حدیث نمبر: 724
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ خَيْرٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الرَّحَبَةَ بَعْدَمَا صَلَّى الْفَجْرَ، فَجَلَسَ فِي الرَّحَبَةِ، ثُمَّ قَالَ لِغُلَامٍ لَهُ: ائْتِنِي بِطَهُورٍ، قَالَ: فَأَتَاهُ الْغُلَامُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ، قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ: وَنَحْنُ جُلُوسٌ نَنْظُرُ إِلَيْهِ"فَأَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فَمَلَأَ فَمَهُ، فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى، فَعَلَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ"، ثُمَّ قَالَ: "مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طُهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَذَا طُهُورُهُ" . .
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبد خیر نے بیان کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نماز فجر پڑھنے کے بعد رحبہ میں تشریف لائے (جو کوفے کا ایک مقام ہے) اور بیٹھ گئے، پھر اپنے غلام سے فرمایا: وضو کا پانی لاؤ، راوی نے کہا: غلام پانی کا برتن اور طشت لے کر آیا۔ عبد خیر نے کہا: ہم بیٹھے ہوئے ان کی طرف دیکھ رہے تھے، انہوں نے اپنا داہنا ہاتھ (پانی میں ڈالا) اور منہ میں پانی بھرا، کلی کی، اور ناک میں پانی چڑھایا اور بائیں ہاتھ سے اسے جھاڑا، اس طرح تین بار کیا، پھر فرمایا: جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دیکھنا چاہے تو یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔ (یعنی کلی، استنشاق اور استنثار) ۔
حدیث نمبر: 725
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عُقْبَةَ الْمُرَادِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ خَيْرٍ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ ..
محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 721 سے 725)
کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے اور جھاڑنے کا ذکر قرآن پاک میں نہیں ہے، لیکن احادیثِ صحیحہ سے یہ امور ثابت ہیں، اس لئے بنا کلی اور ناک صاف کئے وضو درست نہ ہوگا۔
کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے اور جھاڑنے کا ذکر قرآن پاک میں نہیں ہے، لیکن احادیثِ صحیحہ سے یہ امور ثابت ہیں، اس لئے بنا کلی اور ناک صاف کئے وضو درست نہ ہوگا۔