مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن دارميابوابباب: بلا ضرورت وضو نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 750
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فِي يَدِهِ، ثُمَّ دُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَأَلْقَى السِّكِّينَ الَّتِي كَانَ يَحْتَزُّ بِهَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
جعفر بن عمرو بن اميہ سے مروی ہے کہ ان کے والد سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک بکری کا دستانہ چھری سے کاٹ کر کھا رہے تھے، اتنے میں نماز کے لئے بلائے گئے تو آپ نے سکین (چھری) چھوڑ دی جس سے گوشت کاٹ رہے تھے، پھر کھڑے ہوئے اور آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 749)
یہ حدیث مذکورہ بالا حدیث کی ناسخ ہے جس سے معلوم ہوا کہ پکا ہوا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے، نیز اس حدیث میں چھری سے گوشت کاٹنے کی بھی اباحت ہے۔
لہٰذا چھری سے کاٹ کر گوشت کھایا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 750
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف كسابقه ولكن الحديث صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف كسابقه ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 754]» ¤ اس حدیث کی سند بھی حسبِ سابق ضعیف ہے، لیکن حدیث اور معنی صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 208] ، [صحيح مسلم 355] ، [صحيح ابن حبان 1141] ، [نيل الأوطار 252/1]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔