مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن دارميابوابباب: پیشاب سے بچنے کا بیان
حدیث نمبر: 762
أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ، فَقَالَ: "إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ: كَانَ أَحَدُهُمَا يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ، وَكَانَ الْآخَرُ لَا يَسْتَنْزِهُ عَنْ الْبَوْلِ، أَوْ مِنْ الْبَوْلِ"، قَالَ: "ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَكَسَرَهَا، فَغَرَزَ عِنْدَ رَأْسِ كُلِّ قَبْرٍ مِنْهُمَا قِطْعَةً"، ثُمَّ قَالَ: "عَسَى أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا حَتَّى تَيْبَسَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”ان دونوں پر ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑے گناہ پر نہیں، ان میں سے ایک تو چغل خوری کرتا پھرتا تھا، اور دوسرا پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا۔“ راوی نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہری ٹہنی لی، اس کو چیرا اور ہر قبر کے سرہانے ایک ٹکڑا گاڑھ دیا، پھر فرمایا: ”شاید جب تک یہ ٹہنیاں نہ سوکھیں اس وقت تک ان کا عذاب ہلکا کر دیا جائے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 761)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چغل خوری اور پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا گناہِ کبیرہ ہے جس کی وجہ سے قبر میں عذاب دیا جائے گا، ہری ٹہنی لگانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ ان کا عذاب ہلکا کر دیا جائے جس کو الله تعالیٰ نے قبول فرمایا، کسی اور کے لئے ایسا کرنا جائز نہیں کیوں کہ یہ امر غیبی ہے، کسی کو کیا معلوم قبر کے اندر کیا ہو رہا ہے، نیز اندازاً ایسا کرنا صاحبِ قبر کے ساتھ بدگمانی کرنا ہے کہ اس کو عذاب ہو رہا ہے۔
واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 762
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 766]» ¤ یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے، اور اصحاب السنن نے بھی اسے ذکر کیا ہے۔ دیکھئے: [بخاري 218] ، [مسلم 292] ، [أبوداؤد 20] ، [ترمذي 70] ، [نسائي 31] ، [ابن ماجه 347] ، [أبويعلی 2050] ، [ابن حبان 3128]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔