حدیث نمبر: 796
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَأَلَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَيْضِ ؟، قَالَ: "خُذِي مَاءَكِ وَسِدْرَكِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَأَنْقِي، ثُمَّ صُبِّي عَلَى رَأْسِكِ حَتَّى تَبْلُغِي شُؤُونَ الرَّأْسِ، ثُمَّ خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً"، قَالَتْ: كَيْفَ أَصْنَعُ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَسَكَتَ، قَالَتْ: فَكَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَسَكَتَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَتَبَّعِي بِهَا آثَارَ الدَّمِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"يَسْمَعُ، فَمَا أَنْكَرَ عَلَيْهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ایک انصاری عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے غسل کے بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیری کے پتوں کا پانی لو، خون کے مقام کو اچھی طرح صاف کرو، پھر سر پر پانی ڈالو تا آنکہ بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچ جائے (اس طرح غسل کرو)، پھر مشک لگا ہوا ایک روئی کا پھایا لے کر لگالو“، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کیسے پھایا لگاؤں؟ آپ خاموش رہے، انہوں نے پھر عرض کیا: پھایا کیسے لگاؤں؟ پھر آپ خاموش رہے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سرگوشی کی کہ روئی کا پھایا مشک لگا ہوا لے کر خون کے مقام پر لگا لو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لیا اور اس کا انکار نہیں کیا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 795)
اس حدیث سے دینی معاملات میں شرم نہ کرنے کی تعلیم ملتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدتِ حيا کا پتہ چلتا ہے، کیوں نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصف ہی پہلی کتابوں میں یہ ہے کہ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکواس کرنے والے ہیں اور نہ بے حیائی کرنے والے، نہ فحش گو ہیں، بار بار پوچھنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف سبحان اللہ کہتے ہیں اور سکوت فرماتے ہیں۔
ایک روایت میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان صحابیہ کو اپنی طرف کھینچا اور طریقہ سکھلایا، «صلى اللّٰه على نبينا وقدوتنا محمد بن عبداللّٰه وسلم تسليما كثيرا» ۔
اس حدیث سے دینی معاملات میں شرم نہ کرنے کی تعلیم ملتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدتِ حيا کا پتہ چلتا ہے، کیوں نہ ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصف ہی پہلی کتابوں میں یہ ہے کہ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکواس کرنے والے ہیں اور نہ بے حیائی کرنے والے، نہ فحش گو ہیں، بار بار پوچھنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف سبحان اللہ کہتے ہیں اور سکوت فرماتے ہیں۔
ایک روایت میں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان صحابیہ کو اپنی طرف کھینچا اور طریقہ سکھلایا، «صلى اللّٰه على نبينا وقدوتنا محمد بن عبداللّٰه وسلم تسليما كثيرا» ۔
حدیث نمبر: 797
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ ؟، قَالَ: "لَا، إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ الْحَيْضَةُ، فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ، فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ، وَصَلِّي".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں مستحاضہ عورت ہوں، خون رکتا نہیں ہے تو کیا میں نماز چھوڑے رکھوں؟ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک رگ کا خون ہے (حیض نہیں) اس لئے جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب مدت حیض ختم ہو جائے تو خون کو دھو ڈالو اور نماز پڑھ لو۔“
حدیث نمبر: 798
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَنَّ ابْنَةَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "بِالْغُسْلِ لِكُلِّ صَلَاةٍ، فَإِنْ كَانَتْ لَتَدْخُلُ الْمِرْكَنَ وَإِنَّهُ لَمَمْلُوءٌ مَاءً، فَتَنْغَمِسُ فِيهِ، ثُمَّ تَخْرُجُ مِنْهُ، وَإِنَّ الدَّمَ فَوْقَهُ لَغَالِبُهُ، فَتُصَلِّي".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جحش کی بیٹی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں استحاضہ کی بیماری لاحق ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے وقت غسل کرنے کا حکم دیا۔ وہ جب پانی سے بھرے ہوئے (مرکن) ٹب میں بیٹھتیں ڈبکی لگاتیں اور پانی سے نکلتیں تو خون پانی کے اوپر چھا جاتا، پھر وہ نماز پڑھ لیتیں۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 796 سے 798)
اس حدیث سے بیماری کی حالت میں خون جاری رہے تو ہر نماز کے لئے غسل کرنا اور نماز پڑھنا ثابت ہوا۔
تفصیل آگے آ رہی ہے اور اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اگر کسی کو سلسل البول، ریاح یا ہوا یا مذی وغیرہ کی بیماری ہو تو وہ بھی اس مقام پر کپڑا لگا کر نماز کے وقت صفائی اور وضو کر کے نماز پڑھ لے۔
اس حدیث سے بیماری کی حالت میں خون جاری رہے تو ہر نماز کے لئے غسل کرنا اور نماز پڑھنا ثابت ہوا۔
تفصیل آگے آ رہی ہے اور اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اگر کسی کو سلسل البول، ریاح یا ہوا یا مذی وغیرہ کی بیماری ہو تو وہ بھی اس مقام پر کپڑا لگا کر نماز کے وقت صفائی اور وضو کر کے نماز پڑھ لے۔
حدیث نمبر: 799
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: إِنَّمَا هِيَ فُلَانَةُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ "أَمَرَهَا بِالْغُسْلِ لِكُلِّ صَلَاةٍ، فَلَمَّا شَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهَا، أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ، وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ، وَتَغْتَسِلَ لِلْفَجْرِ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: النَّاسُ يَقُولُونَ: سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ، قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: سُهَيْلَةُ بِنْتُ سَهْلٍ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ فلاں عورت ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نماز کے لئے غسل کا حکم دیا تھا، اور جب ہر نماز کے وقت نہانا ان کے لئے مشکل ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ظہر عصر ملا کر ایک غسل سے پڑھ لیں، اور مغرب و عشاء ایک غسل سے، اور فجر کے لئے علاحدہ غسل کریں۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: وہ خاتون لوگ کہتے ہیں سہلہ بنت سہیل تھیں، اور یزید بن ہارون نے کہا وہ سہیلہ بنت سہل تھیں۔
حدیث نمبر: 800
أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ عَنْ الْمُسْتَحَاضَةِ فَأَخْبَرَنِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَنَّ امْرَأَةً اسْتُحِيضَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُمِرَتْ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا ؟، قَالَ: لَا أُحَدِّثُكَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، قَالَ: "فَأُمِرَتْ أَنْ تُؤَخِّرَ الظُّهْرَ، وَتُعَجِّلَ الْعَصْرَ، وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا، وَتُؤَخِّرَ الْمَغْرِبَ، وَتُعَجِّلَ الْعِشَاءَ، وَتَغْتَسِلَ لَهُمَا غُسْلًا، وَتَغْتَسِلَ لِلصُّبْحِ غُسْلًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مرض استحاضہ میں مبتلا ہوئیں تو انہیں حکم دیا گیا ۔ ۔ ۔ شعبہ نے کہا: میں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا؟ عبدالرحمٰن نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان نہیں کر رہا ہوں، انہیں حکم دیا گیا کہ وہ ظہر کی نماز میں تاخیر کر کے عصر جلدی پڑھ لیں، اور دونوں نمازوں کے لئے ایک غسل کر لیں، (اس طرح) مغرب میں تاخیر کر کے عشاء جلدی پڑھ لیں، اور دونوں نمازوں کے لئے ایک غسل کریں، اور نماز فجر کے لئے ایک بار غسل علاحدہ کریں۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 798 سے 800)
اسلاف کرام کے اقوال و افعال میں گزر چکا ہے کہ وہ کسی بات کو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے میں بہت احتیاط کرتے تھے۔
عبدالرحمٰن بن قاسم کا بھی اس امر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہ کرنا غالباً اسی قبیل سے ہے، اوپر حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں صراحت سے مذکور ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کا حکم دیا تھا۔
اسلاف کرام کے اقوال و افعال میں گزر چکا ہے کہ وہ کسی بات کو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے میں بہت احتیاط کرتے تھے۔
عبدالرحمٰن بن قاسم کا بھی اس امر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہ کرنا غالباً اسی قبیل سے ہے، اوپر حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں صراحت سے مذکور ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کا حکم دیا تھا۔
حدیث نمبر: 801
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ سَبْعَ سِنِينَ، وَهِيَ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَاشْتَكَتْ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّهَا لَيْسَتْ بِحِيضَةٍ، إِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ، فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي"، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، ثُمَّ تُصَلِّي، قَالَتْ: وَكَانَتْ تَقْعُدُ فِي مِرْكَنٍ لِأُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حَتَّى إِنَّ حُمْرَةَ الدَّمِ لَتَعْلُو الْمَاءَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
اس حدیث کا ترجمہ اور تخریج بھی حدیث نمبر (797) میں گزر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 802
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ، أَفَأَتْرُكُ الصَّلَاةَ ؟، قَالَ: "لَا، إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ، وَلَيْسَتْ بِالْحِيضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ الْحَيْضَةُ، فَاتْرُكِي الصَّلَاةَ، فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا، فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَتَوَضَّئِي وَصَلِّي"، قَالَ هِشَامٌ: فَكَانَ أَبِي يَقُولُ: تَغْتَسِلُ غُسْلَ الْأَوَّلِ ثُمَّ مَا يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَإِنَّهَا تَطَّهَّرُ وَتُصَلِّي.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فاطمہ بنت ابی حبیش نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! میں ایسی عورت ہوں کہ استحاضہ کے خون میں مبتلا رہتی ہوں، تو کیا ایسی حالت میں نماز ترک کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہ تو ایک رگ ہے حیض کا خون نہیں، لہٰذا جب ایام حیض شروع ہوں تو نماز چھوڑ دو، اور جب حیض کی مدت پوری ہو جائے تو خون دھو کر وضو کرو، اور نماز پڑھ لو۔“ ہشام نے کہا: میرے والد (عروة) فرماتے تھے: حیض کی مدت پوری ہونے پر عورت پہلا غسل کرے گی اور اس کے بعد صفائی کر کے نماز پڑھے گی۔
حدیث نمبر: 803
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلًا أَخْبَرَهُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَفْتَتْ أُمُّ سَلَمَةَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لِتَنْظُرْ عَدَدَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ بِهَا الَّذِي كَانَ، وَقَدْرَهُنَّ مِنْ الشَّهْرِ، فَتَتْرُكْ الصَّلَاةَ لِذَلِكَ، فَإِذَا خَلَفَتْ ذَلِكَ، وَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ، فَلْتَغْتَسِلْ، وَلْتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ، ثُمَّ تُصَلِّي".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا زوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے: ایک عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں خون بہتا رہتا تھا، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بیماری سے پہلے ہر ماہ جتنے رات و دن انہیں حیض آتا تھا اس کو شمار کر لیں، اور اتنے دن نماز ترک کر دیں، پھر جب اتنے دن گزر جائیں اور نماز کا وقت آ جائے تو غسل کریں، فرج پر روئی کا پھایا رکھیں، پھر نماز پڑھ لیں۔“
حدیث نمبر: 804
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، غَلَبَنِي الدَّمُ، قَالَ: "اغْتَسِلِي وَصَلِّي".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! خون مجھ پر غالب آ گیا ہے (یعنی رکتا نہیں ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غسل کرو اور نماز پڑھ لو۔“
حدیث نمبر: 805
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: جَاءَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَاشْتَكَتْ ذَلِكَ إِلَيْهِ، وَاسْتَفْتَتْهُ فِيهِ، فَقَالَ لَهَا: "إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِالْحِيضَةِ، إِنَّمَا هَذَا عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي، ثُمَّ صَلِّي"، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، وَتُصَلِّي، وَكَانَتْ تَجْلِسُ فِي الْمِرْكَنِ فَتَعْلُو حُمْرَةُ الدَّمِ الْمَاءَ، ثُمَّ تُصَلِّي.
محمد الیاس بن عبدالقادر
عمرة بنت عبدالرحمٰن نے کہا: میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ سیدہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، انہیں سات سال سے استحاضہ کی شکایت تھی، انہوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور فتویٰ پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”یہ حیض کا خون نہیں ہے، یہ ایک رگ ہے، پس تم غسل کرو اور نماز پڑھو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: چنانچہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ہر نماز کے لئے غسل کرتی تھیں اور نماز پڑھ لیتیں، اور ٹب میں بیٹھ جاتیں تو خون کی سرخی پانی کے اوپر آ جاتی، پھر (غسل کے بعد) وہ نماز پڑھ لیتیں۔
حدیث نمبر: 806
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ كَانَتْ اسْتُحِيضَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "بِالْغُسْلِ لِكُلِّ صَلَاةٍ، فَإِنْ كَانَتْ لَتَنْغَمِسُ فِي الْمِرْكَنِ، وَإِنَّهُ لَمَمْلُوءٌ مَاءً، ثُمَّ تَخْرُجُ مِنْهُ، وَإِنَّ الدَّمَ لَغَالِبهِ فَتُصَلِّي" . .
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں استحاضہ کی بیماری لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ہر نماز کے لئے غسل کریں، چنانچہ وہ پانی سے بھرے ٹب میں غوطہ لگاتیں، پھر اس سے نکلتیں تو خون پانی کے اوپر آ جاتا، پھر وہ نماز پڑھتیں۔
حدیث نمبر: 807
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ الْقَاسِمِ: "أَنَّهَا كَانَتْ بَادِيَةَ بِنْتَ غَيْلَانَ الثَّقَفِيَّةَ". .
محمد الیاس بن عبدالقادر
قاسم نے کہا: جس خاتون کو استحاضہ کی بیماری ہوئی وہ بادیہ بنت غيلان الثقفیہ تھیں۔
حدیث نمبر: 808
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَن عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّمَا هِيَ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو اسْتُحِيضَتْ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَمَرَهَا"بِالْغُسْلِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ"، فَلَمَّا جَهَدَهَا ذَلِكَ، أَمَرَ"أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ، وَتَغْتَسِلَ لِلصُّبْحِ". .
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: بیشک وہ خاتون سہلہ بنت سہل بن عمرو ہی تھیں جنہیں استحاضہ کی شکایت ہوئی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے لئے غسل کرنے کا حکم دیا تھا، اور جب یہ ان کے لئے مشکل ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ظہر و عصر ایک غسل سے پڑھ لیا کریں اور مغرب و عشاء ایک غسل سے، اور صبح کی نماز کے لئے غسل کر لیں۔
حدیث نمبر: 809
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "إِنَّمَا جَاءَ اخْتِلَافُهُمْ أَنَّهُنَّ ثَلَاثَتَهُنَّ عِنْدَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هِيَ أُمُّ حَبِيبَةَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: هِيَ بَادِيَةُ , وَقَالَ بَعْضُهُمْ: هِيَ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ"..
محمد الیاس بن عبدالقادر
سعد بن ابراہیم نے کہا: ان خاتون کے نام میں اختلاف اس لئے رونما ہوا کہ تینوں عورتیں (جنہیں یہ شکایت ہوئی) سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں، اس لئے کسی نے کہا وہ ام حبیبہ تھیں، کسی نے کہا بادیہ تھیں اور کسی نے کہا کہ وہ سہلہ بنت سہیل تھیں۔
حدیث نمبر: 810
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، أَنَّ الْقَعْقَاعَ بْنَ حَكِيمٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدًا عَنْ الْمُسْتَحَاضَةِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، مَا بَقِيَ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهَذَا مِنِّي: "إِذَا أَقْبَلَتْ الْحَيْضَةُ، فَلْتَدَعْ الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتُصَلِّ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
قعقاع بن حکیم نے سعید (ابن المسيب) سے مستحاضہ کا مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے کہا: بھتیجے! اس مسئلہ کو مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی باقی نہیں رہا؟ جب حیض کے دن ہوں تو مستحاضہ نماز چھوڑ دے اور جب اس کی مدت ختم ہو جائے تو غسل کرے اور نماز پڑھے۔
حدیث نمبر: 811
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: "تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ ثُمَّ تَحْتَشِي وَتَسْتَثْفِرُ، ثُمَّ تُصَلِّي"، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَإِنْ كَانَ يَسِيلُ ؟ قَالَ: "وَإِنْ كَانَ يَسِيلُ مِثْلَ هَذَا الْمَثْعَبِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مستحاضہ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ حیض کے دنوں میں نماز ترک کرے گی، پھر غسل کر کے روئی کا پھایا لگائے گی، پھر نماز پڑھے گی، کسی نے پوچھا: اگر خون بہتا ہی رہے تو؟ فرمایا: چاہے اس پر نالے ہی کی طرح کیوں نہ بہتا رہے۔ یعنی مقام مخصوص پر روئی بھر کر نماز پڑھے چاہے جتنا خون نکلے۔
حدیث نمبر: 812
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: "مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ قَوْلًا فِي الْمُسْتَحَاضَةِ، ثُمَّ رَخَّصَ بَعْدُ: أَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: أَدْخُلُ الْكَعْبَةَ وَأَنَا حَائِضٌ ؟، قَالَ: نَعَمْ، وَإِنْ كُنْتِ تَثُجِّينَهُ ثَجًّا، اسْتَدْخِلِي، ثُمَّ اسْتَثْفِرِي، ثُمَّ ادْخُلِي".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عمار بن ابی عمار نے کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مستحاضہ کے بارے میں سب سے زیادہ سخت موقف رکھتے تھے، لیکن پھر نرمی اختیار کر لی، ایک خاتون ان کے پاس آئیں اور دریافت کیا کہ میں مستحاضہ ہوں، کعبہ میں داخل ہو سکتی ہوں؟ فرمایا: ہاں، چاہے کتنا ہی خون بہتا ہو تم کعبہ میں داخل ہو سکتی ہو، اچھی طرح روئی باندھو اور اندر چلی جاؤ۔
حدیث نمبر: 813
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ قَمِيرَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَأَلْتُهَا عَنْ الْمُسْتَحَاضَةِ، قَالَتْ: "تَنْتَظِرُ أَقْرَاءَهَا الَّتِي كَانَتْ تَتْرُكُ فِيهَا الصَّلَاةَ قَبْلَ ذَلِكَ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ طُهْرِهَا الَّذِي كَانَتْ تَطْهُرُ فِيهِ، اغْتَسَلَتْ، ثُمَّ تَوَضَّأَتْ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَصَلَّتْ" . .
محمد الیاس بن عبدالقادر
قمیر (بنت عمران زوجہ مسروق) نے کہا: میں نے مستحاضہ کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ (حیض کے) جن دنوں میں (اس سے پہلے) نماز چھوڑ دیا کرتی تھی، اتنے میں انتظار کرے (یعنی نماز چھوڑ دے)، اور جب (طہر) پاکی کا دن آئے جس میں وہ پاک ہوتی تھیں، تو غسل کر لے پھر ہر نماز کے وقت وضو کرے اور نماز پڑھے۔
حدیث نمبر: 814
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُعْتَمِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ رَجُلٍ مِنْ حَيِّهِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا . .
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوجعفر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مذکورہ بالا قول روایت کیا۔
حدیث نمبر: 815
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ قَمِيرَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: "تَنْتَظِرُ أَيَّامَهَا الَّتِي كَانَتْ تَتْرُكُ الصَّلَاةَ فِيهَا، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ طُهْرِهَا الَّذِي كَانَتْ تَطْهُرُ فِيهِ، اغْتَسَلَتْ ثُمَّ تَوَضَّأَتْ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَصَلَّتْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
قمیر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ۔ ۔ ۔ اس حدیث کا ترجمہ (813) میں گزر چکا ہے۔
حدیث نمبر: 816
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الْمُسْتَحَاضَةُ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ حَيْضِهَا فِي كُلِّ شَهْرٍ، فَإِذَا كَانَ عِنْدَ انْقِضَائِهَا، اغْتَسَلَتْ، وَصَلَّتْ، وَصَامَتْ، وَتَوَضَّأَتْ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عدی بن ثابت سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے ان کے دادا سے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”مستحاضہ ہر مہینے کے ایام حیض میں نماز چھوڑ دے، اور مدت ختم ہونے پر غسل کرے اور نماز پڑھے، روزہ رکھے، اور ہر نماز کے وقت وضو کرے۔“
حدیث نمبر: 817
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ كَثِيرٍ، وَحَفْصٍ، عَنْ الْحَسَنِ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ الَّتِي تَعْرِفُ أَيَّامَ حَيْضَتِهَا إِذَا طُلِّقَتْ فَيَطُولُ بِهَا الدَّمُ: "فَإِنَّهَا تَعْتَدُّ قَدْرَ أَقْرَائِهَا ثَلَاثَ حِيَضٍ، وَفِي الصَّلَاةِ إِذَا جَاءَ وَقْتُ الْحَيْضِ فِي كُلِّ شَهْرٍ، أَمْسَكَتْ عَنْ الصَّلَاةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے اس مستحاضہ عورت کے بارے میں مروی ہے جس کو اپنے ایام ماہواری کا علم ہو، جب اسے طلاق ہو جائے اور خون جاری رہے تو انہیں ایام کے مطابق تین حیض کی مدت گزارے گی۔ اور اس کی نماز کے بارے میں ان سے مروی ہے کہ ہر مہینے میں اس کے جو حیض کے دن ہوتے ہیں ان میں وہ نماز نہیں پڑھے گی۔
حدیث نمبر: 818
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِقَتَادَةَ: "امْرَأَةٌ كَانَ حَيْضُهَا مَعْلُومًا، فَزَادَتْ عَلَيْهِ خَمْسَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ، أَوْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ؟، قَالَ: تُصَلِّي، قُلْتُ: يَوْمَيْنِ ؟، قَالَ: ذَاكَ مِنْ حَيْضِهَا"، وَسَأَلْتُ ابْنَ سِيرِينَ، قَالَ: "النِّسَاءُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
معتمر (بن سلیمان) سے مروی ہے ان کے والد نے قتادہ سے پوچھا: وہ عورت جس کو اپنے حیض کے ایام معلوم ہوں، اور پانچ چار یا تین دن مزید خون جاری رہے تو وہ کیا کرے گی؟ فرمایا: نماز پڑھے گی، سلیمان نے کہا: اگر دو دن خون جاری رہے؟ فرمایا: یہ حیض کا ہی خون ہے۔ انہوں نے کہا: اور میں نے امام ابن سیرین رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا: عورتیں اس بات کو بہتر جانتی ہیں۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 800 سے 818)
مقصد یہ کہ حیض اور استحاضہ کے خون میں فرق ہوتا ہے اور عورت اس میں تمیز کرسکتی ہے کہ کب حیض کا خون ختم ہوا، اس لئے جب حیض کا خون ہو تو نماز ترک کر دے، ورنہ غسل اور وضو کر کے نماز پڑھ لے۔
واضح رہے کہ حیض کے ایام کبھی کم اور کبھی زیادہ ہو جاتے ہیں، لہٰذا دو ایک دن بڑھ جائیں اور خون حیض کا ہی ہو تو اس پر حیض کے احکام جاری ہوں گے۔
مقصد یہ کہ حیض اور استحاضہ کے خون میں فرق ہوتا ہے اور عورت اس میں تمیز کرسکتی ہے کہ کب حیض کا خون ختم ہوا، اس لئے جب حیض کا خون ہو تو نماز ترک کر دے، ورنہ غسل اور وضو کر کے نماز پڑھ لے۔
واضح رہے کہ حیض کے ایام کبھی کم اور کبھی زیادہ ہو جاتے ہیں، لہٰذا دو ایک دن بڑھ جائیں اور خون حیض کا ہی ہو تو اس پر حیض کے احکام جاری ہوں گے۔
حدیث نمبر: 819
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْحَسَنِ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى الدَّمَ أَيَّامَ طُهْرِهَا، قَالَ: "أَرَى أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُصَلِّيَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے: وہ عورت جس کو ایام طہر میں خون آ جائے، میری رائے میں وہ غسل کرے اور نماز پڑھے گی۔
حدیث نمبر: 820
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ الْمَرْأَةِ تُسْتَحَاضُ ؟، قَالَ: "تَنْتَظِرُ قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحِيضُ، فَلْتُحَرِّمْ الصَّلَاةَ، ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ، وَلْتُصَلِّ حَتَّى إِذَا كَانَ أَوَانُهَا الَّذِي تَحِيضُ فِيهِ، فَلْتُحَرِّمْ الصَّلَاةَ ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ، فَإِنَّمَا ذَاكَ مِنْ الشَّيْطَانِ يُرِيدُ أَنْ يُكْفِرَ إِحْدَاهُنَّ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
شہر بن حوشب سے مروی ہے: مستحاضہ عورت کے بارے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ماہواری کے ایام کے بقدر انتظار کر کے نماز چھوڑے گی، پھر غسل کرے اور نماز پڑھے، یہاں تک کہ اس کے حیض کے ایام آ جائیں، تو پھر نماز ترک کر دے پھر غسل کرے، یہ خون کا جاری رہنا شیطان کی طرف سے ہے، وہ چاہتا ہے کہ ان میں سے کوئی عورت نماز ترک کر کے کفر میں مبتلا ہو جائے۔
حدیث نمبر: 821
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: "تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَحْتَشِي كُرْسُفًا، وَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوجعفر محمد بن علی نے مستحاضہ کے بارے میں فرمایا: حیض کے ایام میں وہ نماز چھوڑ دے، پھر غسل کر کے روئی کا پھایا لگائے گی اور ہر نماز کے وقت وضو کرے گی۔
حدیث نمبر: 822
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَمِيرَ امْرَأَةِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: "الْمُسْتَحَاضَةُ تَجْلِسُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ غُسْلًا وَاحِدًا، وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مستحاضہ ایام ماہواری میں بیٹھی رہے گی (یعنی نماز نہ پڑھے گی)، پھر ایک غسل کرے گی اور ہر نماز کے لئے وضو کرے گی (یعنی نہانا ضروری نہیں)۔
حدیث نمبر: 823
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: اسْتُحِيضَتْ امْرَأَةٌ مِنْ آلِ أَنَسٍ فَأَمَرُونِي، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: "أَمَّا مَا رَأَتْ الدَّمَ الْبَحْرَانِيَّ، فَلَا تُصَلِّي، فَإِذَا رَأَتْ الطُّهْرَ وَلَوْ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتُصَلِّ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
انس بن سیرین نے کہا: آل انس میں سے ایک عورت کو استحاضہ کی بیماری لگی تو انہوں نے مجھے حکم دیا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مسئلہ دریافت کروں۔ انہوں نے جواب دیا کہ جب وہ بہت زیادہ سرخ خون دیکھے تو نماز نہ پڑھے اور جب دن کی کسی گھٹری میں طہر دیکھے تو غسل کرے گی اور نماز پڑھے گی۔ (یعنی تھوڑی سی دیر کو ہی حیض رک جائے تو غسل کر کے نماز پڑھے گی)۔
حدیث نمبر: 824
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ وَلَدٍ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ اسْتُحِيضَتْ، فَأَمَرُونِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: "إِذَا رَأَتْ الدَّمَ الْبَحْرَانِيَّ، فَلَا تُصَلِّي، فَإِذَا رَأَتْ الطُّهْرَ، فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتُصَلِّ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
انس بن سیرین نے کہا: انس بن مالک کی لونڈی (ام ولد) مستحاضہ ہوئیں تو لوگوں نے مجھ سے کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فتویٰ پوچھوں، لہٰذا میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ جب بہت زیادہ خون دیکھے تو نماز نہ پڑھے اور جب پاکی محسوس کرے تو غسل کر کے نماز پڑھے گی۔
حدیث نمبر: 825
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، عَنْ الضَّحَّاكِ: أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْهُ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ، فَقَالَ: "إِذَا رَأَيْتِ دَمًا عَبِيطًا، فَأَمْسِكِي أَيَّامَ أَقْرَائِكِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ضحاک سے مروی ہے ایک عورت نے ان سے پوچھا: مجھے استحاضہ کی بیماری ہے، تو انہوں نے کہا: جب تازہ خون دیکھو تو حیض کے ایام میں تم نماز سے رکی رہو۔
حدیث نمبر: 826
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "الْمُسْتَحَاضَةُ تَجْلِسُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَتُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلُ الْعِشَاءَ وَذَلِكَ فِي وَقْتِ الْعِشَاءِ، وَلِلْفَجْرِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَلَا تَصُومُ، وَلَا يَأْتِيهَا زَوْجُهَا، وَلَا تَمَسُّ الْمُصْحَفَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم نے کہا: مستحاضہ مدت حیض میں بیٹھی رہے گی (یعنی نماز نہ پڑھے گی اور پاک ہو کر) ظہر عصر کے لئے ایک مرتبہ غسل کرے گی، مغرب کو مؤخر کر کے عشاء کے اول وقت میں نماز پڑھے گی اور فجر کے لئے ایک مرتبہ غسل کرے گی، اور وہ نہ روزہ رکھے گی نہ شوہر کے ساتھ صحبت کرے گی اور نہ قرآن پاک کو ہاتھ لگائے گی۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 818 سے 826)
روزہ رکھنا، نماز نہ پڑھنا، جماع سے پرہیز کرنا اور مصحف کو ہاتھ نہ لگانا یہ سب حائضہ کے احکام ہیں۔
روزہ رکھنا، نماز نہ پڑھنا، جماع سے پرہیز کرنا اور مصحف کو ہاتھ نہ لگانا یہ سب حائضہ کے احکام ہیں۔
حدیث نمبر: 827
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: "تَغْتَسِلُ غُسْلًا وَاحِدًا لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَغُسْلًا لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ"، وَكَانَ يَقُولُ: "تُؤَخِّرُ الظُّهْرَ وَتُعَجِّلُ الْعَصْرَ وَتُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلُ الْعِشَاءَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مستحاضہ کے بارے میں فرماتے تھے کہ وہ ظہر و عصر کے لئے ایک بار غسل کرے گی اور ایک بار مغرب و عشاء کے لئے، نیز وہ فرماتے تھے کہ ظہر کو مؤخر کر کے عصر جلدی پڑھے گی، اور مغرب کو مؤخر کر کے عشاء جلدی پڑھے گی۔
حدیث نمبر: 828
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُجَاهِدٍ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا خَلَفَتْ قُرُوءُهَا: "فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْعَصْرِ تَوَضَّأَتْ وُضُوءًا سَابِغًا ثُمَّ لِتَأْخُذْ ثَوْبًا، فَلْتَسْتَثْفِرْ بِهِ، ثُمَّ لِتُصَلِّ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ لِتَفْعَلْ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ لِتُصَلِّ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، ثُمَّ لِتَفْعَلْ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ تُصَلِّي الصُّبْحَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد سے مستحاضہ کے بارے میں مروی ہے کہ جب اس کا حیض کا خون گڑ بڑ ہو جائے تو عصر کے وقت اگر یہ گڑ بڑی ہو تو وضو کر کے کپڑا لے کر روئی سے باندھ لے، پھر ظہر و عصر ملا کر پڑھ لے، اور اسی طرح کرتی رہے، پھر مغرب عشاء ملا کر پڑھے، اور ایسا ہی کرتی رہے، پھر صبح کی نماز پڑھے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 826 سے 828)
«قروء» «قرء» کی جمع ہے «اقراء» بھی «قرء» کی جمع ہے، اہلِ حجاز میں «قرء» (طہر) پاکی کے ایام کے لئے بولا جاتا ہے اور اہلِ عراق کے نزدیک ایامِ حیض کے لئے بولا جاتا ہے۔
«قروء» «قرء» کی جمع ہے «اقراء» بھی «قرء» کی جمع ہے، اہلِ حجاز میں «قرء» (طہر) پاکی کے ایام کے لئے بولا جاتا ہے اور اہلِ عراق کے نزدیک ایامِ حیض کے لئے بولا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 829
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَطَاءٍ، وَسَعِيدٍ، وَعِكْرِمَةَ، قَالُوا: فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: "تَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ لِصَلَاةِ الْأُولَى وَالْعَصْرِ، فَتُصَلِّيهِمَا، وَتَغْتَسِلُ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فَتُصَلِّيهِمَا، وَتَغْتَسِلُ لِصَلَاةِ الْغَدَاةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء، سعید، عکرمہ رحمہم اللہ مستحاضہ کے بارے میں فرماتے تھے کہ وہ پہلی نماز (ظہر) اور عصر کے لئے روزانہ ایک مرتبہ غسل کرے گی، اور مغرب عشاء کے لئے ایک بار غسل کر کے دونوں نماز پڑھے گی اور صبح کی نماز کے لئے ایک بار غسل کرے گی۔
حدیث نمبر: 830
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو زُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: "الْمُسْتَحَاضَةُ تَغْتَسِلُ، ثُمَّ تَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَإِنْ رَأَتْ شَيْئًا اغْتَسَلَتْ وَجَمَعَتْ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن شداد نے کہا: زائد حیض والی عورت غسل کرے گی، پھر ظہر عصر ایک ساتھ ملا کر پڑھے گی، اگر کوئی چیز دیکھے تو پھر غسل کرے گی اور مغرب عشاء ملا کر پڑھے گی۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 828 سے 830)
ان تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ عورت جس کو اپنے حیض کے ایام معلوم ہیں، 5 یا 6 یا 7 دن، اس کے بعد بھی خون جاری رہے تو وہ حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے گی، باقی دنوں میں غسل کر کے نماز پڑھے گی۔
کچھ روایات میں صرف ایک بار شروع میں غسل کر لے، اور جب تک بھی یہ عارضہ ہے، صفائی اور وضو کر کے نماز پڑھے گی، روزہ بھی رکھ سکتی ہے، اور شوہر کے لئے حلال ہوگی۔
بعض روایات میں ہے کہ دن میں ایک بار غسل کر لے۔
بعض روایات میں ہے ظہر اور عصر کے لئے ایک غسل، مغرب و عشاء کے لئے ایک غسل اور فجر کے لئے ایک بار غسل کرے گی۔
مزید تفصیل آگے آرہی ہے۔
ان تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ عورت جس کو اپنے حیض کے ایام معلوم ہیں، 5 یا 6 یا 7 دن، اس کے بعد بھی خون جاری رہے تو وہ حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے گی، باقی دنوں میں غسل کر کے نماز پڑھے گی۔
کچھ روایات میں صرف ایک بار شروع میں غسل کر لے، اور جب تک بھی یہ عارضہ ہے، صفائی اور وضو کر کے نماز پڑھے گی، روزہ بھی رکھ سکتی ہے، اور شوہر کے لئے حلال ہوگی۔
بعض روایات میں ہے کہ دن میں ایک بار غسل کر لے۔
بعض روایات میں ہے ظہر اور عصر کے لئے ایک غسل، مغرب و عشاء کے لئے ایک غسل اور فجر کے لئے ایک بار غسل کرے گی۔
مزید تفصیل آگے آرہی ہے۔