مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن دارميابوابباب: پائخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 687
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ مَالِكٍ بِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ مَوْلَى سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: "أَنْتَ رَسُولِي إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَقُلْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْكُمْ السَّلَامَ، وَيَأْمُرُكُمْ إِذَا خَرَجْتُمْ، فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ، وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم مکہ والوں کے لئے میرے قاصد و مبلغ ہو، سو (ان سے) کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں سلام کہتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ جب (قضائے حاجت کے لئے) نکلو تو قبلے کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرو۔“
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 687
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح بشواهده
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح بشواهده، [مكتبه الشامله نمبر: 691]» ¤ اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [مجمع الزوائد 1023، 6985] ، لیکن اس حدیث کے شواہد موجود ہیں، جیسا کہ اگلی حدیث میں آرہا ہے، نیز دیکھئے: [المستدرك 412/3] و حديث رقم (697)۔
حدیث نمبر: 688
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ زَيدَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا أَتَيْتُمْ الْغَائِطَ، فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ، وَلَا بَوْلٍ، وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: فَقَدِمْنَا الشَّامَ، فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ قَدْ بُنِيَتْ عِنْدَ الْقِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْكَرِيمِ، وَعَبْدُ الْكَرِيمِ شِبْهُ الْمَتْرُوكِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم پائخانہ کو جاؤ تو پائخانہ یا پیشاب (کرنے) میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرو۔“ راوی نے کہا: سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر ہم شام کے ملک میں آئے تو دیکھا کہ کھڈیاں قبلہ کی طرف بنی ہوئی ہیں، ہم ان پر سے منہ پھیر لیتے اور اللہ سے استغفار کرتے تھے۔ امام ابومحمد الدارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ روایت پہلی روایت عبدالکریم سے زیادہ صحیح ہے اور عبدالکریم شبہ متروک ہیں۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 686 سے 688)
اس حدیث میں قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کر کے بیٹھنے کی سخت ممانعت ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 688
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث تخریج تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 692]» ¤ اس روایت کی سند صحیح اور دوسری سند سے حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [صحيح بخاري 394] ، [صحيح مسلم 264] ، [ابن حبان 1416] ، [ابن خزيمه 57] وغيرهم۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔