حدیث نمبر: 757
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَامَتْ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلَتْ فِي جَفْنَةٍ مِنْ جَنَابَةٍ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فَضْلِهَا يَسْتَحِمُّ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ اغْتَسَلْتُ فِيهِ قَبْلَكَ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّهُ لَيْسَ عَلَى الْمَاءِ جَنَابَةٌ" . .
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے ایک عورت کھڑی ہوئی اور پانی کے ایک ٹب سے غسل جنابت کیا، پھر ان کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے کے لئے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو انہوں نے بتایا کہ میں آپ سے پہلے اس ٹب سے غسل کر چکی ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک پانی جنبی نہیں ہوتا۔“
حدیث نمبر: 758
أَخْبَرَنَا عَبْيدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَن ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ..
محمد الیاس بن عبدالقادر
دوسری سند سے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے ہی مروی ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 756 سے 758)
ان دونوں روایات سے معلوم ہوا کہ عورت کے غسل سے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنا جائز ہے اور وضو بدرجہ اولی جائز ہوگا کیونکہ ٹب سے پانی لے کر غسل کرنے سے وہ پانی نجس نہیں ہوا، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی جنبی نہیں ہوتا۔
“ کچھ صحیح روایات میں عورت کے بچے پانی سے وضو اور غسل کرنے کی ممانعت آئی ہے لیکن جواز والی احادیث پر علماء کا اتفاق ہے اور نہی تنزیہہ پر محمول کی گئی ہے۔
ان دونوں روایات سے معلوم ہوا کہ عورت کے غسل سے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنا جائز ہے اور وضو بدرجہ اولی جائز ہوگا کیونکہ ٹب سے پانی لے کر غسل کرنے سے وہ پانی نجس نہیں ہوا، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی جنبی نہیں ہوتا۔
“ کچھ صحیح روایات میں عورت کے بچے پانی سے وضو اور غسل کرنے کی ممانعت آئی ہے لیکن جواز والی احادیث پر علماء کا اتفاق ہے اور نہی تنزیہہ پر محمول کی گئی ہے۔