حدیث نمبر: 605
أَخْبَرَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "حَرَّمَ أَشْيَاءَ يَوْمَ خَيْبَرَ: الْحِمَارَ وَغَيْرَهُ"، ثُمَّ قَالَ: "لَيُوشِكُ ِالرَّجُل مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ، يُحَدَّثُ بِحَدِيثِي فَيَقُولُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ، مَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَلَالٍ، اسْتَحْلَلْنَاهُ، وَمَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَرَامٍ، حَرَّمْنَاهُ، أَلَا وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ، هُوَ مِثْلُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ تَعَالَى".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ نے روایت کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن کچھ چیزیں گدھا وغیرہ حرام فرمائیں، پھر فرمایا: ”عنقریب آدمی اپنی مسند پر تکیہ لگائے میری حدیث بیان کرتے ہوئے کہے گا: ہمارے تمہارے درمیان کتاب اللہ موجود ہے، اس میں ہم کو جو حلال چیز ملے اسی کو ہم حلال سمجھیں، اور جو کچھ اس میں حرام پائیں اسے حرام سمجھیں، سنو! اللہ کے رسول نے جو حرام کر دیا وہ بیشک حرام اور اسی طرح ہے جو اللہ تعالیٰ نے حرام فرما دیا۔“
حدیث نمبر: 606
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الْفَزَارِيِّ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: "السُّنَّةُ قَاضِيَةٌ عَلَى الْقُرْآنِ وَلَيْسَ الْقُرْآنُ بِقَاضٍ عَلَى السُّنَّةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام اوزاعی رحمہ اللہ سے مروی ہے، یحییٰ بن ابی کثیر نے فرمایا: سنت قرآن کی تشریح و فیصلہ کرنے والی ہے اور قرآن سنت کی شرح کا فیصلہ کرنے والا نہیں۔
حدیث نمبر: 607
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ، قَالَ: "كَانَ جِبْرِيلُ يَنْزِلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسُّنَّةِ كَمَا يَنْزِلُ عَلَيْهِ بِالْقُرْآنِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام اوزاعی رحمہ اللہ سے مروی ہے، حسان نے کہا: جبریل (علیہ السلام) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اسی طرح سنت لے کر آتے جس طرح قرآن لے کر آپ پر نازل ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 608
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: "السُّنَّةُ سُنَّتَانِ: سُنَّةٌ الْأَخْذُ بِهَا فَرِيضَةٌ، وَتَرْكُهَا كُفْرٌ، وَسُنَّةٌ الْأَخْذُ بِهَا فَضِيلَةٌ، وَتَرْكُهَا إِلَى غَيْرِ حَرَجٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام اوزاعی رحمہ اللہ سے مروی ہے: مکحول رحمہ اللہ نے فرمایا: سنت دو قسم کی ہوتی ہے، ایک وہ جس کو پکڑنا (تھامنا) فرض اور چھوڑنا کفر ہے، دوسری وہ سنت کہ اس پر عمل کرنا (باعث) فضیلت اور ترک کرنے میں کوئی حرج نہ ہو۔
حدیث نمبر: 609
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ"أَنَّهُ حَدَّثَ يَوْمًا بِحَدِيثٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا يُخَالِفُ هَذَا ؟، قَالَ: لَا أُرَانِي أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُعَرِّضُ فِيهِ بِكِتَابِ اللَّهِ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمَ بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى مِنْكَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بیان کی تو ایک آدمی نے کہا: اللہ کی کتاب میں اس کے مخالف (حکم) ہے؟ انہوں نے کہا: میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سناتا ہوں، تم اسے اللہ کی کتاب پر پیش کرتے ہو، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی کتاب کو تم سے زیادہ سمجھتے تھے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 604 سے 609)
یعنی ناممکن ہے کہ حدیث صحیح کلامِ الٰہی کے مخالف ہو۔
یعنی ناممکن ہے کہ حدیث صحیح کلامِ الٰہی کے مخالف ہو۔