حدیث نمبر: 591
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ الْحَسَنِ، أَنَّهُ دَخَلَ السُّوقَ فَسَاوَمَ رَجُلًا بِثَوْبٍ، فَقَالَ: "هُوَ لَكَ بِكَذَا وَكَذَا، وَاللَّهِ لَوْ كَانَ غَيْرَكَ مَا أَعْطَيْتُهُ، فَقَالَ: فَعَلْتُمُوهَا، فَمَا رُئِيَ بَعْدَهَا مُشْتَرِيًا مِنْ السُّوقِ، وَلَا بَائِعًا حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالاعلی سے مروی ہے امام حسن بصری رحمہ اللہ بازار میں داخل ہوئے، ایک آدمی سے کسی کپڑے کا بھاؤ کیا تو اس نے کہا: آپ کے لئے اتنے کا ہے، قسم اللہ کی آپ کے علاوہ کوئی اور ہوتا تو اتنی قیمت پر نہ دیتا، امام حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ اس کے بعد ان کو بازار میں خرید و فروخت کرتے نہ دیکھا گیا یہاں تک کہ الله تعالیٰ سے جا ملے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 590)
حسن رحمہ اللہ کا تقویٰ و پرہیزگاری دیکھئے، ان کو یہ گوارہ نہ تھا کہ ان کے علم اور مقام ومرتبے کی وجہ سے کوئی ان کے ساتھ رعایت کرے اور علم کی قیمت لگائی جائے۔
حسن رحمہ اللہ کا تقویٰ و پرہیزگاری دیکھئے، ان کو یہ گوارہ نہ تھا کہ ان کے علم اور مقام ومرتبے کی وجہ سے کوئی ان کے ساتھ رعایت کرے اور علم کی قیمت لگائی جائے۔
حدیث نمبر: 592
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، عَنْ حُسَامٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ "لَا يَشْتَرِي مِمَّنْ يَعْرِفُهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابومعشر (زیاد بن کلیب) نے کہا: امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ جس سے جان پہچان ہوتی اس سے خرید نہ کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 593
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ السَّلَامِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَسَمَ مُصْعَبُ بْنُ الزُّبَيْرِ مَالًا فِي قُرَّاءِ أَهْلِ الْكُوفَةِ حِينَ دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فَبَعَثَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْقِلٍ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ، فَقَالَ لَهُ: اسْتَعِنْ بِهَا فِي شَهْرِكَ هَذَا، فَرَدَّهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَعْقِلٍ وَقَالَ: "لَمْ نَقْرَأْ الْقُرْآنَ لِهَذَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبید بن الحسن سے مروی ہے کہ مصعب بن زبیر نے رمضان شروع ہوتے وقت کچھ مال کوفہ کے قراء میں تقسیم کیا، اور عبدالرحمٰن بن معقل کے پاس دو ہزار درہم بھیجے اور کہا کہ اس ماہ مبارک میں اس مال سے مدد لیجئے، لیکن عبدالرحمٰن بن معقل نے وہ درہم واپس کر دیئے اور کہا: ہم قرآن اس کے لئے نہیں پڑھتے۔
حدیث نمبر: 594
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَيْه رضْوَانُ اللَّهِ تَعَالَى، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "مَنْ أَرْبَابُ الْعِلْمِ ؟"، قَالَ: "الَّذِينَ يَعْمَلُونَ بِمَا يَعْلَمُونَ، قَالَ: فَمَا يَنْفِي الْعِلْمَ مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ ؟، قَالَ: الطَّمَعُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا کہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالله بن سلام رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: اہل علم کون ہیں؟ عرض کیا: جو علم کے مطابق عمل کریں، پوچھا: لوگوں کے دلوں سے کون سی چیز علم کو دور کر دیتی ہے؟ فرمایا: لالچ۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 591 سے 594)
اس قول سے معلوم ہوا کہ عمل کے ذریعہ اور لالچ سے دور رہتے ہوئے علم محفوظ رہ سکتا ہے۔
اس قول سے معلوم ہوا کہ عمل کے ذریعہ اور لالچ سے دور رہتے ہوئے علم محفوظ رہ سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 595
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "مَا أَوَى شَيْءٌ إِلَى شَيْءٍ أَزْيَنَ مِنْ حِلْمٍ إِلَى عِلْمٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
زید سے مروی ہے کوئی چیز کسی چیز سے زیادہ اچھی نہیں جتنا کہ حلم سے لے کر علم تک ہے۔
حدیث نمبر: 596
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "زَيْنُ الْعِلْمِ حِلْمُ أَهْلِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عاصم الأحول سے مروی ہے: عامر شعبی نے فرمایا: علم کی زینت اہل علم کی برد باری ہے۔
حدیث نمبر: 597
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: "مَا حُمِلَ الْعِلْمُ فِي مِثْلِ جِرَابِ حِلْمٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سلمہ بن وہرام سے مروی ہے امام طاؤوس رحمہ اللہ نے کہا: برد باری کی تھیلی کی طرح کسی چیز میں علم نہیں اٹھایا گیا۔
حدیث نمبر: 598
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "زَيْنُ الْعِلْمِ حِلْمُ أَهْلِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابن شبرمہ سے مروی ہے: شعبی نے کہا: علم کی زینت اہل علم کی برد باری ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 594 سے 598)
اس کا مطلب یہ ہے کہ علم پر عمل کرتے ہوئے حلم و بردباری اختیار کرنا علم کو آرائش و زینت عطا کرتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ علم پر عمل کرتے ہوئے حلم و بردباری اختیار کرنا علم کو آرائش و زینت عطا کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 599
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: "إِنَّ الْحِكْمَةَ تَسْكُنُ الْقَلْبَ الْوَادِعَ السَّاكِنَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
یعلی بن مقسم سے مروی ہے: وہب بن منبہ نے فرمایا: حكمت حلیم و بردبار اور مطمئن دل میں رہتی ہے۔
حدیث نمبر: 600
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ: قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: "شِنْتُمْ الْعِلْمَ وَأَذْهَبْتُمْ نُورَهُ، وَلَوْ أَدْرَكَنِي وَإِيَّاكُمْ عُمَرُ رِضْوَانُ الله عَلَيْهِ لَأَوْجَعَنَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سفیان کہتے تھے: عبید اللہ (ابن عمر) نے فرمایا: تم نے علم کو دھبہ لگایا اور اس کے نور کو ضائع کر دیا ہے، اگر مجھے اور تم کو سیدنا عمر (رضی اللہ عنہم اجمعین) پا لیتے تو مار لگاتے۔
حدیث نمبر: 601
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أُمَيٍّ الْمُرَادِيِّ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ: "تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ، فَإِذَا عَلِمْتُمُوهُ، فَاكْظِمُوا عَلَيْهِ وَلَا تَشُوبُوهُ بِضَحِكٍ، وَلَا بِلَعِبٍ فَتَمُجَّهُ الْقُلُوبُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
اُمی المرادی سے مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: علم سیکھو، اور جب علم حاصل کر چکو تو اس کی حفاظت کرو، ہنسی مذاق، کھیل کود سے اسے خلط ملط نہ کرو کہ دل اسے نکال پھینکیں۔
حدیث نمبر: 602
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ رَحِمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ، قَالَ: "مَنْ ضَحِكَ ضَحْكَةً مَجَّ مَجَّةً مِنْ الْعِلْمِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
فضیل بن غزوان سے مروی ہے: علی بن حسین رحمہ اللہ نے فرمایا: جو ایک بار ہنسا اس نے علم کی ایک بار کلی کر دی۔ یعنی ہنسنا اور قہقہے لگانا عالم کی شان نہیں۔
حدیث نمبر: 603
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ لِكَعْبٍ: "مَنْ أَرْبَابُ الْعِلْمِ ؟، قَالَ: الَّذِينَ يَعْمَلُونَ بِمَا يَعْلَمُونَ، قَالَ: فَمَا أَخْرَجَ الْعِلْمَ مِنْ قُلُوبِ الْعُلَمَاءِ ؟، قَالَ: الطَّمَعُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سفیان سے مروی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اہل علم کون لوگ ہیں؟ کہا: جو علم کے مطابق عمل کرتے ہیں، فرمایا: اور علماء کے دل سے علم کو کس چیز نے خارج کر دیا؟ جواب دیا: (طمع) لالچ نے۔
حدیث نمبر: 604
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ: كُنْتُ نَازِلًا عَلَى عَمْرِو بْنِ النُّعْمَانِ فَأَتَاهُ رَسُولُ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ حِينَ حَضَرَهُ رَمَضَانُ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ، فَقَالَ: إِنَّ الْأَمِيرَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَقَالَ: إِنَّا لَمْ نَدَعْ قَارِئًا شَرِيفًا إِلَّا وَقَدْ وَصَلَ إِلَيْهِ مِنَّا مَعْرُوفٌ، فَاسْتَعِنْ بِهَذَيْنِ عَلَى نَفَقَةِ شَهْرِكَ هَذَا، فَقَالَ: أَقْرِئْ الْأَمِيرَ السَّلَامَ، وَقُلْ لَهُ: "إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَرَأْنَا الْقُرْآنَ نُرِيدُ بِهِ الدُّنْيَا وَدِرْهَمَهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوایاس نے کہا: میں عمرو بن نعمان کے پاس مقیم تھا کہ مصعب بن زبیر کا قاصد رمضان میں دو ہزار درہم لے کر ان کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا: امیر (محترم) نے آپ کو سلام کہا ہے اور حکم دیا ہے کہ ہم کسی بھی معزز قاری کو بنا کسی تحفہ تحائف کے نہ چھوڑیں اس لئے یہ دو ہزار اس مہینہ کا خرچ قبول فرمایئے۔ عمرو بن نعمان نے کہا: ان امیر محترم کو میرا سلام کہو، اور ان سے کہدو الله کی قسم ہم نے قرآن (کریم) کو دنیا اور دراہم کی چاہت میں نہیں پڑھا ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 598 سے 604)
خلوصِ وللّٰہیت کا یہ بہترین نمونہ ہے اور اپنے علم کو مال و دولت کی طمع سے بچا کر محفوظ رکھا جاسکتا ہے، اسی میں عزت ہے، وقار ہے، اور علم کی سربلندی ہے۔
خلوصِ وللّٰہیت کا یہ بہترین نمونہ ہے اور اپنے علم کو مال و دولت کی طمع سے بچا کر محفوظ رکھا جاسکتا ہے، اسی میں عزت ہے، وقار ہے، اور علم کی سربلندی ہے۔