مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن دارميابوابباب: مسواک منہ کو صاف رکھتی ہے
حدیث نمبر: 707
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ هُوَ الْقَطْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسواک منہ کو پاک (صاف) کرنے والی اور رب کو خوش کرنے والی ہے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 706)
اس حدیث سے مسواک کرنے کی فضیلت معلوم ہوئی، شریعتِ اسلامیہ نے دانت اور منہ صاف کرنے اور صاف رکھنے کی بڑی ترغیب دی ہے، منجن یا ٹوتھ پیسٹ سے دانت صاف کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں، تجربات شاہد ہیں جو لوگ مسواک کا استعمال رکھتے ہیں ان کے دانت صاف، مضبوط اور کیڑے وغیرہ سے محفوظ رہتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 707
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف إبراهيم بن إسماعيل ولكن الحديث صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف إبراهيم بن إسماعيل ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 711]» ¤ اس سند سے یہ روایت ضعیف، لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند أحمد 47/6، 62] ، [نسائي 10/1، 5] ، [مسند أبى يعلی 4569] ، [ابن حبان 1067] ۔ نیز دیکھئے: [نيل الأوطار 125/1]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔