حدیث نمبر: 756
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَأَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَعُودُنِي وَأَنَا مَرِيضٌ، لَا أَعْقِلُ، فَتَوَضَّأَ وَصَبَّ مِنْ وَضُوئِهِ عَلَيَّ، فَعَقَلْتُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے کیونکہ میں بیمار تھا اور بیہوشی طاری ہو گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وضو کا پانی میرے اوپر ڈالا، لہٰذا مجھے ہوش آ گیا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 755)
رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا ان پر وضو کا مستعمل پانی ڈالنا اس بات کی دلیل ہے کہ وضو یا غسل کا مستعمل پانی پاک ہے، نیز اس حدیث سے بیمار پرسی کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ اور برکت بھی معلوم ہوئی کہ انہیں ہوش آ گیا۔
رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا ان پر وضو کا مستعمل پانی ڈالنا اس بات کی دلیل ہے کہ وضو یا غسل کا مستعمل پانی پاک ہے، نیز اس حدیث سے بیمار پرسی کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ اور برکت بھی معلوم ہوئی کہ انہیں ہوش آ گیا۔