مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن دارميابوابباب: استنجاء کے بعد مٹی سے ہاتھ صاف کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 701
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مَوْلًى لِأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ائْتِنِي بِوَضُوءٍ"،"ثُمَّ دَخَلَ غَيْضَةً فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَاسْتَنْجَى، ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ بِالتُّرَابِ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ" . .
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کا پانی لاؤ“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم درختوں کے جھنڈ میں چلے گئے، میں پانی لے کر آیا تو آپ نے استنجاء کیا، پھر اپنے ہاتھ کو مٹی پر رگڑا، پھر دونوں ہاتھ دھوئے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 701
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لجهالة مولى أبي هريرة
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لجهالة مولى أبي هريرة، [مكتبه الشامله نمبر: 705]» ¤ اس روایت کی سند میں مولی ابی ہریرہ ضعیف ہیں، ابان بھی لین ہیں۔ تخریج کے لیے دیکھئے: [مسند أبى يعلی 6136] ، [صحيح ابن حبان 1405] و [الموارد 139] ، لیکن بمجموع طرق یہ حدیث حسن ہے۔
حدیث نمبر: 702
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ . .
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم بن جریر بن عبداللہ نے اپنے والد سے انہوں نے اسی کے مثل نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 700 سے 702)
اس حدیث سے قضائے حاجت سے طہارت کے بعد مٹی یا صابون سے ہاتھ دھونا ثابت ہوا، پا کی و طہارت کی اسلام میں نمایاں تعلیمات ہیں۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 702
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: رجاله ثقات غير أنه منقطع إبراهيم بن جرير لم يسمع من أبيه
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع إبراهيم بن جرير لم يسمع من أبيه، [مكتبه الشامله نمبر: 706]» ¤ تخریج کے لیے دیکھئے: مذکورہ بالا حدیث۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔