کتب حدیث ›
سنن دارمي › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر تبلیغ اور سنتوں کی تعلیم کا بیان
حدیث نمبر: 559
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَسَّانَ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً، وَحَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوکبشہ سلولی نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا پیغام لوگوں کو پہنچاؤ گرچہ ایک ہی آیت ہو، اور بنی اسرائیل کے واقعات تم بیان کر سکتے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں، اور جس نے مجھ پر قصداً جھوٹ باندھا، اسے اپنے جہنم کے ٹھکانے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔“
حدیث نمبر: 560
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ أَبُو عِيسَى الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"أَنْ لَا يَغْلِبُونَا عَلَى ثَلَاثٍ: أَنْ نَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ، وَنَنْهَى عَنْ الْمُنْكَرِ، وَنُعَلِّمَ النَّاسَ السُّنَنَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو حکم دیا کہ ”لوگ ہم پر تین چیزوں میں غالب نہ آ جائیں، یہ کہ ہم معروف کا حکم دیں اور منکر سے روکیں اور لوگوں کو سنت کی تعلیم دیں۔“
حدیث نمبر: 561
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: كَانَ أَبُو أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا قَعَدْنَا إِلَيْهِ يَجِيئُنَا مِنْ الْحَدِيثِ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ، وَيَقُولُ: "لَنَا اسْمَعُوا وَاعْقِلُوا، وَبَلِّغُوا عَنَّا مَا تَسْمَعُونَ"، قَالَ سُلَيْمٌ: "بِمَنْزِلَةِ الَّذِي يُشْهِدُ عَلَى مَا عَلِمَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سلیم بن عامر نے بیان کیا کہ جب ہم سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھتے تھے تو وہ ہمیں بہت بڑی چیز کے بارے میں حدیث سناتے اور فرماتے تھے: سنو اور سمجھو! اور جو ہم سے سنو دوسروں تک پہنچا دو۔ سلیم نے کہا: جیسے کہ انہوں نے جو علم حاصل کیا اس پر گواہ بنا رہے ہوں۔
حدیث نمبر: 562
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ جَالِسٌ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى، وَقَدْ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ يَسْتَفْتُونَهُ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَوَقَفَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَلَمْ تُنْهَ عَنْ الْفُتْيَا ؟ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: "أَرَقِيبٌ أَنْتَ عَلَيَّ ؟ لَوْ وَضَعْتُمْ الصَّمْصَامَةَ عَلَى هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى قَفَاهُ، ثُمَّ ظَنَنْتُ أَنِّي أُنْفِذُ كَلِمَةً سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ تُجِيزُوا عَلَيَّ لَأَنْفَذْتُهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوکثیر نے بیان کیا کہ میرے والد نے کہا: میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جب کہ وہ جمرہ وسطی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اور لوگ ان کے پاس جمع ہو کر فتوے پوچھ رہے تھے، ایک شخص آ کر ان کے پاس کھڑے ہوئے اور کہا: کیا تم فتویٰ دینے سے باز نہ آؤ گے؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنی نظریں اوپر اٹھائیں اور کہا: کیا تم میرے اوپر نگراں ہو؟ اگر تم میری گردن پر تلوار بھی رکھ دو اور مجھے ایک کلمہ کہنے کی بھی مہلت محسوس ہو جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو گردن کٹنے سے پہلے میں اس کو ضرور سنا دوں گا۔
حدیث نمبر: 563
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ هُوَ ابْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنْ شَيْءٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْعَالِيَةِ، أَتُرِيدُ أَنْ تَكُونَ مُفْتِيًا ؟، فَقُلْتُ: "لَا، وَلَكِنْ لَا آمَنُ أَنْ تَذْهَبُوا وَنَبْقَى"، فَقَالَ: "صَدَقَ أَبُو الْعَالِيَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوالعالیہ نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے فرمایا: اے ابوالعالیہ! کیا تم مفتی بننا چاہتے ہو؟ میں نے عرض کیا: نہیں، لیکن اس سے مامون بھی نہیں ہوں کہ آپ لوگ رخصت ہو جائیں، اور ہم باقی رہ جائیں، فرمایا: ابوالعالیہ صحیح کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 564
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "كَانَ عَبِيدَةُ يَأْتِي عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كُلَّ خَمِيسٍ، فَيَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ غَابَ عَنْهَا، فَكَانَ عَامَّةُ مَا يُحْفَظُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِمَّا يَسْأَلُهُ عَبِيدَةُ عَنْهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم سے مروی ہے کہ عبیدہ (بن عمر السلمانی) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ہر جمعرات کو حاضر ہوا کرتے تھے اور جو بات سمجھ میں نہ آتی اس کے بارے میں پوچھا کرتے تھے، اس لئے عمومی طور پر ابراہیم کے پاس سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جو کچھ تھا وہ وہی مسائل تھے جو عبیدہ ان سے پوچھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 565
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا غَسَّانُ هُوَ ابْنُ مُضَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، يَقُولُ: "مَا لَكُمْ لَا تَسْأَلُونِي، أَفْلَسْتُمْ ؟".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید بن یزید نے کہا: میں نے عکرمہ سے سنا، وہ کہتے تھے: کیا بات ہے تم مجھ سے سوال نہیں کرتے ہو؟ کیا تم تھک گئے ہو؟ (اُکتا گئے ہو)۔
حدیث نمبر: 566
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: "الْعِلْمُ خَزَائِنُ، وَتَفْتَحُهَا الْمَسْأَلَةُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
یونس بن یزید سے مروی ہے ابن شہاب زہری نے فرمایا: علم خزانے ہیں اور یہ پوچھنے سے کھلتے ہیں۔
حدیث نمبر: 567
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ: "مَنْ رَقَّ وَجْهُهُ، رَقَّ عِلْمُهُ" . .
محمد الیاس بن عبدالقادر
جریر (بن عبدالحمید) سے مروی ہے: امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے کہا: جس نے شرم و حیا کی اس کا علم رقیق ہوا۔
حدیث نمبر: 568
أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "مَنْ رَقَّ وَجْهُهُ، رَقَّ عِلْمُهُ". .
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: جس نے شرم و حیا کی اس کا علم رقیق ہوا۔
حدیث نمبر: 569
وَعَنْ ضَمْرَةَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: "مَنْ رَقَّ وَجْهُهُ، رَقَّ عِلْمُهُ"..
محمد الیاس بن عبدالقادر
حفص بن عمر سے مروی ہے سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس نے حیا کی اس کا علم رقیق ہوا (کمزور ہوا)۔
حدیث نمبر: 570
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: "لَا يَتَعَلَّمُ مَنْ اسْتَحْيَا وَاسْتَكْبَرَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مجاہد رحمہ اللہ نے کہا: جو شرم اور تکبر کرے، علم حاصل نہیں کر سکتا۔
حدیث نمبر: 571
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَجْمَعُ بَنِيهِ، فَيَقُولُ: "يَا بَنِيَّ، تَعَلَّمُوا، فَإِنْ تَكُونُوا صِغَارَ قَوْمٍ، فَعَسَى أَنْ تَكُونُوا كِبَارَ آخَرِينَ، وَمَا أَقْبَحَ عَلَى شَيْخٍ يُسْأَلُ لَيْسَ عِنْدَهُ عِلْمٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ہشام بن عروہ نے کہا: ان کے والد اپنے بیٹوں کو جمع کر کے فرماتے تھے: بیٹو! علم حاصل کرو، اگر جماعت میں تم سب سے چھوٹے ہو تو آخر میں تم ہی کبھی دوسروں کے بڑے ہو گے، اور کتنا قبیح ہے وہ شیخ جس سے سوال کیا جائے اور اس کے پاس علم نہ ہو۔
حدیث نمبر: 572
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ "يَضَعُ فِي رِجْلَيَّ الْكَبْلَ، وَيُعَلِّمُنِي الْقُرْآنَ وَالسُّنَنَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عکرمہ (مولی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما میرے پیر میں بیڑی لگا دیتے اور مجھے قرآن و سنت کی تعلیم دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 573
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ: "مَنْ تَرَأَّسَ سَرِيعًا، أَضَرَّ بِكَثِيرٍ مِنْ الْعِلْمِ، وَمَنْ لَمْ يَتَرَأَّسْ، طَلَبَ وَطَلَبَ حَتَّى يَبْلُغَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
یحییٰ بن ضریس نے بیان کیا، میں نے سفیان کو سنا، فرماتے تھے: جو جلدی رئیس ہو گیا وہ بہت سے علم سے محروم رہ گیا، اور جو رئیس نہ ہوا تو وہ علم کی طلب میں رہا یہاں تک کہ بلند مقام کو پہنچا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 558 سے 573)
غالباً اس سے مراد یہ ہے کہ تھوڑا علم حاصل کر کے جو شخص مسندِ درس لگائے وہ بہت سا علم حاصل کرنے سے محروم ہو جائے گا، اس لیے پہلے خوب علم حاصل کرنا چاہیے اور پھر مسندِ درس پر بیٹھے۔
واللہ اعلم
غالباً اس سے مراد یہ ہے کہ تھوڑا علم حاصل کر کے جو شخص مسندِ درس لگائے وہ بہت سا علم حاصل کرنے سے محروم ہو جائے گا، اس لیے پہلے خوب علم حاصل کرنا چاہیے اور پھر مسندِ درس پر بیٹھے۔
واللہ اعلم
حدیث نمبر: 574
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "عِلْمٌ لَا يُقَالُ بِهِ , كَكَنْزٍ لَا يُنْفَقُ مِنْهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حصین بن عقبہ سے مروی ہے، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس علم کو پھیلایا نہ جائے وہ اس خزانے کی طرح ہے جسے خرچ نہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 575
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَثَلُ عِلْمٍ لَا يُنْتَفَعُ بِهِ، كَمَثَلِ كَنْزٍ لَا يُنْفَقُ مِنْهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس علم کی مثال جس سے فائدہ نہ اٹھایا جائے ایسے خزانے کی ہے جس سے اللہ کے راستے میں خرچ نہ کیا جائے۔“
حدیث نمبر: 576
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَاق، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ عَمِّهِ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كَتَبَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "إِنَّ الْعِلْمَ كَالْيَنَابِيعِ يَغْشَاهُنَّ النَّاسُ، فَيَخْتَلِجُهُ هَذَا وَهَذَا، فَيَنْفَعُ اللَّهُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ، وَإِنَّ حِكْمَةً لَا يُتَكَلَّمُ بِهَا كَجَسَدٍ لَا رُوحَ فِيهِ، وَإِنَّ عِلْمًا لَا يُخْرَجُ كَكَنْزٍ لَا يُنْفَقُ مِنْهُ، وَإِنَّمَا مَثَلُ الْعَالِمِ كَمَثَلِ رَجُلٍ حَمَلَ سِرَاجًا فِي طَرِيقٍ مُظْلِمٍ يَسْتَضِيءُ بِهِ مَنْ مَرَّ بِهِ، وَكُلٌّ يَدْعُو لَهُ بِالْخَيْرِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
محمد بن اسحاق نے اپنے چچا موسیٰ بن یسار سے بیان کیا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو لکھا: علم چشموں کی طرح ہے جس پر لوگ وارد ہوتے ہیں، اور وہ سب اس کو کھنگالتے ہیں، اور کئی آدمی اس سے مستفید ہوتے ہیں، اور وہ حدیث حکمت جس کی تبلیغ نہ کی جائے اس جسم کے مانند ہے جس میں روح نہ ہو، اور وہ علم جو پھیلایا نہ جائے اس خزانے کے مانند ہے جس سے خرچ نہ کیا جائے، عالم کی مثال اس آدمی کی سی ہے جس نے اندھیرے راستے میں چراغ رکھ دیا، جس سے ہر گزرنے والے کو روشنی ملتی ہے، اور ہر آدمی اس کے لئے دعائے خیر کرتا ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 573 سے 576)
«اختلج يختلج» کسی چیز کو کھینچ کر نکالنا۔
«اختلج يختلج» کسی چیز کو کھینچ کر نکالنا۔
حدیث نمبر: 577
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "يَتْبَعُ الرَّجُلَ بَعْدَ مَوْتِهِ ثَلَاثُ خِلَالٍ: صَدَقَةٌ تَجْرِي بَعْدَهُ، وَصَلَاةُ وَلَدِهِ عَلَيْهِ، وَعِلْمٌ أَفْشَاهُ يُعْمَلُ بِهِ بَعْدَهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم نے فرمایا: آدمی اپنی موت کے بعد تین چیزیں چھوڑ جاتا ہے، صدقہ جاریہ، اولاد کی اس کے لئے دعا اور علم جس کو پھیلایا اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے۔
حدیث نمبر: 578
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ صَدَقَةٍ تَجْرِي لَهُ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے، وہ علم جس سے انتفاع کیا جائے، یا وہ صدقہ جو اس کے لئے جاری رہے، یا وہ صالح اولاد جو اس کے لئے دعا کرتی رہے۔“
حدیث نمبر: 579
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ الْمُزَنِيِّ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ حِينَ قَدِمَ الْبَصْرَةَ: "بَعَثَنِي إِلَيْكُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُعَلِّمُكُمْ كِتَابَ رَبِّكُمْ، وَسُنَّتَكُمْ، وَأُنَظِّفُ طُرُقَكُمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن سے مروی ہے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ جب بصرہ تشریف لائے تو فرمایا: سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے کہ تم کو تمہارے رب کی کتاب اور تمہاری سنت کی تعلیم دوں، اور تمہارے راستے کو صاف کر دوں۔
حدیث نمبر: 580
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ، عَنْ سَخْبَرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ، كَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سخبرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے علم کو طلب کیا تو جو کچھ گزر گیا اس کے لئے کفارہ ہے۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 576 سے 580)
ان تمام احادیث و آثار میں علم حاصل کرنے، علم کو پھیلانے اور عام کرنے کی ترغیب ہے، جو الباقيات الصالحات میں سے ہے۔
ان تمام احادیث و آثار میں علم حاصل کرنے، علم کو پھیلانے اور عام کرنے کی ترغیب ہے، جو الباقيات الصالحات میں سے ہے۔