حدیث نمبر: 746
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ أَلْقَى مِنْ الْمَذْيِ شِدَّةً، فَكُنْتُ أُكْثِرُ الْغُسْلَ مِنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَأَلْتُهُ عَنْهُ، فَقَالَ: "إِنَّمَا يُجْزِئُكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ"، قَالَ: قُلْتُ: فَكَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي مِنْهُ ؟، قَالَ: "خُذْ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَانْضَحْهُ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے مذی کی سخت شکایت تھی، جس کی وجہ سے میں اکثر غسل کیا کرتا تھا، لہٰذا میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور اس بارے میں آپ سے (حکم) دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لئے (اس صورت میں) وضو کر لینا کافی ہو گا۔“ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا: اور جو میرے کپڑوں پر لگ گئی اس کا کیا کروں؟ فرمایا: ”پانی کا ایک چلو بھر کر جہاں مذی لگ گئی ہے اس پر چھڑک دو۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 745)
مذی سفید چکنا پانی ہے جو ملاعبت یا بوس و کنار سے آ جاتا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مذی سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور وہ ناپاک ہے، دھو لینا چاہئے۔
مذی سفید چکنا پانی ہے جو ملاعبت یا بوس و کنار سے آ جاتا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مذی سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور وہ ناپاک ہے، دھو لینا چاہئے۔