حدیث نمبر: 754
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُسْأَلُ عَنْ الْمَاءِ يَكُونُ بِالْفَلَاةِ مِنْ الْأَرْضِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنْ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ ؟، فَقَالَ: "إِذَا بَلَغَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگل کے اس پانی کے بارے میں دریافت کیا گیا، جس سے چوپائے اور درندے پانی پیتے ہیں (اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب پانی کی مقدار دو قلہ تک پہنچ جائے تو اس کو کوئی چیز گنده (ناپاک) نہیں کرتی۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 753)
قلہ بڑے مٹکے کو کہتے ہیں، اس کی تثنیہ قلتان ہے جو حالتِ جر میں قلتین ہوئی، موجودہ پیمانوں کے مطابق قلتین کی مقدار دو سو ستائیس کلوگرام ہوتی ہے۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ پانی کی مقدار دو مٹکوں سے کم ہوگی تو محض نجاست کے گرنے ہی سے وہ ناپاک ہو جائے گا خواہ رنگ، بو، ذائقہ بدلے یا نہ بدلے، اور اگر پانی کی مقدار دو قلہ سے زیادہ ہے تو وہ اس وقت تک نجس نہ مانا جائے گا جب تک کہ مذکورہ اوصافِ ثلاثہ میں سے کوئی وصف نہ بدل جائے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے شرح بلوغ المرام، مولانا صفی الرحمٰن صاحب حفظہ اللہ، حدیث رقم (4)۔
قلہ بڑے مٹکے کو کہتے ہیں، اس کی تثنیہ قلتان ہے جو حالتِ جر میں قلتین ہوئی، موجودہ پیمانوں کے مطابق قلتین کی مقدار دو سو ستائیس کلوگرام ہوتی ہے۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ پانی کی مقدار دو مٹکوں سے کم ہوگی تو محض نجاست کے گرنے ہی سے وہ ناپاک ہو جائے گا خواہ رنگ، بو، ذائقہ بدلے یا نہ بدلے، اور اگر پانی کی مقدار دو قلہ سے زیادہ ہے تو وہ اس وقت تک نجس نہ مانا جائے گا جب تک کہ مذکورہ اوصافِ ثلاثہ میں سے کوئی وصف نہ بدل جائے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے شرح بلوغ المرام، مولانا صفی الرحمٰن صاحب حفظہ اللہ، حدیث رقم (4)۔
حدیث نمبر: 755
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنْ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلْ الْخَبَثَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں دریافت کیا گیا جس سے درند و چرند پانی پیتے ہیں؟ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب پانی کی مقدار دو بڑے مٹکوں کے برابر ہو تو وہ نجاست کو قبول ہی نہیں کرتا۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 754)
یعنی ایسا پانی مجرد نجاست کے اس میں گر نے سے نجس نہیں ہوتا جب تک کہ اوصافِ ثلاثہ میں سے کوئی وصف تبدیل نہ ہو جائے۔
یعنی ایسا پانی مجرد نجاست کے اس میں گر نے سے نجس نہیں ہوتا جب تک کہ اوصافِ ثلاثہ میں سے کوئی وصف تبدیل نہ ہو جائے۔