مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن دارميابوابباب: پتھروں سے استنجاء کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 697
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ لِلْوَلَدِ أُعَلِّمُكُمْ، فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ، وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا، وَإِذَا اسْتَطَبْتَ، فَلَا تَسْتَطِبْ بِيَمِينِكَ"، وَكَانَ"يَأْمُرُنَا بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، وَيَنْهَى عَنْ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ"، قَالَ زَكَرِيَّا: يَعْنِي: الْعِظَامَ الْبَالِيَةَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے لئے اسی طرح ہوں جیسے والد اولاد کے لئے ہوتا ہے، تم کو تعلیم دیتا ہوں، لہٰذا تم قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرو، اور جب تم استنجاء کرو تو داہنے ہاتھ سے استنجاء نہ کرو“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو تین پتھر لینے کا حکم دیتے تھے، اور لید و ہڈی سے منع کرتے تھے۔ زکریا نے کہا: «الرمة» سے مراد پرانی ہڈیاں ہیں۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 692 سے 697)
اس حدیث شریف سے اور پچھلے ابواب کی احادیثِ مبارکہ سے استنجاء اور طہارت کے آداب معلوم ہوئے، اور وہ یہ کہ اگر پانی نہ ملے تو استنجاء تین ڈھیلے یا پتھروں سے کر لینا چاہئے، قضائے حاجت کے وقت قبلہ رو ہونا یا پیٹھ کر کے بیٹھنا منع ہے، اسی طرح ہڈی یا گوبر اور لید وغیرہ سے استنجاء، صفائی کرنا منع ہے، منادیل اور ٹشوز پیپر سے بھی صفائی کرنا جائز ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 697
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده حسن
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 701]» ¤ اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [مسلم 265 رواه مختصرًا] ، [أبوداؤد 8] ، [نسائي 40] ، [ابن ماجه 313] ، [صحيح ابن حبان 1431، 1440] ، [وفي الموارد 128، 129، 130] ، [الأم للشافعي 22/1] و [المعرفة للبيهقي 846]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔