مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن دارميابوابباب: استعمال شدہ پانی سے وضو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 756
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَأَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَعُودُنِي وَأَنَا مَرِيضٌ، لَا أَعْقِلُ، فَتَوَضَّأَ وَصَبَّ مِنْ وَضُوئِهِ عَلَيَّ، فَعَقَلْتُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے کیونکہ میں بیمار تھا اور بیہوشی طاری ہو گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وضو کا پانی میرے اوپر ڈالا، لہٰذا مجھے ہوش آ گیا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 755)
رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا ان پر وضو کا مستعمل پانی ڈالنا اس بات کی دلیل ہے کہ وضو یا غسل کا مستعمل پانی پاک ہے، نیز اس حدیث سے بیمار پرسی کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ اور برکت بھی معلوم ہوئی کہ انہیں ہوش آ گیا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 756
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 760]» ¤ یہ صحیح متفق علیہ حدیث ہے۔ دیکھئے: [بخاري 194] ، [مسلم 1616] ، [مسند الموصلي 2018] ، [صحيح ابن حبان 1266] و [مسند الحميدي 1264]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔