مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن دارميابوابباب: اس کا بیان کہ انسان تری دیکھے لیکن احتلام یاد نہ آئے
حدیث نمبر: 788
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يَسْتَيْقِظُ فَيَرَى بَلَلًا، وَلَمْ يَذْكُرْ احْتِلَامًا، قَالَ: "لِيَغْتَسِلْ، فَإِنْ رَأَى احْتِلَامًا، وَلَمْ يَرَ بَلَلًا، فَلَا غُسْلَ عَلَيْهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو جاگنے پر تری دیکھے، خواب (احتلام) یاد نہ ہو، فرمایا: ”وہ غسل کر لے اور اگر خواب میں احتلام ہوتے دیکھے، لیکن تری نہ پائے تو اس پر غسل نہیں ہے۔“ (یعنی جب منی کا اثر دیکھے تبھی غسل واجب ہو گا، صرف خواب دیکھنے سے نہیں)۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 788
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 792]» ¤ اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [أبوداود 236] ، [ترمذي 113] ، [ابن ماجه 612] ، [دارقطني 133/1] ، [البيهقي 168/1]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔