْتَسِلْنَ حَتَّى تَخْرُجَ الْقُطْنَةُ بَيْضَاءَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عمرہ کی لونڈی ربط نے کہا کہ عمرہ عورتوں کو اس وقت تک غسل سے منع کرتی تھیں جب تک کہ روئی سفید نہ نکلے۔
حدیث نمبر: 883
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: "الْكُدْرَةُ وَالصُّفْرَةُ فِي أَيَّامِ الْحَيْضِ حَيْضٌ، وَكُلُّ شَيْءٍ رَأَتْهُ بَعْدَ أَيَّامِ الْحَيْضِ مِنْ دَمٍ أَوْ كُدْرَةٍ أَوْ صُفْرَةٍ، فَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ"، سُئِلَ عَبْدُ الله: تَأْخُذُ بِقَوْلِ سُفْيَانَ ؟، قَالَ: نَعَمْ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سفیان ثوری نے کہا: خاکی (مٹیالا پانی) اور زردی حیض کے ایام میں حیض ہی شمار ہو گا، اور ایام حیض کے بعد خون خاکی اور زردی میں سے ہر چیز استحاضہ شمار ہو گی۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: آپ سفیان کے قول کو مانتے ہیں؟ فرمایا: ہاں۔
حدیث نمبر: 884
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ صَاحِبَتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ، وَكَانَتْ فِي حِجْرِ عَمْرَةَ، قَالَتْ: أَرْسَلَتْ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى عَمْرَةَ بِكُرْسُفَةِ قُطْنٍ فِيهَا كَالصُّفْرَةِ تَسْأَلُهَا: هَلْ تَرَى إِذَا لَمْ تَرَ الْمَرْأَةُ مِنْ الْحِيضَةِ إِلَّا هَذَا أَنْ قَدْ طَهُرَتْ ؟ فَقَالَتْ: "لَا، حَتَّى تَرَى الْبَيَاضَ خَالِصًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
فاطمہ بنت محمد (جو عمرة کی پروردہ تھیں) نے کہا کہ قریش کی ایک عورت نے روئی کا ایک ٹکڑا عمرة کے پاس بھیجا، جس پر زردی جیسی چیز لگی تھی اور پوچھا کہ عورت حیض کے وقت صرف اس طرح کی زردی دیکھے تو کیا وہ پاک ہو گئی ؟ عمره نے جواب دیا کہ نہیں، جب تک کہ روئی بالکل سفید نہ نکلے (یعنی وہ عورت پاک نہیں ہوئی)۔
حدیث نمبر: 885
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: "كُنَّا نَكُونُ فِي حِجْرِهَا فَكَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ ثُمَّ تَطْهُرُ فَتَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي، ثُمَّ تَنْكُسُهَا الصُّفْرَةُ الْيَسِيرَةُ، فَتَأْمُرُنَا أَنْ نَعْتَزِلَ الصَّلَاةَ حَتَّى لَا نَرَى إِلَّا الْبَيَاضَ خَالِصًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
فاطمہ (بنت المنذر) نے کہا: ہم سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کی گود (و پرورش) میں تھے اور ہم میں سے کسی کو حیض آتا، پھر وہ پاک ہوتی تو غسل کرتی اور نماز پڑھتی تھی، پھر تھوڑی بہت زردی آتی تو وہ (سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا) ہم کو نماز چھوڑ دینے کا حکم دیتیں، تا آنکہ بالکل سفیدی ظاہر نہ ہو جائے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 881 سے 885)
یعنی وہ صفرة اور کدرة کو بھی حیض ہی شمار کرتی تھیں۔
یعنی وہ صفرة اور کدرة کو بھی حیض ہی شمار کرتی تھیں۔
حدیث نمبر: 886
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "الْكُدْرَةُ، وَالصُّفْرَةُ، وَالدَّمُ، فِي أَيَّامِ الْحَيْضِ بِمَنْزِلَةِ الْحَيْضِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء نے کہا: حیض کے دنوں میں صفرة و كدرۃ حیض میں شمار ہوگا۔ یعنی زردی و خاکی مٹیالی رطوبت حیض کے دنوں میں آئے تو حیض ہی ہے، لہٰذا وہ عورت نماز چھوڑ دے گی۔
حدیث نمبر: 887
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: "إِذَا رَأَتْ الدَّمَ، فَلْتُمْسِكْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّى تَرَى الطُّهْرَ أَبْيَضَ كَالْقَصَّةِ، ثُمَّ تَغْتَسِلْ وَتُصَلِّي".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب خون آئے تو نماز نہ پڑھے، یہاں تک کہ سفید قَصّہ نہ دیکھ لے، اس کے بعد غسل کرے اور نماز پڑھے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 885 سے 887)
«قَصَّه» کا مطلب ہے روئی یا کپڑا لگانے پر بلا دھبے کے صاف نکلے تب پاک سمجھی جائے گی۔
«قَصَّه» کا مطلب ہے روئی یا کپڑا لگانے پر بلا دھبے کے صاف نکلے تب پاک سمجھی جائے گی۔
حدیث نمبر: 888
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، قَالَ: "كَانَ الْحَسَنُ لَا يَعُدُّ الصُّفْرَةَ وَالْكُدْرَةَ، وَلَا مِثْلَ غُسَالَةِ اللَّحْمِ شَيْئًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عاصم الاحول نے کہا: امام حسن رحمہ اللہ صفرة و کدرة اور گوشت کی دھوون جیسے کو کچھ نہیں سمجھتے تھے۔ یعنی حیض سے نہیں گردانتے تھے۔
حدیث نمبر: 889
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: "كُنَّا لَا نَعُدُّ الصُّفْرَةَ وَالْكُدْرَةَ شَيْئًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: زردی و مٹیالی (رنگ) کو ہم کسی شمار میں نہ رکھتے تھے۔ یعنی اسے کوئی اہمیت نہ دیتے تھے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 887 سے 889)
ان دونوں آثار سے معلوم ہوا کہ حیض کی مدت ختم ہونے کے بعد صفره و کدرہ کی کوئی اہمیت نہیں اور ایامِ حیض کے دوران اگر آئے تو حیض ہی شمار ہوگا۔
امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام احمد اور سعید، و عطاء، وليث رحمہم اللہ وغیرہم کا یہی مسلک ہے اور یہ ہی صحیح ہے۔
دیکھئے: [نيل الأوطار] و [شرح قسطلاني]۔
ان دونوں آثار سے معلوم ہوا کہ حیض کی مدت ختم ہونے کے بعد صفره و کدرہ کی کوئی اہمیت نہیں اور ایامِ حیض کے دوران اگر آئے تو حیض ہی شمار ہوگا۔
امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام احمد اور سعید، و عطاء، وليث رحمہم اللہ وغیرہم کا یہی مسلک ہے اور یہ ہی صحیح ہے۔
دیکھئے: [نيل الأوطار] و [شرح قسطلاني]۔