حدیث نمبر: 790
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاس رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ الْغَائِطَ، ثُمَّ خَرَجَ فَأُتِيَ بِطَعَامٍ، فَقِيلَ: أَلَا تَتَوَضَّأُ ؟، فَقَالَ: "أُصَلِّي فَأَتَوَضَّأُ ؟".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ حمام میں داخل ہوئے، جب قضائے حاجت سے فارغ ہو کر نکلے تو کھانا پیش کیا گیا، اور کہا گیا: آپ وضو نہیں کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا نماز پڑھنی ہے جو وضو کروں۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 789)
اس سے معلوم ہوا کہ محدث (بنا وضو والے) کے لئے کھانا، پینا، ذکر و تلاوت زبانی بلا وضو سب درست ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ نے کہا: اس پر اُمّت کا اجماع ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ محدث (بنا وضو والے) کے لئے کھانا، پینا، ذکر و تلاوت زبانی بلا وضو سب درست ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ نے کہا: اس پر اُمّت کا اجماع ہے۔