حدیث نمبر: 873
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الْكَبِيرَةِ تَرَى الدَّمَ، قَالَ: "لَا نَرَاهُ حَيْضًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء نے بوڑھی عورت کے بارے میں جسے خون آ جائے کہا: ہم اسے حیض نہیں سمجھتے۔
حدیث نمبر: 874
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنِيهِ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ فِي امْرَأَةٍ تَرَكَهَا الْحَيْضُ ثَلَاثِينَ سَنَةً، ثُمَّ رَأَتْ الدَّمَ "فَأَمَرَ فِيهَا بِشَأْنِ الْمُسْتَحَاضَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء سے ایسی عورت کے بارے میں مروی ہے، جس کو تیس سال سے حیض نہیں آیا، پھر وہ خون دیکھے، تو انہوں نے (اس بوڑھی کو) مستحاضہ کی طرح کا حکم دیا۔ (یعنی وہ مستحاضہ کے حکم میں ہے، غسل و وضو کر کے نماز پڑھے گی۔)
حدیث نمبر: 875
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الْكَبِيرَةِ تَرَى الدَّمَ، قَالَ: "هِيَ بِمَنْزِلَةِ الْمُسْتَحَاضَةِ، تَفْعَلُ كَمَا تَفْعَلُ الْمُسْتَحَاضَةُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء نے کہا: عمر رسیدہ عورت کو خون آ جائے تو وہ مستحاضہ کے حکم میں ہے، اور ویسا ہی کرے گی جیسے مستحاضہ کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 876
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَالْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، في التي قعدت من المحيض، "إذا رأت الدم توضأت وصلت ولا تغتسل"، سئل عبد الله عَنْ الْكَبِيرَةِ، قَالَ: "تَوَضَّأُ وَتُصَلِّي، وَإِذَا طُلِّقَتْ تَعْتَدُّ بِالْأَشْهُرِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء اور حکم بن عتیبہ سے ایسی بوڑھی عورت کے بارے میں منقول ہے جس کا حیض رک گیا ہو اور اسے خون آ جائے، تو وہ وضو کر کے نماز پڑھے گی، غسل نہیں کرے گی۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: وضو کر کے نماز پڑھ لے گی اور طلاق دی جائے تو مہینے کے حساب سے عدت گزارے گی۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 871 سے 876)
بوڑھی عمر رسیدہ عورت کو حیض منقطع ہونے کے بعد اگر کبھی حیض آجائے تو یہ دمِ حیض شمار ہوگا یا دمِ استحاضہ؟ اس باب میں امام دارمی رحمہ اللہ نے عطاء بن أبی رباح اور حکم بن عتیبہ کے اقوال ذکر کئے ہیں اور اپنی رائے بھی یہ ہی ظاہر کی ہے کہ یہ دمِ استحاضہ مانا جائے گا اور ایسی بوڑھی عورت پر حیض کے احکام جاری نہ ہوں گے۔
فقہ السنہ میں سید سابق نے کہا ہے: آخر عمر تک جب بھی خون آئے وہ حیض کا ہی خون شمار کیا جائے گا کیونکہ اس کے مستحاضہ ہونے کی کوئی دلیل حدیث میں نہیں ہے۔
والله اعلم۔
دیکھئے: [فقه السنة 82/1-83]۔
بوڑھی عمر رسیدہ عورت کو حیض منقطع ہونے کے بعد اگر کبھی حیض آجائے تو یہ دمِ حیض شمار ہوگا یا دمِ استحاضہ؟ اس باب میں امام دارمی رحمہ اللہ نے عطاء بن أبی رباح اور حکم بن عتیبہ کے اقوال ذکر کئے ہیں اور اپنی رائے بھی یہ ہی ظاہر کی ہے کہ یہ دمِ استحاضہ مانا جائے گا اور ایسی بوڑھی عورت پر حیض کے احکام جاری نہ ہوں گے۔
فقہ السنہ میں سید سابق نے کہا ہے: آخر عمر تک جب بھی خون آئے وہ حیض کا ہی خون شمار کیا جائے گا کیونکہ اس کے مستحاضہ ہونے کی کوئی دلیل حدیث میں نہیں ہے۔
والله اعلم۔
دیکھئے: [فقه السنة 82/1-83]۔