مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن دارميابوابباب: ایک جگہ کی زمین دوسری جگہ کی زمین کو پاک کر دیتی ہے
حدیث نمبر: 765
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ أُطِيلُ ذَيْلِي فَأَمْشِي فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ ؟، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ"، قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ: تَأْخُذُ بِهَذَا ؟، قَالَ: لَا، أَدْرِي.
محمد الیاس بن عبدالقادر
ام ولد ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف سے مروی ہے کہ وہ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ میں اپنا دامن لمبا رکھتی ہوں اور گندی زمین سے گزر ہوتا ہے (یعنی دامن ناپاک ہو جاتا ہے)، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”وہ زمیں جو اس ناپاک زمیں کے بعد آتی ہے اسے پاک کر دیتی ہے۔“ راوی نے کہا: میں نے امام دارمی سے پوچھا: آپ کا یہی فتویٰ ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 764)
امام دارمی رحمہ اللہ نے اس کا جواب دینے سے گریز کیا کیونکہ اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔
نجاست اگر مرطوب ہو تو دھونا لازمی ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 765
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: في إسناده جهالة ولكنه صحيح بشواهده
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناده جهالة ولكنه صحيح بشواهده، [مكتبه الشامله نمبر: 769]» ¤ یہ حدیث اس سند سے ضعیف ہے، لیکن اس کے شواہد موجود ہیں۔ دیکھئے: [أبوداؤد 383] ، [ترمذي 143] ، [ابن ماجه 531] ، نیز اس کا شاہد [بخاري 222] ، [مسلم 286] ، [أبويعلی 4623] و [ابن حبان 1372] میں ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔